انھیں کیا سنائیں

روسی بچوں کے لیے لکھی جانے والی اس الف لیلہ نے مجھے کرشن چندر کی لکھی ہوئی ’’چڑیوں کی الف لیلہ‘‘ یاد دلادی


Zahida Hina November 19, 2013
[email protected]

ISLAMABAD: اپنی کتابوں کے انبار کو الٹتے پلٹے ہوئے ان میں سے چند ایسی کتابیں نکل آئیں جو 60 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں دلی سے شایع ہوئی تھیں اور جنھیں تلاش بسیار کے بعد چند برس پہلے میں وہاں سے لے کر آئی تھی۔ کہنے کو یہ بچوں کے لیے لکھی ہوئی کہانیاں تھیں لیکن ان کا اختصاص یہ تھا کہ بچوں کے لیے لکھی جانے والی ان روسی کہانیوں کا ترجمہ قرۃ العین حیدر نے کیا تھا۔ ''آگ کا دریا'' تحریر کرنے والی صف اول کی ادیبہ کے لیے یہ وہ دن تھے جب وہ پاکستانی شہریت ترک کرکے ہندوستان چلی گئی تھیں اور معاشی مسائل میں گھری ہوئی تھیں۔ ایسے میں مکتبۂ پیام تعلیم نے ان سے بچوں کی کئی کہانیاں ترجمہ کروائی تھیں۔ یہ وہ مکتبہ تعلیم ہے جو 1926 سے بچوں کے لیے ماہنامہ پیام تعلیم شایع کررہا تھا۔ ''میان ڈھینچو کے بچے' بہادر ، ہرن کے بچے'' ۔ اس کے علاوہ روسی زبان میں بچوں کے لیے جو الف لیلہ لکھی گئی وہ بچوں میں بہت مقبول تھی۔ انھوں نے اس کا بھی ترجمہ کیا تھا۔

یہ الف لیلہ کچھ یوں شروع ہوتی ہے کہ ایک لڑکا وولکا ندی میں تیراکی کررہا ہے کہ مٹی کی ایک صراحی اس کے ہاتھ لگتی ہے جو دیکھنے میں خوبصورت ہے اور یونانی وضع کی ہے۔ اس پر کائی اور چکنائی جمی ہوئی ہے اور اس کا منہ ایک مہر سے بند ہے۔ وولکا اس خزانے کے ہاتھ آنے پر بے حد خوش ہے اور اسے چھپا کر گھر لے آتا ہے۔ اپنے کمرے میں پہنچ کر جب وہ چاقو کی مدد سے صراحی کی مہر توڑتا ہے توکمرہ سیاہ دھویں سے بھر جاتا ہے۔ وولکا کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ یہ اتنا بہت سا دھواں اس صراحی سے کیسے نکلا ہے۔ اتنے میں اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ کمرے میں اکیلا نہیں ہے، ایک دبلے پتلے، سانولے بڑے میاں جن کی لمبی داڑھی پیٹ تک لہرا رہی تھی، خوبصورت پگڑی باندھے، اون کا سفید کار چوبی چوغا پہنے، چمکیلی اطلس کی شلوار اور تلے کے کام کی جوتیاں پیر میں ڈالے وولکا کے سامنے موجود تھے۔

وولکا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ''میں ایک زبردست طاقت ہوں جسے فتح نہیں کیا جاسکتا تھا۔ دنیا میں کوئی ایسا جادو نہیں جو مجھے نہ آتا ہو۔ میرا نام حسن عبدالرحمن بن حطاب ہے جسے تم روسی لوگ حسن عبدالرحمن حطابچ کہہ سکتے ہو۔ کسی عفریت یا جن کے سامنے میرا نام لو، ڈر کے مارے اس کی گھگھی بندھ جائے گی...'' بڑے میاں نے غرور سے اپنی بات جاری رکھی۔'' میری کہانی بے حد عجیب ہے۔ اگر اسے سوئیوں کی نوک کے ذریعے آنکھوں کے گوشوں میں لکھا جاتا تو علم کے پیاسوں کے لیے عبرت کا سامان ہوتا۔

