شام کی ابترصورتحال

ادلب اور الیپو کے صوبوں میں جنگ کے نتیجے میں 6 لاکھ 89 ہزار سے زائد لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔


Editorial February 12, 2020
ادلب اور الیپو کے صوبوں میں جنگ کے نتیجے میں 6 لاکھ 89 ہزار سے زائد لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ فوٹو : فائل

شامی فوج نے ادلب میں پانچ ترک فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ دونوں طرف سے فائرنگ کا تبادلہ گزشتہ آٹھ دن میں دوسری مرتبہ ہوا۔ تفاتناز Taftanaz کے علاقے میں ترکی نے اپنے اضافی فوجی دستے بھیج دیے ہیں جس کا اعلان برطانیہ میں متعین حقوق انسانی کی شامی ابزرویٹری نے کیا ہے۔

شام اور ترکی کے فوجی دستوں میں یہ جھڑپیں انقرہ اور دمشق میں تعلقات کو مزید خراب کر رہی ہیں جب کہ روس اور ترکی کے درمیان بھی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال سے لگ رہا ہے کہ شام میں ہونے والی خانہ جنگی نے اب مختلف شکل اختیار کر لی ہے اور بے گناہ شامیوں کی بدستور قتل و غارت جاری ہے۔

ادلب اور الیپو کے صوبوں میں جنگ کے نتیجے میں 6 لاکھ 89 ہزار سے زائد لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ یہ اعداد و شمار اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے دفتر نے شایع کیے ہیں ۔ ترکی نے شام کے سرحدی علاقے میں مزید فوجی دستے روانہ کر دیے ہیں تا کہ ادلب سے ملنے والی ترکی کی سرحد کو محفوظ رکھا جا سکے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان اور ترک وزیر دفاع کے مابین ہنگامی ملاقات ہوئی اور تازہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

اردوان کے چوٹی کے مصاحب فحرتین التون Fahrettin Altun نے ترک فوج پر حملہ کرنے والوں کو جنگی مجرم قرار دیا ۔ انھوں نے کہا ترک فوج پر حملے اصل میں پوری دنیا کے امن پسندوں پر حملوں کے مترادف ہیں ۔ روسی وفد بھی ترک حکام کے ساتھ صلاح مشورے کے لیے انقرہ میں پہنچ گیا ہے۔

مقبول خبریں