حقیقتاًملک میں کاروبار کاماحول نہیںصدرراولپنڈی چیمبر

بدامنی،کرپشن،بھاری ٹیکسزوناقص نظام کے باعث مقامی سرمایہ کاربھی باہر جا رہے ہیں


Numainda Express November 23, 2013
قانون بالادست ہو تو بیرون ملک جاکرسرمایہ کارڈھونڈنے یابھیک مانگنا نہیں پڑے گی فوٹو: فائل

تاجر برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ میں اضافہ کیا جائے۔

راولپنڈی چیمبر کے صدر شمائل داود نے تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تہیہ کر رکھا ہے کہ ٹیکس کے تمام تر اہداف صرف رجسٹرڈ ٹیکس گزاروں سے ہی حاصل کرنے ہیں اور ٹیکس نیٹ میں اضافے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے، کاروباری برادری حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت محدود سوچ اور بیانات کی سیاست سے باہر نکلے اور ایسے عملی اقدامات اٹھائے جس سے ٹیکس گزاروں کو آسانی ہو اور سہولتیں میسر آئیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ حکومت بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کر رہی ہے اور اس ضمن میں وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کئی بیرونی دورے کیے جبکہ ملک میں امن و امان کی خراب صورتحال، بد عنوانی، بھاری ٹیکسز اور ٹیکس کے ناقص نظام کی بدولت مقامی سرمایہ کار بیرون ملک جا رہے ہیں۔



اگر غلطی سے یہاں کوئی سرمایہ کار آبھی جائے تو اسے ایسی نصیحت ہوتی ہے کہ اوروں کو بھی پاکستان میں سرمایہ کاری سے روکتا ہے جس کی بڑی وجہ ہمارا ٹیکس کلچر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر آڈٹ کے نام پر کاروباری برادری کو ہراساں کر رہا ہے جس سے کاروباری برادری کی کثیر تعداد صنعتوں کو بیرون ملک شفٹ کر رہی ہے جس کا خمیازا ملکی خزانے کو پہنچ رہا ہے، وزیر اعظم کو چاہیے کہ پہلے اپنے محکموں کے حالات ٹھیک کریں اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر کریں۔

ٹیکس کا صاف و شفاف نظام متعارف کرائیں کیونکہ جو سرمایہ کار امن و امان کی خراب صورتحال سے بچ جاتا ہے تو حکومتی چونچلوں کی نظر ہو جاتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ملک میں کاروبار کا کوئی ماحول نہیں، حکومت کو چاہیے کہ عوام نے جن کاموں کے لیے مینڈیٹ دیا ہے اور جن کے انہوں نے وعدے کیے تھے کو پورا کرے اور درپیش مسائل کی طرف توجہ دے، ملک میں امن و امان ہو گا اور قانون کی بالا دستی ہوگی تو کسی کو بیرون ملک جا کر سرمایہ کار ڈھونڈنے یا بھیک مانگنے کی زحمت نہیں اٹھانا پڑے گی۔