سگا بیٹا جو سوتیلا ہے
دنیا میں کتنی تبدیلیاں آئیں، انقلابات برپا ہوئے، تحریکیں چلیں، نظریات بنے بگڑے مذاہب آئے اور مٹ گئے
FAISALABAD:
اصولی طور پر اور کاغذات ارضی و سماوی میں اور اندراجات حال و مال کی رو سے تو یہ بے چارا زمین کا سگا بیٹا ہے بلکہ ایک وقت میں اس بے چارے کو ''زمین زادہ'' ہونے کا طعنہ بھی ایک بخت نے دیا تھا اور اس کے آگے سر جھکانے سے انکار کرتے ہوئے خود کو آگ کا برتر فرزند کہا تھا، وہ اس میں بھی خوش تھا، خاک میں رہ کر خاک سے رزق پیدا کر کے زندہ رہنے اور پھر مر کر پیوند خاک ہونے پر صابر و شاکر تھا
وہ دشمنی سے دیکھتے ہیں، دیکھتے تو ہیں
میں شاد ہوں کہ ہوں تو کسی کی نگاہ میں
حالانکہ آگ والے کی ذریت طرح طرح کے آتشیں ہتھیاروں سے ڈرا کر اس کا بہت کچھ چھین لیتی تھی اور اس کے پاس بمشکل اتنا چھوڑ جاتے تھے کہ اس میں زندہ تو رہے لیکن زندہ دل کبھی نہ بننے پائے وہ اس میں بھی خوش تھا اور پوری محنت سے زمین کا سینہ چیر کر اس سے روزی نکالتا رہا اور پچاسی فیصد آتشیں نکھٹوؤں کو بھی کھلاتا رہا کہ اس کے خاکی جد امجد نے جنت سے دربدر ہونے کے بعد اس جنت گم گشتہ کو دوبارہ پانے کا یہی راستہ بتایا تھا لیکن آتشی جد کے آتش بدست آتشیوں نے اسے اس میں بھی نہیں چھوڑا، پچاسی فیصد تو وہ پہلے سے ہڑپ رہے تھے لیکن اب باقی پندرہ فیصد کا نان شبینہ بھی اس سے چھیننا چاہتے تھے
آخر اسے اس مقام پر پہنچا دیا جہاں
نہ تڑپنے کی اجازت ہے نہ فریاد کی ہے
گھٹ کے مر جاؤں یہ مرضی مرے صیاد کی ہے
پہلے تو اس کی زمین پر قبضہ کیا پھر اس کے آلات پر اجارہ داری قائم کی پھر اس کی ضروریات کو اپنے قبضے میں لے لیا لیکن اس کا تن بدن، خون پسینہ اور محنت مشقت تو وہ اس سے نہیں چھین سکتے تھے وہ پھر بھی زندہ رہا تو اسے مکمل طور پر محاصرے میں لے لیا، آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ کوئی قصہ نہیں ہے بلکہ اس بدنصیب، بدبخت اور مفلوک الحال کا شکار اور زمین زادے کا تذکرہ ہے جو معاشرے کی سو فیصد ضروریات پوری کرتا ہے لیکن پندرہ فیصد نکھٹو اس کی محنت کا پچاسی فیصد ہڑپ کر جاتا ہے کچھ بھی کیے بغیر ذرا بھی ہاتھ پیر ہلائے بغیر ۔۔۔ صرف چرب زبانی اور ہتھیار کے زور پر ۔۔۔ جو زبردستی اس کے محافظ بن بیٹھے ہیں
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
