کراچی بلوچستان سے لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا احتجاجی کیمپ دوبارہ قائم

لاپتہ افرادکی بازیابی کے لیے اقوام متحدہ یادولت مشترکہ تک بھی جانا پڑا تو جاؤں گا، قدیر بلوچ


Staff Reporter November 23, 2013
کراچی: لاپتہ افراد کی بازیابی کیلیے کوئٹہ سے کراچی آنیوالے قافلے کا پریس کلب پر استقبال کیا جارہا ہے۔ فوٹو: پی پی آئی

KARACHI: بلوچستان کے لاپتہ افرادکی بازیابی کیلیے کوئٹہ سے780کلومیٹرطویل فاصلہ پیدل طے کرکے آنے والا ''بلوچ قومی قافلہ''جمعے کو کراچی پریس کلب پہنچ گیا۔

جہاں پریس کلب کے باہرلاپتہ افراد کے اہل خانہ نے دوبارہ اپنااحتجاجی کیمپ قائم کرلیا جس میں لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے اپنے پیاروںکی تصاویرآویزاں کردی ہیں۔پریس کلب پہنچنے پرقافلے کے شرکا کا پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس،کراچی یونین آف جرنلسٹس،کراچی پریس کلب، پاسبان،عورت فاؤنڈیشن ،ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان ،جئے سندھ قومی محاذسمیت مختلف سیاسی ،سماجی ،انسانی حقوق کی تنظیموں اورسول سوسائٹی کی جانب سے والہانہ استقبال کیا گیا ۔

قافلے کے شرکاء کو پی ایف یو جے کے سیکریٹری جنرل امین یوسف، کے یو جے کے صدرجی ایم جمالی سمیت دیگر کی جانب سے پھولوں کے ہارپہنائے گئے اورسندھ کاروایتی تحفہ اجرک پیش کیاگیا ۔قافلے کے شرکا جمعرات کوکراچی کے علاقے یوسف گوٹھ پہنچے تھے،جہاں سے وہ ایک رات قیام کے بعدپیدل سفرطے کرتے ہوئے ریلی کی صورت میں لیاری سے گزرتے ہوئے پریس کلب پہنچے۔قافلے کے شرکاکے ہمراہ سیکڑوں کی تعدادمیں اہالیان لیاری بھی موجود تھے۔بعد ازاں کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنزکے وائس چیئرمین ماما قدیربلوچ نے کہاکہ بلوچستان کے لاپتہ افرادکی بازیابی کے لیے ایک قافلہ آج سے27روز قبل کوئٹہ پریس کلب سے روانہ ہوا تھا، جس نے780کلومیٹر کاطویل سفرپیدل طے کیا۔



بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلیے لائحہ عمل کا اعلان آئندہ2روز میں ایک سیمینارمیں کروں گا ،اگر لاپتہ افراد کی بازیابی کیلیے اسلام آباد ،اقوام متحدہ یا دولت مشترکہ تک بھی جانا پڑا تو میں اپنے پیاروں کی بازیابی کیلیے جاؤں گا۔انھوں نے کہا کہ قافلے کے شرکاکا آج کراچی پریس کلب پر جس طرح والہانہ استقبال کیا گیا ہے ،میں تہہ دل سے تمام افراد کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ اٹھانے کی پاداش میں28صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب ہم نے سفرکا آغاز کیا تو ہمیں ڈرایا دھمکایا گیا اور یہاں تک کہ ہماری تنظیم کے رہنما نصر اللہ بلوچ کے گھرکا گھیراوکیاگیا اور ان کے بھائی پر تشدد کیا گیا لیکن ہم حوصلے نہیں ہارے، بلوچستان حکومت کی جانب سے مراعات اور چیک بھی پیش کیے گئے لیکن میں نے ان تمام پیشکشوں کو ٹھکرادیا۔ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچ عوام پر ظلم کا آغاز پرویز مشرف کے دورسے ہوا،پرویز مشرف کے دور میں بلوچوں کو اغواکیا جاتا تھا لیکن پھر6ماہ یا ایک سال قید رکھ کر انہیں رہاکردیا جاتا تھا،مظالم کا سلسلہ 2009میں پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں بڑھا ،جب اس وقت کے وزیر داخلہ رحمن ملک کوئٹہ آئے انھوں نے کہا کہ بلوچوں پرلاٹھی چلاؤاور ان کو اٹھاو،بلوچ عوام کے اغوااور قتل کا سلسلہ بند نہیں ہوا بلکہ نواز شریف کے دور حکومت میں بھی جاری ہے۔