اس سے تو بہتر تھا میچز ہوتے ہی نہیں

کھیلوں کا مقصد عوام کو تفریح فراہم کرنا اور نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا ہوتا ہے


یسریٰ طیب February 21, 2020
کھلاڑیوں اور جگہ کےلیے سیکیورٹی فراہم کرتے ہوئے عوام کو ہی مشکلات میں ڈال دینا درست نہیں۔ (فوٹو: فائل)

صبح کا آغاز نہایت افراتفری کےعالم میں ہوا۔ آفس پہنچنے کےلیے گھر سے تو ہم وقت کے حساب سے ہی نکلے تھے مگر ٹریفک میں پھنسی گاڑیوں کی لمبی قطاروں نے کوفت میں مبتلا کردیا۔ ''یار یہ ٹریفک کیوں رکا ہوا ہے؟'' ہم نے خود سے سوال کیا۔ تب اچانک ذہن میں جھماکا ہوا کہ اوہ یہ تو پی ایس ایل سیزن فائیو کی بہاریں عروج پر ہونے کے باعث ہے۔

شہر قائد میں میلہ لگ چکا ہے۔ سیٹی بج چکی ہے۔ اسٹیج بھی سج چکا ہے۔ لیگ میں موجود غیر ملکی کھلاڑی رنگ جما رہے ہیں۔ جن کی سیکیورٹی کےلیے یہ سب اقدامات کیے جارہے ہیں۔ شاہراہیں اور سڑکیں بند ہیں۔ ایک تو آفس ٹائم پر پہنچنے کی جلدی ہو، اوپر سے گھنٹوں انتظار کی اذیت برداشت کرو پھر تمام چیزوں کو برداشت کرکے آفس پہنچو تو بنا کام کیے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پتا نہیں کتنی مزدوری کرکے آرہے ہیں۔ ان حالات میں نہ تو آفس کا کام صحیح انداز میں ہوپاتا ہے نہ ہی کچھ اور۔ کچھ ایسا ہی حال دفتر سے چھٹی کے بعد آدھے گھنٹے کا سفر دو گھنٹے میں طے کرنے کے بعد گھر پہنچنے پر ہوتا ہے، جیسے میدان جنگ سے لوٹے ہوں۔ اور یہ تمام باتیں یہ کہنے پر مجبور کردیتی ہیں کہ میچ نہیں ہوگئے جان کو عذاب ہوگئے۔

ٹریفک جام ہونے کے باعث ایمبولنس راستے میں پھنسی ہے۔ اس میں موجود مریض کی جان کو خطرہ ہے اور اسے جلد ہی اسپتال بھی پہنچنا ہے۔ مگر کیا کریں صاحب سڑکیں بند ہونے اور ٹریفک کا نظام درہم برہم ہونے کے باعث کچھ کر نہیں سکتے۔ پی ایس ایل تو ہمارے لیے مصیبت ہی بن گیا ہے۔

رکشے والوں کی بھی سمجھو چاندی ہوگئی ہے۔ یونیورسٹی سے واپسی میں ڈبل کرایہ مانگنے لگے ہیں۔ متبادل راستوں کی بدولت منٹوں کا راستہ طے ہونے میں گھنٹوں کا وقت لگنے کے باعث عوام کو لوٹنا شروع کردیا ہے۔ جب بھی میچ ہوتا ہے تو یہی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔ پی ایس ایل نے تو دماغ خراب کیا ہوا ہے، میچ نہ ہوئے دردِسر ہوگئے۔

اسٹیڈیم کے اطراف معمول کی سرگرمیوں کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہورہی ہیں۔ کھانے پینے کی اشیا کے ٹھیلے لگانے والوں کو سیکیورٹی خدشات کے باعث روک دیا جاتا ہے۔ جبکہ دکانوں پر بھی کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ خریدار یہ سوچ کر نہیں آرہے کہ شاید دکانیں بند ہوں گی۔ اسٹیڈیم یا پارکنگ ایریاز کے اطراف کاروبار بہت متاثر ہورہا ہے۔ ٹھیلے پتھارے والوں کو بھی ہٹادیا جاتا ہے۔ بند راستوں نے روزگار کمانا مشکل کردیا ہے۔ جلد ہی ایونٹ ختم ہو تو زندگی معمول پر آئے۔

