سوڈان عمر البشیر کو عالمی عدالت کے حوالے کرنے پر تیار

دارفر کے قدیم باشندوں کا خیال ہے کہ عمرالبشیر کی سربراہی میں قائم حکومت انھیں وسائل سے محروم کررہی ہے۔


Editorial February 13, 2020
دارفر کے قدیم باشندوں کا خیال ہے کہ عمرالبشیر کی سربراہی میں قائم حکومت انھیں وسائل سے محروم کررہی ہے۔ فوٹو : فائل

ISLAMABAD: سوڈان کی نئی حکومت نے برطرف آمر عمر البشیر کو دارفر میں جنگی جرائم کے الزام میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے حوالے کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ آئی سی سی ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں واقع ہے جس میں عمر البشیر اور ان کے تین معاونین کو طلب کر لیا گیا ہے جن پر سوڈان کے مغربی علاقے دارفر میں قتل عام اور انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ہے ۔دارفر میں 2003میں عمرالبشیر حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد شروع ہوئی۔

آئی سی سی نے عمرالبشیر کے علاوہ اس کے تین ساتھیوں کو جنگی جرائم کے ملزمان نامزد کیا ہے۔اس بات کا اعلان سوڈان کی حکمران کونسل کے رکن محمد حسن الطائشے نے جنوبی سوڈان کے دارالحکومت جوبا میں کیا۔ محمد حسن جوبا میں دارفر کے باغی لیڈروں سے مذاکرات کررہے ہیں۔ تاہم اس بات کا ابھی تک کوئی عندیہ نہیں ملا کہ ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی کب شروع ہو گی۔

ادھر اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دارفر میں خانہ جنگی میں کم از کم 3 لاکھ افراد ہلاک ہوئے اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔ اب تمام معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ دارفر کے علاقے کا رقبہ فرانس کے برابر ہے وہاں تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب مقامی باشندوں نے عربی النسل کے دعویدار حکمران طبقات اور اشرفیہ کے غلبے کے خلاف ہتھیار اٹھا ئے۔

دارفر کے قدیم باشندوں کا خیال ہے کہ عمرالبشیر کی سربراہی میں قائم حکومت انھیں وسائل سے محروم کررہی ہے اور عربی النسل ہونے کے دعویدار قبائل کو ناجائز طور پر مراعات اور منصب سے نواز رہی ہے۔ احتجاج کرنے والوں نے شروع ہی سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ عمر البشیراور ان کے ساتھیوں کو آئی سی سی کے حوالے کر دیا جائے ۔

مقبول خبریں