میں ایک ایسا بدقسمت جن ہوں جس نے حضرت سلیمان علیہ السلام ابن حضرت داؤد علیہ السلام کا حکم نہ مانا۔ میں اور میرے بھائی عمر آصف بن حطاب ہم دونوں نے حضرت سلیمان کے حکم سے سرتابی کی۔ بس ایک روز حضرت سلیمان نے اپنے وزیر آصف برخیا کو بھیج کر ہماری مرضی کے خلاف ہمیں پکڑ بلوایا، پھر دو بوتلیں منگوائیں ان میں سے ایک بوتل تانبے کی تھی اور دوسری مٹی کی۔ مجھے انھوں نے مٹی کی بوتل میں بند کیا اور میرے بھائی کو تانبے کی بوتل میں۔ پھر بادشاہ سلیمان نے ان بوتلوں کو بند کرکے ان پر اسم اعظم کی مہر لگادی اور اپنے جنات کو حکم دیا کہ میرے بھائی کو سمندر میں اور مجھے دریا میں پھینک آئیں۔''

ہزاروں برس سے مٹی کی صراحی میں بند حسن عبدالرحمان حطابچ اپنا قصہ سناتے ہیں اور پھر وولکا کے ایسے دوست بن جاتے ہیں جو ہر لمحہ اس کے ساتھ رہتا ہے اور جدید دنیا کی زندگی کو ہزاروں برس پرانی عینک سے دیکھتا ہے اور وولکا جسے وہ ''میرے آقا'' کہہ کر مخاطب کرتا ہے، اس کی زندگی میں کتنی مشکلیں اور آسانیاں پیدا کرتا ہے، وہ بہت دلچسپ ہیں اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ قرۃ العین حیدر نے بچوں کے لیے یہ کہانیاں نہات رواں، لوچ دار اور میٹھی زبان میں ترجمہ کی ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ انھیں پڑھ جائیے، وہ ہر گز ترجمہ محسوس نہیں ہوتیں۔

روسی بچوں کے لیے لکھی جانے والی اس الف لیلہ نے مجھے کرشن چندر کی لکھی ہوئی ''چڑیوں کی الف لیلہ'' یاد دلادی۔ کہنے کو یہ بچوں کے لیے لکھی گئی ہے لیکن اس میںنسلی امتیاز کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ یہ کہانی جب لکھی گئی اس زمانے میں جنوبی افریقا کی سفید فام نسل پرست حکومت نے وہاں کے سیاہ فام باشندوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رکھے تھے۔ بچوں کو نسل پرستی کے بارے میں بتانے کے لیے کرشن چندر جنگل میں رہنے والی سفید اور سیاہ فام چڑیوں کی کہانی کے روپ میں بچوں کو یہ بتاتے ہیں کہ رنگ اور نسل کی بنا پر تفریق کرنے سے زیادہ غیر انسانی رویہ نہیں ہوسکتا۔ اس الف لیلہ کے آخری صفحوں میں ایک سیاہ چڑیا ٹھونگ مار کر ایک ظالم اژدھے کی آنکھیں نکال لیتی ہے اور یوں جنگل کے جانوروں اور سفید چڑیوں کے قبیلے کو اژدھے کے ظلم و ستم سے نجات دلاتی ہے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب اردو کے بیشتر ادیب کچھ وقت نکال کر بچوں کے لیے لکھتے تھے اور علم و حکمت کے جواہر کہانیوں کے رنگ میں ان تک پہنچاتے تھے۔ کرشن چندر کے ناول ''خرگوش کا سپنا'' ''الٹا درخت'' عصمت چغتائی کا ناول ''تین اناڑی'' اور ایسے متعدد ناول اور کہانیاں بات ہی بات میں بچوں کو بہت کچھ سکھاتی تھیں۔ پھر ایسا ہوا کہ بچوں کے لیے خوفناک، پراسرار اور خونیں ناول لکھنے والے آگئے اور وہ بچوں کو نفرت، تعصب اور خوں آشامی کی تعلیم دینے لگے۔ اس میں ذمے داری ہم ادیبوں کی ہے میں بھی جس میں شامل ہوں کہ انھوں نے اپنے بچوں کے لیے کچھ وقت نہیں نکالا اور ان کے لیے دل موہ لینے والا اچھا ادب تخلیق نہیںکیا۔

