حکومت بے اختیار ہے مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا طالبان

نیٹوسپلائی بندش کاعمران کااعلان خوش آئندہے،منورحسن نے مسلمانوں کی ترجمانی کی،ٹارگٹ کرنیوالوں پرحملے جاری رکھیں گے


Numainda Express November 23, 2013
تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نامعلوم مقام پر میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں ۔ فوٹو : آئی این پی

کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہداﷲ شاہدنے کہاہے کہ حکیم اﷲ محسودکی ہلاکت کے بعد مذاکرات کسی صورت نہیں ہوسکتے، عمران خان کانیٹو سپلائی بندش کافیصلہ احسن اقدام ہے، منورحسن کاحکیم اﷲ محسودکے حوالے سے بیان مسلمانوں کی ترجمانی ہے۔

جنوبی وزیرستان کے نامعلوم مقام پرصحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے شاہداﷲ شاہدنے کہاکہ حکیم اﷲ محسودکی ہلاکت کے بعداب حکومت کے ساتھ مذاکرات کاسوال ہی پیدانہیں ہوتا۔ البتہ اگرنیا امیرکوئی فیصلہ کرتاہے تووہ الگ بات ہے۔ انھوں نے کہاکہ تحریک طالبان پہلے بھی مذاکرات کی مخالف نہیں تھی مگر حکومت کے اقدام نے ثابت کردیا کہ وہ بے اختیارہے۔ مذاکرات سے پہلے شریعت کانفاذ، ڈرون حملوں کی بندش، قبائلی علاقوں سے فوج کی واپسی اورقیدیوں کی رہائی کے بیانات کامقصد ہی حکومت کے اختیارکو ثابت کرناتھا۔ اب پوری دنیااس بات کی گواہ بن چکی ہے کہ حکومت بے اختیارہے کیونکہ ڈرون حملوں پر وزیراعظم نوازشریف امریکاسے ایسی التجاکررہے ہیں جو ایک عام قبائلی بھی کرسکتا ہے۔



شاہداﷲ شاہدنے کہاکہ ہمیں حکیم اللہ محسودکے قاتل معلوم ہیں، جہاں اور جب بھی ملے معاف نہیں کریں گے۔ محسودطالبان کاملا فضل اﷲ پرمکمل اعتمادہے۔ محسودطالبان بیت اﷲ محسودکی ہلاکت کے بعد بھی ملافضل اﷲ کے حق میں تھے مگرامرا نے حکیم اﷲ محسودپر اتفاق کیا۔ خیبرپختونخوا میں جنگ بندی سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے شاہداﷲ شاہدنے کہاکہ ہمارے اوپرسب سے زیادہ حملے خیبرپختونخوا میں ہورہے ہیں۔ ہم دفاعی جنگ لڑرہے ہیں۔ جہاں سے ہمیں ٹارگٹ کیاجاتا ہے، وہاں ضرور حملے جاری رکھیں گے۔واڑی سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق کالعدم تحریک طالبان کے امیرمولوی فضل اللہ نے سابق امیرحکیم اللہ محسود کے قتل کابدلہ لینے اور پاکستان میں کارروائیوں کے منصوبے کو حتمی شکل دے دی، نئی حکمت عملی کے تحت فورسز اوردفاعی اداروں کے خلاف کارروائی کیلیے خفیہ کوڈ متعارف کرادیے،ترجمان کومیڈیا سے محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