مسئلہ کشمیر پر بھارت کی ہٹ دھرمی

کرفیو کے باعث کشمیریوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے


Editorial February 17, 2020
کرفیو کے باعث کشمیریوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ فوٹو: فائل

مقبوضہ کشمیر سے متعلق ترکی کے صدر طیب اردگان کے بیان سے بھارت تلملا اٹھا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ترک صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو ایک بار پھر بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دیا اور کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا علاقہ بھارت کا اٹوٹ اور ناقابل تقسیم حصہ ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم ترک قیادت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارت کے اندرونی معاملات میں دخل نہ دے اور اس معاملے سمیت پاکستان کی طرف سے بھارت اور خطے میں دہشت گردی کے ابھرتے ہوئے بڑے خطرے کے حقائق کو مکمل طور پر سمجھے۔ واضح رہے کہ جمعے کو ترکی کے صدر طیب اردگان نے پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران میں مقبوضہ کشمیر پر پاکستانی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر ترکی کے لیے ایسا ہی ہے جیسا پاکستان کے لیے ہے' ترکی مسئلہ کشمیر کے پرامن اور بات چیت کے ذریعے حل کے موقف پر قائم رہے گا' مسئلہ کشمیر کا حل طاقت یا جبری پالیسیوں سے نہیں بلکہ انصاف و حقانیت کے اصولوں سے ممکن ہے۔

جمہوریہ ترکی کے صدر کا مزید کہنا تھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) میں سیاسی دباؤ کے باوجود پاکستان کی بھرپور حمایت کا یقین دلاتے ہیں۔ ادھر جرمنی میں میونخ کانفرنس کے دوران امریکی سینیٹر لنزے گراہم کے منہ سے کشمیر کا ذکر سن کر بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر غصے میں آ گئے اور سفارتی آداب فراموش کر بیٹھے۔ کانفرنس کے دوران امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے کشمیر کا ذکر چھیڑا اور بھارتی اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

پاکستانی حکومت کی کوششوں سے کشمیر عالمی مسئلہ بن چکا اور پوری دنیا مقبوضہ وادی میں ہونے والے بھارتی مظالم سے بخوبی آگاہ ہو چکی ہے اور اس پر اپنی آواز بھی اٹھا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے پوری دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور اس مسئلے کے حل کی جانب دلائی تھی' انھوں نے ایران اور ترکی کے حکمرانوں سے بھی الگ الگ ملاقات کر کے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسلامی دنیا میں ترکی نے مسئلہ کشمیر پر کھل کر پاکستانی موقف کی حمایت کی تو بھارت اس پر تلملا اٹھا ہے اور اس نے ترکی کے ساتھ ہونے والی تجارت میں کمی کرنا شروع کر دی ہے اور اس طرح ترکی کو دباؤ میں لانے کی ناکام کوشش کی کہ وہ اپنے موقف سے دستبردار ہو جائے۔ لیکن بھارت کے ان تمام حربوں کے باوجود ترک حکومت اپنے موقف پر قائم رہی اور مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت جاری رکھی۔

اب پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ترک صدر طیب اردوان نے جمعے کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کھل کر مقبوضہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی حمایت کی تو اس پر بھارت نے احتجاج کرتے ہوئے ترک صدر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو اپنا علاقہ قرار دیا۔ ادھر یورپی یونین نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں عائد پابندیاں فوری طور پر ہٹا لے۔ اطلاعات کے مطابق یورپی یونین اور کئی ملکوں کے سفیروں کے حالیہ دورہ مقبوضہ کشمیر کے بعد یونین کی ترجمان برائے امور خارجہ اور سلامتی پالیسی نے بھارتی اخبارانڈیا ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں نافذ پابندیوں کو فوری طور پر ہٹانا ناگزیر بن گیا ہے، کشمیر میں ابھی تک کئی پابندیاں عائد ہیں جن پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، جموں وکشمیر میں انٹرنیٹ پوری طرح بحال نہیں ہے اور سیاسی قیدی ابھی تک نظر بند ہیں اور ان سبھی معاملات کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین کی جموںوکشمیر کی صورت حال پر گہری نظر ہے اور علاقے میں انٹرنیٹ کی فوری بحالی اور نظر بند رہنماؤں کی رہائی کے لیے بھارتی حکومت پر دباؤ ڈالا جائے گا۔ عالمی دنیا جب مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر احتجاج اور اس مسئلے کو حل کرنے پر زور دیتی ہے تو بھارت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اس مسئلے کو دبانے کی ناکام کوشش کرتا ہے لیکن اسے اب اس حقیقت کا ادراک ہو جانا چاہیے کہ اس کا یہ منفی رویہ اس مسئلے میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے وہاں کرفیو نافذ کر دیا جس کے باعث پوری وادی جیل کا منظر پیش کر رہی ہے۔

کرفیو کے باعث کشمیریوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، بھارت نے اپنے مظالم پر پردہ ڈالنے اور دنیا کو اس سلسلے میں اندھیرے میں رکھنے کے لیے مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند کر رکھی ہے کیونکہ جب سوشل میڈیا کے ذریعے بھارتی مظالم کی خبریں آتی ہیں تو پوری دنیا میں بھارتی فوج اپنے مظالم کے باعث بدنام ہوتی ہے۔ مودی سرکار نے اپنے تئیں نہ صرف مقبوضہ وادی کو اپنا حصہ بنا لیا بلکہ اندرون ملک آباد مسلمانوں کے خلاف متنازع شہریت بل بھی نافذ کر کے پورے بھارت میں افراتفری مچا دی۔

بھارت بھر میں اس متنازع بل کے خلاف مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتی اقوام نے بھی مظاہرے شروع کر رکھے ہیں اور بھارتی حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اس بل کو واپس لے لیکن ابھی تک متعصب مودی سرکار اپنی ہٹ دھرمی پر ڈٹی ہوئی ہے۔ بی جے پی کی حالت یہ ہے کہ دہلی اسمبلی کے الیکشن میں اسے زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا اور عام آدمی پارٹی نے دوبارہ اقتدار حاصل کرلیا حالانکہ اس بار بی جے پی کی قیادت کا دعویٰ تھا کہ وہ دہلی اسمبلی کے الیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی لیکن یہ خواب پورا نہیں ہوسکا۔ بھارتی حکومت کے اپنے متنازع قوانین ہی نے پوری دنیا کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے اور وہ بھارت کو کہہ رہے ہیں کہ وہ ان قوانین پر نظرثانی کرے۔ بھارتی حکومت اپنے متعصبانہ نظریے کے باعث نہ صرف پاکستان کے لیے مسائل پیدا کر رہی بلکہ اندرون ملک مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی زندگی بھی اس نے اجیرن بنا رکھی ہے۔

سرحدی علاقوں پر بھارتی فوج کی پاکستانی شہریوں پر فائرنگ روز مرہ کا معمول بن چکی ' پاکستان ان سرحدی خلاف ورزیوں پر متعدد بار بھارت سے احتجاج کر چکا ہے لیکن بھارتی حکومت اس کو خاطر میں نہیں لا رہی۔ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں مسئلہ کشمیر پر مسلسل بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہیں اگر ترکی کے صدر کی طرح وہ بھی بھارت پر دباؤ ڈالیں تو ممکن ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب آ جائے۔

مقبول خبریں