آج ہمارے ارد گرد جو خوں آشامی پھیلی ہوئی ہے اور نفرت و تعصب کی جو آندھی چل رہی ہے اس کا ایک بہت بڑا سبب یہ ہے کہ ہمارے بچے معیاری ادب سے محروم رکھے گئے۔ ایسے میں یہ خیال آتا ہے کہ ہم کیسے خوش نصیب اور کتنے بدنصیب ہیں۔ خوش نصیب اس حوالے سے کہ نہ ہمارے پاس قدرتی وسائل کی کمی ہے اور نہ افرادی قوت کی۔ ہم جاپان کی طرح نہیں جہاں بوڑھوں کی آبادی اس تیزی سے بڑھ رہی ہے جو آنے والے برسوں میں ان کے لیے مسئلہ بن سکتی ہے۔ ہم دنیا کے ان ملکوں میں بہت نمایاں حیثیت رکھتے ہیں جہاں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد افرادی قوت کا ایک بڑا حصہ ہے۔ اس وقت ہماری 63 فیصد آبادی 25 برس کی عمر سے کم جب کہ 35 فیصد آبادی 19 برس سے کم عمر لوگوں پر مشتمل ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ وہ نوجوان خون ہے جس کی تعلیم و تربیت پر اگر مناسب توجہ دی جائے اور اسے ہنر مند بنانے کی منصوبہ بندی کی جائے تو جوش اور ولولے سے بھرے ہوئے یہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ملک کا مقدر بدل سکتے ہیں۔ ہم اپنی اس نوجوان نسل کی رہنمائی کرنے کے بجائے، اس سے اس قدر غیر متعلق ہیں کہ ہم نے کبھی ان کے بارے میں اپنے قومی اور بین الاقوامی فرائض کی طرف توجہ ہی نہیں دی۔ ہم نے 1990ء میں بچوں کے حقوق سے متعلق کونونشن پر دستخط کیے تھے جس میں بچوں کے تمام حقوق کا احاطہ کیا گیا تھا۔

ہم ان حقوق کی پاسداری تو کیا کرتے، ان کے حقوق کی اس حد تک پامالی کی کہ اس وقت ہمارا شمار ایشیا کے ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات بہت بلند ہے۔ ہمارے 40 فیصد بچوں کو ناکافی اور ناقص غذا میسر آتی ہے۔ ہمارے صرف 56 فیصد بچے پرائمری اسکول جاتے ہیں۔ غربت نے تقریباً ایک کروڑ بچوں کو مزدوری اور محنت مشقت پر مجبور کردیا ہے۔ جب کہ ڈھائی لاکھ بچے ''آوارہ گرد'' کہلاتے ہیں اور فٹ پاتھ ان کا ٹھکانہ ہیں۔ پیدا ہونے والے 1000 بچوں میں سے 85 بچے سال بھر کی عمر سے پہلے موت کا نوالہ بن جاتے ہیں۔ نمونیا جو غریب بچوں کے لیے موت کا پیغام ہے، اس کی سفاکی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ دنیا میں ہر 30 سیکنڈ کے دوران کوئی بچوں اس بیماری کی وجہ سے ہلاک ہوجاتا ہے۔ ہمارے یہاں ہر سال 70 لاکھ بچے اس مہلک بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں جن میں سے سالانہ 92,000 بچے ماں کی آغوش سے محروم ہوکر لحد میں جاسوتے ہیں۔

ہمارے بچے جس غربت سے دوچار ہیں، طرح طرح کی بیماریاں جس طور انھیں اپنا نوالہ بناتی ہیں، وہ اگر دہشت گردوں کے ہاتھ لگ جائیں اور مذہب اور مسلک کی بنیاد پر خود کش بمبار بننے کو جنت کا پروانہ خیال کریں تو ہم ان سے شکایت کا کوئی حق نہیں رکھتے۔ وہ بچے جو پیٹ بھر کر کھانے سے، تن چھپانے کے لیے مناسب کپڑوں سے محروم ہیں۔ جن میں سے ہزار ہا ''آوارہ گرد'' کہے جاتے ہیں گھر کی چھت اورخاندان کی شفقت جنھیں میسر نہیں۔ جن کا ٹھکانہ بڑے شہروں کے فٹ پاتھ ہیں، انھیں ہم کون سی کہانیاں سنائیں۔ ہم نے تو ان سے سرا سر غداری کی ہے۔ کیا ہم انھیں اپنی غداری کا قصہ سنائیں؟

مقبول خبریں