مہنگائی کے خلاف معاشی ریلیف پیکیج

حکومتی ادارے پرائسنگ کنٹرول کے ساتھ اس امرکو بھی یقینی بنائیں۔


Editorial February 13, 2020
حکومتی ادارے پرائسنگ کنٹرول کے ساتھ اس امرکو بھی یقینی بنائیں۔ فوٹو : فائل

وفاقی کابینہ نے مہنگائی کو روکنے کے لیے بڑے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے ، جس کے تحت 4ہزار یوٹیلٹی اسٹورزکے ذریعے آٹا ،گھی ،چینی اور دالوں پر 5 ماہ کے دوران 10ارب کی سبسڈی دی جائے گی جب کہ یوٹیلٹی اسٹورزکے تعاون سے 2 ہزار یوتھ اسٹورز کھولے جائیں گے جن کے لیے کامیاب جوان پروگرام کے تحت بلا سود قرضے دیے جائیں گے۔

یوٹیلٹی اسٹورز ملک بھر میں تندوروں اور ڈھابوں کوکنٹرولڈ ریٹ پر اشیاء فراہم کریں گے۔ ماہ رمضان سے پہلے راشن کارڈ کا اجراء کر دیا جائے گا، راشن کارڈ کے ذریعے مستحق افراد کو 25 سے 30 فیصد سستی اشیاء فراہم ہوں گی ۔

حکومت نے مہنگائی کے سدباب کے لیے جن اقدامات، مراعات اور پیکیج کا اعلان کیا ہے اس سے بلاشبہ عوام کو زندگی کی سختیوں کو جھیلنے اور ریلیف کی امید کے ساتھ کچھ سانس لینے کا ایک موقع مل سکے گا۔ عوام مارکیٹ کی جدلیات اور حرکیات کا مشاہدہ کرسکیں گے ، امید کی جانی چاہیے کہ ایک اعلیٰ سطح کی مانیٹرنگ پالیسی اور موثر میکنزم بھی فعالیت کے ساتھ ظہور پذیر ہونا چاہیے تاکہ منافع خوروں ، ذخیرہ اندوزوں پر بر وقت گرفت بھی ہو اور سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد اور اشیائے ضروری کی فراہمی سمیت گھی، چینی ، آٹے دال اور سبزیوں ، اجناس اور دوائیوں کی ارزاں نرخوں پر دستیابی یقینی ہوسکے۔

دراصل یہ معاملہ مہنگائی کو روکنے کے ساتھ ہی حکومتی آہنی ہاتھ کو حرکت میں لانے کی نوید دینا ہے بھی، عوام کو بتایا گیا ہے کہ حکومت آٹا ، چینی ، مہنگی کرنے والوں کو سزا دے گی، ادارے تحقیقات کا آغاز کرچکے ہیں۔ وزیر منصوبہ بندی اسد عمرکاکہنا ہے کہ مہنگائی بہت ہوچکی اب اسے روکنے کے لیے عمل کا وقت ہے۔ وزیر اعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ناجائز ذرائع سے اثاثے بنانے والوں کو جوابدہ ہونا پڑے گا ، ہمیں معلوم ہے کہ سندھ میں چینی کہاں ہے؟ مافیاز کے خلاف وزیر اعظم کی جدوجہد آخری مرحلہ میں ہے۔

اس بیانیہ کی صداقت اسی وقت سامنے آئے گی جب مہنگائی کے خلاف ریلیف پیکیج اور دیگر اقدامات پر عملدرآمد کا فائدہ عام آدمی کو پہنچے اور سبزی منڈیوں، بچت بازاروں، اور یوٹیلیٹی اسٹورز پر صارفین کو ایک خوشگوار تبدیلی کا احساس ہو، انھیں وہی دکاندار شرافت کے پیکر نظرآئیں، مافیاز کا سرغرور نیچا ہو ، وہ کیفرکردار تک پہنچنے کے ڈر سے ذخیرہ کی گئی چینی ، گندم ، آٹے کے اسٹاک باہر نکالیں اور سبزیوں کے دام گرا دیں۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری کے ساتھ میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ کابینہ نے نجی شعبے کو بغیر ریگولیٹری ڈیوٹی چینی درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ دالوں پر امپورٹ ڈیوٹی بھی کم کی جائے گی۔ انھوں نے بتایا کہ یوتھ اسٹورز کے ذریعے 4 لاکھ افراد کو بلاواسطہ اور 8 لاکھ افراد کو بالواسطہ روزگار ملے گا۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ریلیف پیکیج کے تحت بیس کلو آٹے کا تھیلا 800 ، چینی 70روپے کلو ، گھی 175روپے فی کلو دستیاب ہوگا ، چاول اور دالوں کی قیمتوں میں 15سے 20 روپے کمی کی جائے گی۔ ریلیف پیکیج سے منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کی کمر ٹوٹے گی۔گندم اور چینی کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہوگی ،گندم بحران پر تحقیقاتی رپورٹ مزید سوالات کے ساتھ واپس کر دی گئی اور جامع تحقیقاتی رپورٹ تین ہفتوں بعد دوبارہ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ارباب اختیار اپنی قوت قاہرہ کو کام میں لائیں اور یوٹیلیٹی اسٹورزکو مہنگائی کے خاتمہ کی حتمی منزل نہ سمجھیں۔ ایسے اسٹورز مقاصد کے حصول کا ذریعہ تو ثابت ہوسکتے ہیں کسی اقتصادی اور معاشی نظام کے قیام کا نقطہ آغاز نہیں بن سکتے۔ اس کے لیے حکومت کو قانون نافذ کرنے والے اداروں ، عدلیہ ، سول سوسائٹی اور سماجی بیداری کی مہم پر بھی توجہ دینا ہوگی ،کیونکہ برسوں کے عادی کرپٹ سماج ، بد دیانت اور نفع خوری کے مجرمانہ رجحانات رکھنے والے با اثر اور سرکش مافیاؤں اورکارٹیلز سے نمٹنے کے لیے صرف اخباری اعلانات کافی نہیں۔

