کیماڑی میں زہریلی گیس کا سانحہ

انتظامی سطح پر تحقیقات شفاف طریقہ سے ہونی چاہیے۔ اولین کوشش زہریلی گیس کی لیکیج کا پتا لگانا چاہیے تھا۔


Editorial February 18, 2020
انتظامی سطح پر تحقیقات شفاف طریقہ سے ہونی چاہیے۔ اولین کوشش زہریلی گیس کی لیکیج کا پتا لگانا چاہیے تھا۔ فوٹو: فائل

کراچی میں کیماڑی کے علاقے مسان چوک اور اطراف میں زہریلی گیس پھیلنے سے 6افراد جاں بحق جب کہ 100سے زائد متاثر ہوئے،کچھ افرادکی حالت تشویشناک، بعض کی اب بہتر بتائی جاتی ہے، تمام افراد کو سانس لینے میں مشکلات کا سامنا تھا جس پر انھیں کیماڑی میں قائم ضیا الدین اسپتال پہنچایا گیا ، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ گیس کسی کنٹینر سے پھیلی جب کہ کے پی ٹی حکام نے اس بات کی تردید کی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لے کرکمشنرکراچی سے رپورٹ طلب کر لی اورکمشنر کراچی کو ہدایت کی کہ متاثرہ افراد کو بہتر سہولتیں دی جائیں۔

بلاشبہ واقعہ کا حیران کن پہلو زہریلی گیس کی شناخت اور اس کے علاقے میں پر اسرار پھیلاؤ کا ہے ، کوئی یہ نہیں بتا سکا کہ گیس آئی کہاں سے اور کس کمپنی یا اس کی پروڈکٹس یا کنٹینرسے گزرتے ہوئے لیک ہوئی، جب کہ ادارہ جاتی سطح پر گریز پائی اور ذمے داری سے بچنے کا طرز عمل غالب رہا اور جس نے بے گناہوں کی ہلاکتوں کو ثانوی بنا دیا ہے جو اس کی نذر ہوگئے ۔

یہ بات انسانی نقطہ نظر سے قابل افسوس بھی ہے کیونکہ جو لوگ گیس سے متاثر ہوئے وہ اپنے خاندان کے چشم وچراغ تھے، ان کی موت اذیت ناک تھی جو اس شہر بے اماں میں لقمہ اجل بن گئے۔ کیماڑی ماحولیاتی آلودگی کا شکار ہے اور انسانوںکا یہ گنجان آباد علاقہ بندرگاہ کا حساس محل وقوع تصور کیا جاتا ہے، جہاں کی سڑکیں خستہ ، داخلی راستے تنگ اور ہوا میں تیل ، کیمیکلز ، مردہ مچھلی ، کھاد اور دیگر چیزوں کی بساند اٹھتی ہے۔

اس لیے ایسی تشویش ناک صورتحال میں ضرورت زہریلی گیس سے انسانی جانوں کے ضیاع پر ادارہ جاتی تذبذب سے زیادہ انسانی جانوں کو بچانے اور خوف وہراس کے سد باب کی تھی جس کے باعث لوگوں نے گھبرا کر حفاظتی ماسک اتنی بڑی تعداد میں خرید لیے کہ مارکیٹ میں اس کی قلت پڑگئی ، یہ پیشگی انتظام بے وجہ بھی نہ تھا،ادھر زہریلی گیس کے اخراج کے اثرات فضا میں سرایت کر گئے۔

ادھر میڈیا کے مطابق پیرکو جب لوگ کسٹمز ہاؤس کام پر آئے تو ان میںکچھ بے ہوش ہوئے اور بعض نے الٹیاں کیں، کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن اور شپننگ ذرایع کے مطابق کسٹمز ہاؤس اور پی این ایس سی ورکشاپ بند کردیا گیا۔ البتہ وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے سانحہ پر افسوس کا اظہار کیا، تحقیقات کے حوالے سے کہا کہ نیوی کی بائیولوجیکل اور کیمیائی ڈیمیج کنٹرول ٹیم صورتحال کاجائزہ لے گی۔ انھوں نے اپیل کی کہ میڈیا مکمل تحقیقات تک قیاس آرائیوں سے گریز کرے، وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے فوری طور پر طبی ٹیم بھیجی۔ نجی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق اتوار کی شب 8 بجے سے ساڑھے 8 بجے کے درمیان کیماڑی مسان چوک اور متصل علاقے میں زہریلی گیس پھیل گئی جس سے علاقہ مکینوں کی ایک بڑی تعداد متاثر ہوئی اور انھیں سانس لینے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا تمام افراد کو فوری طور پر کیماڑی میں قائم ضیا الدین اسپتال پہنچایا گیا ، اس موقع پر علاقے میں شدید بے چینی پائی جاتی تھی اور ایک بھگدڑ جیسا سماں تھا، اسپتال کے چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر فہیم نے اسپتال میں ذرایع ابلاغ کے نمایندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسپتال میں دو خواتین سمیت چار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جب کہ 100 سے زائد متاثرہ افراد کو لایا جاچکا ہے جنھیں طبی امداد فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

بیشتر کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھروں کو روانہ کردیا گیا لیکن تیس سے زائد افراد رات گئے تک اسپتال میں زیر علاج تھے۔ دوسری جانب کراچی پورٹ ٹرسٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ کنٹینر کے باعث گیس پھیلنے کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے ، اگر ایسا ہوتا تو پورٹ ایریا سے متاثرہ افراد جاتے جب کہ متاثرہ افراد تمام علاقے کے رہائشی ہیں جس کا صاف مطلب ہے کہ رہائشی علاقے میں ہی کچھ ہوا ہے ۔

بہرحال انتظامی سطح پر تحقیقات شفاف طریقہ سے ہونی چاہیے۔ اولین کوشش زہریلی گیس کی لیکیج کا پتا لگانا چاہیے تھا، مزید برآں بندرگاہ سے متصل ایک بڑی آبادی اگر کسی ایمرجنسی کا شکار ہوئی ہو تو تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنا چاہیے تھا اور لازم تھا کہ سرکاری یا محکمہ جاتی کیمیائی ماہر ، فرانزک ایکسپرٹ یا زہریلی گیس کی تشخیص کا اہتمام ہوتا ، اب امید کی جانی چاہیے کہ ارباب اختیار ہلاک شدگان کے لواحقین اور متاثرین گیس کی ہر ممکن امداد کو یقینی بنائیں گے ۔

مقبول خبریں