پھر وہی الیکشن

ہم لاہور میں میلوں دور بیٹھے لوگوں کو راولپنڈی کے طیور کی زبانی یہ معلوم ہوا کہ وہاں جو حادثہ بلکہ سانحہ ہوا...


Abdul Qadir Hassan November 20, 2013
[email protected]

ہم لاہور میں میلوں دور بیٹھے لوگوں کو راولپنڈی کے طیور کی زبانی یہ معلوم ہوا کہ وہاں جو حادثہ بلکہ سانحہ ہوا ہے اس کا پس منظر جو بھی تھا لیکن اسے روکنے کے ذمے دار پولیس والے اس سے بالکل غافل رہے اور سب کچھ چلتا رہا۔ اس وقت وہ سب ایک ایسی میٹنگ میں دانش بگھار رہے تھے جو کسی ڈینگی بخار سے متعلق تھی یہ بخار ہمارے وزیراعلیٰ کو گزشتہ سال سے چڑھا ہوا ہے۔ بیچ میں اگرچہ جنگلہ بس کی رکاوٹ آ گئی تھی جو اب دور ہو گئی ہے۔

ہر پاکستانی کو یقین تھا کہ ذمے دار پولیس والے کم از کم نوکریوں سے تو گئے لیکن معلوم یہ ہوا کہ پہلے ان کو صرف معطل کیا گیا اور اب ان کو بطور سزا تبدیل کر دیا گیا ہے، جیسے ایک ایس ایچ او کی کرپشن جب انتہا کو پہنچ گئی اور اس کی نا اہلی کی مشہوری دور دور تک پھیل گئی تو اسے کسی دوسرے تھانے میں بطور سزا تبدیل کر دیا گیا کہ اب یہی کام وہ دوسرے تھانے میں جاری رکھے اور جب یہ خبر پڑھی کہ جس وقت راولپنڈی میں خونریزی اور قتل عام جاری تھے تو یہ حضرات چائے کی پیالیوں میں طوفان برپا کر رہے تھے اور ڈینگی بخار کو روکنے کی ترکیبیں سوچنے اور ان کا تجزیہ کرنے میں مصروف تھے۔ ان کی یہ میٹنگ جاری رہی اور اس دوران وہ سب کچھ بھی جاری رہا جس نے پوری دنیا میں ہماری رسوائی میں مزید اضافہ کر دیا ہے کہ اس ملک میں دہشت گردی ہی نہیں مذہبی فرقہ واریت بھی عروج پر ہے اور ساتھ ساتھ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی افواہیں بھی عروج پر ہیں۔ یہ تو وہی بغداد والا پرانا واقعہ مسلمانوں کے ایک اور بغداد میں دہرایا جا رہا تھا کہ جب ملکی اور غیر ملکی فسادی سرگرم تھے تو ان کو روکنے کے ذمے دار افسران بالا اور ان کے ماتحت ڈینگی بخار کی سرکوبی کا سوچ رہے تھے۔ فسادیوں کا فساد اور ان کو روکنے والوں کی سوچ بچار دونوں بیک وقت جاری رہے چنانچہ مذہبی فسادیوں کے لیے پاکستان میں صلائے عام ہے۔

ہمارے چیف جسٹس صاحب نے جو ہماری بدقسمتی سے اب ریٹائر ہونے والے ہیں ہمارے منتخب حکمرانوں سے کہا ہے کہ اب وہ ووٹ دینے والے عوام کا ساتھ بھی دیں اور تھوڑی بہت قربانی خود بھی کریں۔ اسی کے ساتھ ان دنوں یہ خبریں بھی چھپ رہی ہیں کہ ہماری منتخب حکومتیں اور ان کے حکمران الیکشن سے بے زاری ظاہر کر رہے ہیں اور وہ سب بلدیاتی الیکشن مزید موخر کرنا چاہتی ہیں خصوصاً سندھ اور پنجاب کی حکومتیں، اور یہ دونوں اس قدر مصروف ہیں کہ ان کے پاس فی الحال الیکشن کی فرصت نہیں لیکن اصل بات اور ہے کہ یہ دونوں حکومتیں عوام کا سامنا کرنے پر تیار نہیں کیونکہ انھوں نے عوام کے ساتھ جو کر دیا ہے اس کے بعد وہ کس منہ سے ان کا سامنا کریں گی۔ ہماری پنجاب کی کارکن اور بروقت عمل کرنے پر بے تاب حکومت کو کسی کی نظر لگ گئی ہے یا کیا ہے کہ میاں شہباز شریف اب پہچانے نہیں جارہے، کہاں یہ کہ وہ ہمیں ہر وقت اور ہر طرف سرگرم عمل دکھائی دیتے تھے لیکن اب راولپنڈی میں ہونے والا سانحہ ان کی عملداری سے نکل گیا اور ناکام سول حکومت کی جگہ فوج اور کرفیو کو سنبھالنی پڑی۔