وزیر اعظم کی معاون خصوصی کے مطابق سابقہ حکومتوں کی پالیسیوں کی وجہ سے بجلی اورگیس کی قیمت بڑھی، وزیراعظم نے گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھانے کی مخالفت کی اورکہا کہ عوام پر مہنگائی کا پہلے ہی بوجھ ہے مزید بوجھ نہیں ڈال سکتے۔ وزیراعظم نے گیس اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے جامع رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ڈاکٹر فردوس عاشق نے بتایا کہ ریلیف پیکیج کی نگرانی اور ثمرات حق داروں تک پہنچانے کے لیے کابینہ کی مانیٹرنگ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔ احساس کفالت پروگرام کے تحت 43لاکھ خواتین کو ماہانہ 2 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں۔ احساس اثاثہ جات پروگرام کا اجراء21 فروری کو کیا جا رہا ہے، احساس نیوٹریشن پروگرام سے20 ہزار خواتین مستفید ہوں گی، احساس پروگرام کے تحت رواں سال 100لنگر خانے کھولے جائیں گے۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا وزیراعظم کوکرونا وائرس کے حوالے سے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا،کرونا وائرس کے حوالے سے ہیلپ لائن 24گھنٹے فعال ہوگی، کابینہ نے امریکی کارگوکے افغانستان جانے اور آنے کے حوالے سے ایم او یو میں توسیع کا معاملہ مؤخرکر دیا۔

وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2020 کی بھی منظوری دی۔ وفاقی وزیرمذہبی امورنورالحق قادری نے بریفنگ کے دوران اس حوالے سے بتایا کہ رواں سال ایک لاکھ 79 ہزار 210 پاکستانی حج کی سعادت حاصل کریں گے۔ انھوں نے کہا ڈالر ریٹ اور فضائی کرائے بڑھنے سے حج پیکیج ساڑھے پانچ لاکھ تک بنتا تھا، سعودی حکومت سے مذاکرات کے بعد رواں سال سرکاری حج پیکیج 4 لاکھ 90 ہزارکا ہوگا۔

70 سال سے زائد بزرگ شہریوں کے لیے دس ہزار جب کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک ہزارکا کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ تاہم حج مہنگا ہونے سے عازمین حج بہت دل گرفتہ ہیں، ہزاروں پاکستانی حج اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہیں، حکومت کو اس ضمن میں نمایاں پیش رفت کرنی چاہیے تھی۔ دریں اثناء وزیر اعظم عمران خان سے منگل کو روزمعروف ایڈوائزری اور کنسلٹنٹ کمپنی میکنزی کے گلوبل منیجنگ ڈائریکٹر کیون سنیدر، معاونین خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا اور ذوالفقار عباس بخاری، وفاقی وزراء نورالحق قادری، شیخ رشید نے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

کیون سنیدر سے ملاقات میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے، پاکستان میں سیاحت کا بے شمار پوٹینشل موجود ہے، سیاحت کے فروغ سے ملک کے لیے زرمبادلہ کمانے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ڈاکٹر ظفرمرزا اورذوالفقاربخاری کی ملاقات میں سیکریٹری خارجہ سہیل محمود بھی موجود تھے۔ اس موقع پرچین میں موجود ہم وطنوں کی سلامتی وتحفظ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے دفتر خارجہ کوطلبہ اور پاکستان میں ان کے خاندانوں سے رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔ شیخ رشید احمد نے ایم ایل ون منصوبہ اور ریلویز بزنس پلان پر وزیر اعظم کو بریف کیا۔

اب لازم ہے کہ ایک وسیع پیمانے پر میکنزم تیار ہو اور صوبائی حکومتیں اپنے اقتصادی ٹاسک فورسز ، مجسٹریٹس، کمشنروں، ڈپٹی کمشنروں اور پارٹی قیادت اورکارکنوں کو متحرک کریں تاکہ پورے ملک میں ریلیف پیکیجزکے اثرات اور فوائد عوام تک بلا روک ٹوک پہنچ سکیں۔ یہ '' ڈو آر ڈائی'' جیسی صورتحال اور بقا کی سیاسی ومعاشی جنگ ہے، دوسرے الفاظ میں ایک نئے اقتصادی اور معاشی نظام کے احیا کے بھی دن ہونگے، لہذا حکومتی ادارے پرائسنگ کنٹرول کے ساتھ اس امرکو بھی یقینی بنائیں کہ اشیائے ضروری کے نرخوں میں من مانے اتار چڑھاؤ میں کوئی جعل سازی اور فریب دہی کی جرات نہ کرے۔

مقبول خبریں