آرمی چیف کا عہدہ خالی ہوا نہ نئی تقرری خدشات بے بنیاد ہیں سپریم کورٹ

تقرری کے بعد معاملہ چیلنج ہوتوغورممکن ہے،جسٹس کھوسہ،نوازشریف کو آرمی چیف لگانے سے روکنے کی پٹیشن خارج


Numainda Express November 20, 2013
نوازشریف کو آرمی چیف لگانے سے روکنے کی پٹیشن خارج۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: سپریم کورٹ نے چیف آف آرمی اسٹاف کی تقرری کے بارے میں دائردرخواست پر کہا ہے کہ جب عہدہ خالی نہیں ہوا اورکسی کی تقرری نہیں ہوئی تواس بارے میںخدشات قبل ازوقت ہیں۔

کسی عہدے پر تقرری کے بعد اگرمعاملہ چیلنج ہوجائے تواس پرغورکیا جا سکتا ہے، عدالت محض خدشات اور مفروضوں پرفیصلے نہیں دیا کرتی۔ عدالت نے اس آبزرویشن کے ساتھ شاہداورکزئی کی درخواست خارج کردی۔جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں فل بینچ نے سماعت کی۔ شاہد اورکزئی نے وزیراعظم نوازشریف کوچیف آف آرمی اسٹاف کی تقرری سے روکنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پٹیشن دائرکی تھی۔جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے سوال اٹھایا کہ جب ہائیکورٹ نے رٹ پٹیشن پرکوئی فیصلہ نہیں دیا اورآفس نے قابل سماعت نہیں سمجھا توسپریم کورٹ ایک انتظامی آرڈر پرجوڈیشل آرڈرکیسے دے سکتی ہے،عدالت مفروضوں پرفیصلے نہیںکرتی، فاضل جج نے درخواست کو قبل از وقت قراردیتے ہوئے کہاکہ پیش بندی کرنا عدالت کاکام نہیں، اگر آرمی چیف کی تقرری کے بعد درخواست گزارسمجھے کہ اقدام ماورائے آئین ہے تو اسے چیلنج کر سکتا ہے،زیرغور درخواست غیرموثر ہوچکی ہے۔جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ سیاستدان بیانات دیتے رہتے ہیں،عدالت کے سامنے ان بیانات کی حیثیت نہیں ہوتی۔



سپریم کورٹ نے نیو بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی تکمیل میں تاخیر اورمبینہ کرپشن کے حوالے سے مقدمے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔چیف جسٹس نے83 صفحات پرمشتمل یہ فیصلہ خود تحریرکیا ۔عدالت نے حکومت کوقانون کے مطابق شفاف انداز میں نئے ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی کی تقرری جلد سے جلدکرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے ایف آئی اے کے ڈی جی انویسٹی گیشن کوایئرپورٹ منصوبے کی تکمیل میں تاخیرکے ذمے داروں کیخلاف تحقیقاتی عمل کی نگرانی کا حکم دیتے ہوئے جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ فیصلے میںکہاگیا 2014-15ء تک منصوبے کی تکمیل کے دعوئوںکے باوجود مستقبل قریب میں ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا، تاخیرکے باعث منصوبے کی لاگت 37 ارب سے بڑھ کر73 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔آئی این پی کے مطابق جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے کہا ہے کہ مسلح افواج کے سربراہان کا تقررکرنا ریاست کا اختیار ہے۔