میں جتنا کچھ میاں شہباز کو جانتا ہوں وہ اب واقعی پہچانے نہیں جا رہے شاید ان کی بیماری ہے جس نے ان کی سرگرمیوں کو محدود کر دیا ہے اور انھوں نے اپنا کام اپنے بیٹوں اور عزیزوں کے سپرد کرنا شروع کر دیا ہے لیکن کیا اچھا ہوتا کہ وہ اپنے سیاسی وارثوں کو کچھ سیاست بھی سکھا دیتے اور یہ بھی بتا دیتے کہ عوام بھی اسی زمین پر زندہ ہیں۔ میں یاد کر رہا ہوں کہ میاں صاحب جب جیل میں تھے تو ان کے پیغام ملتے تھے کہ میں اپنی تحریروں میں حضرت عمر بن عبدالعزیز جیسے حکمران کی مثالیں زیادہ دیا کروں جو اگرچہ شاہی خاندان میں سے تھے لیکن انھوں نے اپنے خاندان سے وہ تمام دولت چھین لی جو اس نے عوام سے چھینی تھی۔ میں سوچتا تھا کہ اگر یہ دوبارہ اقتدار میں آ گئے تو انقلاب لے آئیں گے لیکن اب وہی ہیں جو ان عوام کا سامنا کرنے پر تیار نہیں جنہوں نے حقیقتاً بڑے چائو اور امیدوں سے ان کو اقتدار کے لیے ووٹ دیا تھا بہر کیف ایسا ہمارے ساتھ ہوتا ہی رہتا ہے اور اب مجھے جمہوریت یاد آ رہی ہے جو غلط یا کاہل حکمرانوں کا علاج ہے۔

جمہوریت کے نام لیوا نوابزادہ نصراللہ خان سے جب ہم کسی منتخب حکمران کی بداعمالی کی شکایت کرتے تو ان کا ایک ہی جواب ہوتا اس کا علاج بھی الیکشن ہے۔ اور اب جب ہم ایسے ہی حالات سے دوچار ہیںتو ہمیں الیکشن کی صورت میں خواہ وہ بلدیاتی ہی کیوں نہ ہوں ان حالات کا علاج دکھائی دے رہا ہے جن سے حکمران گھبرا رہے ہیں اور یہ نواب زادہ صاحب کی بات کی صداقت کا ایک اور عملی ثبوت ہے۔ چنانچہ جب بھی ہم ایسے حکمرانوں اور ایسے حالات سے دوچار ہوں تو مارشل لا کا نہیں الیکشن کا مطالبہ کریں جو مارشل لا سے زیادہ پسندیدہ اور قابل قبول علاج ہے۔ ہمارے ہاں الیکشن چونکہ سرمائے کی نقل و حرکت کا ایک ذریعہ بھی ہے اس لیے عوام بھی اس سے خوش ہوتے ہیں۔ سیاستدانوں کے ڈیرے آباد ہوتے ہیں کھانا پینا خوب چلتا ہے بلکہ میں نے دیکھا کہ جن لوگوں نے کبھی کسی ووٹر کے دروازے کو بھی ہاتھ نہیں لگایا تھا وہ بھی اس سے ووٹ مانگنے جا رہے ہیں۔ اس لیے الیکشن عوام کے لیے ایک نعمت ہے اور صحیح حکمران اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہیں۔

مقبول خبریں