بین الاقوامی ٹیموں کی پاکستان آمد دیکھنا چاہتا ہوں، کمار سنگاکارا

اسپورٹس رپورٹر / ویب ڈیسک  جمعرات 20 فروری 2020
ایک بار پھر پاکستان آنے پر بہت خوش ہوں، کمار سنگاکارا فوٹوفائل

ایک بار پھر پاکستان آنے پر بہت خوش ہوں، کمار سنگاکارا فوٹوفائل

لاہور: ایم سی سی کے کپتان کمار سنگاکارا کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی ٹیموں کی پاکستان آمد دیکھنا چاہتا ہوں، میں اپنے ساتھ پاکستانی عوام کی گرمجوشی، تماشائیوں کا شاندار استقبال اور لاہور کے سفر کی حسین یادیں لے جارہا ہوں۔

لیجنڈری کرکٹر اور صدر ایم سی سی کمار سنگاکارا  نے 4 میچوں پر مشتمل سیریز کے سلسلے میں پاکستان کے دورے پر آئی ایم سی سی کرکٹ ٹیم کی قیادت کی۔  پی سی بی پوڈ کاسٹ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کمار سنگاکارا کا کہنا تھا  کہ وہ بین الاقوامی کرکٹ ٹیموں کی پاکستان آمد دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔

13 فروری کو لاہور پہنچنے والی ایم سی سی کرکٹ ٹیم کے دورہ میں 3 ٹی ٹوئنٹی اور ایک 50 اوورز پر مشتمل میچز شامل تھے۔ اس کے علاوہ اسکواڈ میں شامل کھلاڑیوں  نے گولف کھیلی، شاہی قلعہ کا دورہ کیا اور شہر کے مختلف مقامات پر کھانے بھی کھائے۔

اس موقع پر صدر ایم سی سی کا کہنا تھا کہ وہ ایک بار پھر پاکستان آنے پر بہت خوش ہیں۔ انہوں  نے کہا کہ انفرادی طور پر وہ 10 سال بعد پاکستان آئے جبکہ ایم سی سی ٹیم کو پاکستان آئے کئی دہائیاں گزر چکی ہیں۔ یہاں آنے کا مقصد پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے لیے مستقل بنیادوں پر راہ ہموار کرنا ہے۔

کمار سنگارا نے مزید کہا کہ کسی بھی دورے کے دوران ہوٹل تک محدود رہنے کی بجائے شہر کے مختلف علاقوں کی سیر کرنا ہمیشہ خوشگوار لمحہ ہوتا ہے۔ دورہ لاہور کے دوران ایم سی سی کی ٹیم متعدد بار جم خانہ گولف کورس گئی، اسکواڈ میں شامل کھلاڑیوں  نے وہاں کی مہمان نوازی کا بھرپور لطف اٹھایا۔

کمار سنگاکارا  کا کہنا تھا کہ وہ یہاں سے عوام کی گرمجوشی، تماشائیوں کے شاندار استقبال، کھلاڑیوں کے جوش اور شہر کی سیر سے متعلق خوشگوار یادیں اپنے ساتھ واپس لے جارہے ہیں۔ انہوں  نے کہا کہ وہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی مستقل بحالی کی غرض سے یہاں دیگر ممالک کی ٹیموں کو کھیلتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

صرف گزشتہ تین ماہ کے دوران سری لنکا کرکٹ ٹیم، دو ٹیسٹ جبکہ بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم تین ٹی ٹونٹی اور ایک ٹیسٹ میچز کھیلنے پاکستان آئی۔ اس کے علاوہ ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 2020 کے مکمل ایڈیشن کا انعقاد بھی 20 فروری بروز جمعرات سے پاکستان میں ہورہا ہے۔ ملک کے 4 مختلف شہروں میں کھیلے جانے والے ایونٹ میں 36 غیر ملکی کھلاڑی شرکت کررہے ہیں۔

کمار سنگاکارا کا کہنا ہے کہ ٹور کی غرض سے پاکستان ایک شاندار ملک ہے اور وہ اپنے ہمراہ بھی یہی پیغام لے کر واپس جارہے ہیں۔ صدر ایم سی سی  نے کہا کہ انہیں یہاں کھیلے گئے تمام میچز اب بھی  یاد ہیں۔ لاہور قلندرز کے خلاف وارم اپ میچ میں جس طرح 19ہزار شائقین کرکٹ اسٹیڈیم میں موجود تھے، انہیں دیکھنا بھی ایک یادگار لمحہ رہے گا۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستانی عوام کرکٹ سے کتنی محبت کرتی ہے اور یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاشی استحکام کے لیے کتنا ضروری ہے۔

12 ہزار 4 سو ٹیسٹ رنز بنانے والے سابق کرکٹر کمار سنگاکارا  نے کہا کہ پاکستان  نے ہمیشہ کرکٹ کو عظیم کھلاڑی دئیے ہیں۔ یہ ملک کرکٹر پیدا کرتا ہے، یہاں سے بہت سے فاسٹ باؤلرز، اسپنرز، بیٹسمینز اور وکٹ کیپرز دنیا کے  افق پر نمودار ہوئے اور اس دورہ کے دوران بھی انہیں کچھ مختلف نہیں لگا۔ انہوں  نے کہا کہ لاہور قلندرز،ملتان سلطانز، ناردرن اور شاہینز کے اسکواڈ میں بہترین کھلاڑیوں کے خلاف کھیل کر انہیں لطف آیا۔

چار روزہ ٹیسٹ کرکٹ کی تجویز سے متعلق کرکٹ کی دنیا میں ایک تقسیم پائی جاتی ہے، جب اس حوالے سے صدر ایم سی سی سے پوچھا گیا تو انہوں  نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ ان کا پسندیدہ فارمیٹ ہے اور اسے پانچ روز تک محدود رکھنے کی حمایت کرتے ہیں مگر حقیقت ذرا مختلف ہے اور ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ان دنوں کتنے ٹیسٹ میچ پانچویں روز تک جاتے ہیں، ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پانچ روز کی کرکٹ دیکھنے کتنے لوگ اسٹیڈیمز کا رخ کرتے ہیں۔ انہوں  نے کہا کہ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ آیا یہ مستقبل میں کارگر بھی رہے گا؟

کمار سنگاکارا  نے کہا کہ چند ممالک میں کرکٹ کے مداحوں کی اوسط عمر 45 سال سے زائد ہے جو کہ حوصلہ افزاء نہیں۔ انہوں  نے کہا کہ ہمیں یہ کھیل نوجوانوں میں مقبول کرنے کے لیے سوچ و بچار کی ضرورت ہے، یہی وجہ ہے کہ ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ سمیت ٹیسٹ کرکٹ میں جدت لانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ اب صرف بڑی ٹیموں تک محدود نہیں بلکہ چھوٹی ٹیموں کو بھی ٹیسٹ اسٹیٹس دیا جارہا ہے، اب ایسا نہیں ہوسکتا کہ چند ٹیمیں پانچ روزہ کرکٹ کھیلیں اور کچھ چار روزہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلا کریں۔ صدر ایم سی سی  نے مزید کہا کہ یہ ایک ایسی بحث ہے جو مزید کچھ عرصہ جاری رہے گی مگر جو بھی ہو ہمیں اس کے عملی طور پر درست اور بہترین نتائج ڈھونڈنے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