غیر ملکی این جی اوز کو فنڈز کے حصول و استعمال کا مقصد بتانا اور 5 سال کیلیے ایم او یو پر دستخط کرنے ہونگے ای

رعایتی ڈیوٹی پردرآمدشدہ خام مال سےتیار کردہ گھی کی افغانستان کو برآمدکیلیے مقررکردہ 90 دن کی میعادمیں توسیع سے انکار


Numainda Express November 22, 2013
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے خیبرپختونخواہ حکومت کوپاسکو سے خریدی جانیوالی ڈھائی لاکھ ٹن گندم میںسے 90 ہزارمیٹرک ٹن بقایاگندم بھی اٹھانے کی ہدایت کردی۔فوٹو:فائل

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی ( ای سی سی) نے فنڈکے غلط استعمال کوروکنے کیلیے غیرملکی این جی اوزکی ریگولیشن کیلیے نئے پالیسی فریم ورک کی منظوری دیدی ہے جسکے تحت ملک میںکام کرنیوالی این جی اوز کو اقتصادی امورڈویژن کے ساتھ 5 سال کی مدت کیلیے ایم اویوپردستخط کرنا ہوں گے جبکہ اس پالیسی کے تحت تمام غیرملکی این جی اوزکوبیرون ملک سے ملنے والے فنڈ ظاہر کرنا ہونگے اوریہ بھی بتانا ہوگا کہ فنڈکس مقصدکیلیے ملے ہیں اور کیا استعمال بھی اسی کام کیلیے ہوئے ہیںجس مقصدکیلیے ملے ہیں۔

کمیٹی نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن(پی آئی اے)کیلیے بزنس پلان کی منظوری موخرکردی ہے اورپی آئی اے کے بزنس پلان کاجائزہ لینے کیلیے کل(ہفتے کو)اعلیٰ سطح کااجلاس طلب کرلیا۔ ای سی سی کااجلاس جمعرات کووفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت ہوا،اجلاس میں 7نکاتی ایجنڈے کاجائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں غیرملکی این جی اوزکیلیے منظورکردہ پالیسی فریم ورک کے تحت بیرون ممالک میںان غیرملکی این جی اوزکے آڈٹ کی رپورٹ حکومت پاکستان کوبھی فراہم کرناہوگی تاہم ای سی سی نے ڈی ٹی آرای اسکیم کے تحت رعایتی ڈیوٹی پرمنگوائے جانیوالے خام مال سے تیار کردہ گھی کی افغانستان برآمدکیلیے مقرر کردہ 90 دن کی میعاد میں توسیع کرنے سے انکارکردیاہے اور کھادکی درآمدپرعائداتفاقی چارجزکے حوالے سے پیش کی جانیوالی سمری بھی موخرکردی ہے۔



اس کے علاوہ ای سی سی نے خیبرپختونخواہ حکومت کوپاسکو سے خریدی جانیوالی ڈھائی لاکھ ٹن گندم میںسے 90 ہزار میٹرک ٹن بقایاگندم بھی اٹھانے کی ہدایت کردی ہے اورفیصلہ کیاہے اس ضمن میںوفاق اور پاسکو کی طرف سے خیبرپختونخواہ حکومت خط لکھاجائے گاجس میں خیبرپختونخواہ حکومت سے درخواست کی جائے گی کہ خیبرپختونخواہ حکومت کی طرف سے پاسکوسے خریدی جانیوالی ڈھائی لاکھ میٹرک ٹن گندم کی قیمت اداکی جاچکی ہے لیکن پختونخوا حکومت نے پاسکو سے ایک لاکھ65 ہزارمیٹرک ٹن گندم اٹھائی ہے اورابھی90 ہزار میٹرک ٹن گندم پاسکو کے پاس ہی پڑی ہے اس لییپختونخواحکومت سے کہاجائے گاکہ وہ اپنی یہ گندم اٹھائے اورپختونخوا کی فلورملوںکی ضرورت پوری کرے کیونکہ پختونخوا کی فلورملوںنے وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی سے رابطہ کیاہے اوردرخواست کی ہے کہ پختونخوا کی گندم کی ضروریات پوری کرنے کیلیے کم ازکم 4لاکھ میٹرک ٹن گندم سپلائی کی جائے۔ اے پی پی کے مطابق اجلاس میںوزیرخزانہ اسحاق ڈارنے کہاکہ این جی اوز کے حوالے سے نئی پالیسی کامقصدبیرون ملک سے امدادحاصل کرنے والی غیرسرکاری تنظیموں کے کام میںشفافیت لانااورایسی تنظیموںکوایک فریم ورک نہ ہونے کی وجہ سے درپیش مشکلات کودورکرناہے۔