خاص طور پر اس ملک میں جس کا نام مملکت خداداد پاکستان ہے اور نام کی حد تک زرعی ملک کہلاتا ہے اس میں تو اس زمین زادے کی حالت اتنی ناگفتہ بہ ہے کہ اسے انسان کہنا بھی مشکل ہے بلکہ وہ پندرہ فیصد اسے انسان سمجھتے ہی کہاں ہیں کہ نہ اس کی زندگی انسانوں کی ہے نہ خوراک نہ رہائش نہ اوڑھنا نہ بچھونا، اس کی حالت اس بیل سے بھی بدتر ہے جو اس کا شریک کار ہے کیوں کہ اسے بھی یہ کم از کم کھلاتا پلاتا تو خوب ہے تا کہ طاقت ور رہے اور کام کرتا رہے لیکن خود اس کو جانور کی طرح استعمال کرنے والے اتنے ظالم ہیں کہ اس کی آکسیجن کی نلی پر بھی پاؤں رکھے ہوئے ہیں اور جو اس کے جسم سے خون نکالنے والی نلی ہے اسے مکمل طور پر کھولے ہوئے ہیں کہ کہیں اس کے تن بدن میں خون کا کوئی قطرہ رہ نہ جائے اور اس کے کام نہ آ جائے
بساط عجز میں تھا ایک دل، یک قطرہ خون وہ بھی
سو رہتا ہے بانداز چکیدن سرنگوں وہ بھی
دنیا میں کتنی تبدیلیاں آئیں، انقلابات برپا ہوئے، تحریکیں چلیں، نظریات بنے بگڑے مذاہب آئے اور مٹ گئے ۔۔۔ انسانیت کے طرح طرح کے فلسفے وضع ہوئے، انصاف عدل اور انسانی حقوق کے لیے طرح طرح کے قوانین بنائے گئے گونا گوں اقسام کی طرز حکومت ایجاد ہوئی ۔۔۔ بڑی حد تک انسان کو آزادی ملی اور حقوق دیے گئے لیکن ان سب کے نیچے یہ زمین کا بیٹا پہلے سے بھی زیادہ، غلام پہلے سے بھی زیادہ بے بس، پہلے سے بھی زیادہ تہی دست اور مفلوک الحال ہے، انسانیت نے جو ترقیاں کیں وہ اس کے سر کے اوپر اس سطح سے اوپر ہی اوپر رہتی ہیں جو اس کے لیے آؤٹ آف باؤنڈ ہے
ہے چشم تر میں حسرت اظہار سے نہاں
شوق عناں گسیختہ دریا کہیں جسے
دنیا کے تمام طبقات میں یہ واحد فرد ہے جسے کسی بھی چیز پر اختیار حاصل نہیں ہے ایک مزدور کو بھی اپنی مزدوری بڑھانے کا اختیار حاصل ہے ایک حجام کو بھی اپنی اجرت بڑھانے کا حق ہے حتیٰ کہ ایک بھکاری کو بھی بازار کے حساب سے زیادہ بھیک مانگنے کا حق ہے ۔۔۔ صرف یہی ایک بدنصیب ہے جو خریدتا بھی دوسرے کی مرضی سے ہے اور بیچتا بھی دوسرے کی مرضی سے ہے اسے اگر ہزاروں سال پیچھے لے جا کر اس زمانے میں چھوڑا جائے جہاں چیز کے بدلے چیز ملتی تھی یہ اپنا ایک خاص مقدار کا اناج دے کر موچی سے جوتے، جولاہے سے لباس، لوہار سے اوزار اور کمہار سے برتن خرید سکتا تھا لیکن آج اس کے لیے ایسا ممکن نہیں ہے دوسروں سے جو چیز خریدتا ہے اس کا نرخ بیچنے والے طے کرتا ہے ٹریکٹر، ڈیزل، بجلی، سب کچھ اس کے اختیار سے باہر ہیں، ٹھیک ہے دوسرے ہنر مند اور پیشہ ور بھی ان چیزوں کے نرخوں پر اختیار نہیں رکھتے لیکن خود اپنی خدمات کا نرخ تو مقرر کر سکتے ہیں بجلی مہنگی ہے تو وہ سبزی والا جو اسی کی پیدا کردہ سبزی بیچتا ہے سبزی کے نرخ بڑھتا دیتا ہے، لوہار ترکھان، موچی، جولاہا حتیٰ کہ مزدور بھی، بس والے بھی، رکشے والے بھی، آٹا پیسنے کی مشین والے، ٹریکٹر والے، بس والے، ٹرک والے یہاں تک کہ پٹواری اور بیج اور کھاد کا دکاندار سب کے سب اپنے نرخ بڑھانے کے لیے مہنگائی کا جواز پیش کر سکتے ہیں، لیکن صرف یہی بدبخت ایک ایسا فرد ہے کہ اپنے کھیت اور خون پسینے کی پیداوار کا نرخ نہیں بڑھا سکتا اس کا فیصلہ بھی خریدار کرتا ہے کہ اتنے میں بیجو ورنہ لے جا کر سڑا دو ۔۔۔ وہ جانتا ہے کہ میں نے یا میرے بھائی بند دوسروں نے اسے اس قابل چھوڑا ہی کہاں ہے کہ اپنی چیز واپس لے جا سکے واپس لے جانا چاہے بھی تو لے جانے والے پٹرولیم کی مہنگائی سے اس کی گردن دوبارہ مارنے کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں ایک طرف کنواں دوسری طرف کھائی ۔۔۔ چنانچہ خود کو بلکہ اپنے خون پسینے کو اپنے بال بچوں کو اپنی آرزؤں کو تمناؤں کو دوسرے کی جھولی میں ڈال دیتا ہے کہ
سپردم بتو مایۂ خویش را
تو دانی حساب کم و بیش را
ہمارے ساتھ بار ہا ایسا ہوتا رہا ہے کہ اپنی فصل تو بیج دیتے ہیں جس کی جو مرضی ہوتی ہے اس میں خرید لیتا ہے لیکن چند روز بعد ہمیں خود کسی دوست یار کو اپنے کے لیے اس چیز کی ضرورت پڑتی ہے، مثال کے طور پر گُڑ لے لیجیے نرخ پوچھتے ہیں تو دگنے سے بھی زیادہ، یہی گُڑ یہی آلو یہی ٹماٹر یہی آڑو خوبانیاں ہم دس روپے کے بیچ چکے ہوتے ہیں لیکن اب سو روپے میں ملیں گے پورے نوے روپے درمیان کے لوگوں نے بڑھائے ہوتے ہیں، آپ سوال کر سکتے ہیں کہ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں تو اگر آپ کسان ہیں تو آپ کو خود پتہ ہونا چاہیے کہ فصل کے تیار ہوتے ہی وہ سارے قرض خواہ دروازے پر کھڑے ہو جاتے ہیں جن سے ہم نے اپنی زرعی ضروریات ان ہی کے مقرر کردہ نرخوں پر خریدی ہوتی ہیں۔
اگر یہ نہیں تو اگلی فصل کے لیے تو انتظامات کرنا ہوتے ہیں اس لیے ہم اپنی وہ فصل بھی اپنے پاس نہیں رکھ سکتے جو خراب نہیں ہوتی جیسے اناج، گُڑ اور آلو وغیرہ ۔۔۔ اور بیچیں گے تو ہمیں زرعی ضروریات کی چیزیں اپنی مرضی کے نرخوں پر دینے والے کا دوسرا بھائی اپنے نرخ لیے ہوئے کھڑا ہوتا ہے وہ ہم سے اپنی مرضی کے داموں پر خرید لیتا ہے اور گوداموں میں ڈال دیتا ہے جسے ہی کسان اور کاشت کار کی فصلیں ہاتھ سے نکل کر وہاں پہنچ جاتی ہیں اس کی مرضی کے نرخ لاگو ہو جاتے ہیں، کوئی کہہ سکتا ہے کہ کسان خود ہی اپنی فصل کو چند روز اپنے پاس کیوں نہیں روک لیتا، تو ایسا چند لوگ کر پاتے ہیں لیکن آڑھتی کے راستے اور مڈل مین کے آگے سے ان کو بھی گزرنا پڑتا ہے، یہ کرایہ، یہ آڑھت، یہ ٹیکس، یہ منشیانہ یہ مزدوری یہ بار دانہ اور یہ سرمائے کا چندانہ ۔۔۔ سب کچھ نکال کر اس کے ہاتھ میں صرف وہی آتا ہے جو حکومت اور اس نظام نے اس کے ہاتھوں کی لکیروں میں پکا پکا لکھا ہوا ہے
جاں فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آ گیا
سب لکیریں ہاتھ کی گویا رگ جاں ہو گئیں