یہ تمام باتیں آج کل سب کی زبان پر ہیں۔ اس سے تو میچز نہ ہی ہوتے، یہ ہی اچھا تھا۔ اسٹیڈیم یہاں نہیں شہر سے باہر ہونا چاہیے تھا۔ عام آدمی پریشان ہورہا ہے اور اربابِ اختیار کو تفریح سوجھ رہی ہے۔ ایک دو دن تو برداشت کرلیا جاتا، اب چار پانچ دن تک اذیت سہو۔ پہلے ہی ملک اتنی معاشی بدحالی کا شکار ہے، اگر آئے دن کاروبار کی یہی حالت رہی تو معاشی ترقی کے اہداف حاصل کرنا کیسے ممکن ہوسکے گا؟ یہ وہ جملے ہیں جو کرکٹ میچز کے باعث شہر بند ہونے پر ہر دوسرے شخص سے سننے کو ملتے ہیں۔

مگر یہ سب باتیں ایک طرف، بات دراصل یہ ہے کہ کوئی بھی چیز پرفیکٹ نہیں ہوتی۔ ہر تصویر کے دو رخ اور دو پہلو ہوتے ہیں۔ کیا خبر جہاں سے ہم دیکھ رہے ہیں وہاں سے صحیح منظر دکھائی نہ دے رہا ہو۔ ہماری قوم کی دکھ بھری داستان یہ ہے کہ ہم تصویر کا ایک ہی رخ دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ ہم اس ایک رخ کو ہی صحیح سمجھتے ہوئے اپنی رائے قائم کرلیتے ہیں اور اس رائے کی بنیاد پر ہی بلا سوچے سمجھے تعریف اور تنقید کرنے میں خود کو حق بجانب سمجھتے ہیں۔ پہلے والے منظر سے قدرے مختلف اور نہ دکھائی دینے والے پہلو پر کوئی نظر ڈالنے کی کوشش نہیں کرتا۔

ذرا یہ بھی تو دیکھیے کہ ملک میں کھیلوں کے میدان آباد ہونا ایک اچھی پیش رفت ہے۔ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے دروازے کھلنا بہترین اقدام ہے۔ دنیا بھر میں پاکستان کا ایک مثبت چہرہ دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستان میں انٹرنیشنل کھیلوں کی بحالی کا سفر بہت خوش آئند بات ہے۔ پی ایس ایل کا پاکستان میں انعقاد معیشت کی گاڑی کو ٹریک پر لانے میں بھی تو کامیاب ثابت ہوگا۔ پاکستان کا شمار محفوظ ملکوں کی فہرست میں بھی تو ہورہا ہے۔ وطن عزیر پر چھائے بدامنی اور دہشتگردی کے بادل بھی تو چھٹ رہے ہیں۔ سیاحت میں اضافہ ہوگا تو ملک بھر میں سرمایہ کاری بھی آئے گی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی خاطرخواہ آمدنی حاصل ہورہی ہے۔ پی ایس ایل یا کرکٹ ٹورنامنٹ کا پاکستان میں انعقاد کاروباری سرگرمیوں کو اس انداز میں فروغ دے رہا ہے کہ جو پیسہ ہجرت کرکے دبئی جاتا تھا اب وہ پاکستان ہی میں پنپتا رہے گا اور اس سے ہونے والا معاشی فائدہ بھی مقامی افراد کو ہوتا رہے گا۔ ملک میں امن و امان کی صورتحال پر غیرملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑی حد تک بحال ہوگا۔ یہ تمام باتیں ایک اچھے مستقبل کی نوید دے رہی ہیں۔ تو کیا یہ بہتر نہیں کہ ملک کے شاندار مستقبل کےلیے زہر کے گھونٹ پی لیے جائیں۔ درد ختم کرنے کےلیے کڑوی گولی تو کھانی ہی پڑتی ہے ناں۔ چند دن کی مشکل برداشت کرلیجئے کہ آخر میں صلہ راحت کی شکل میں آپ کا منتظر ہوگا۔ آپ کی کچھ دنوں کی اذیت کا فائدہ ملک کو مستقبل میں ضرور ملے گا۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ شہری ملک میں کھیل دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ ملک میں کرکٹ گراؤنڈز آباد ہونے پر خوشی کا سماں بھی ہے۔ عوام کھیل کے میدانوں کی رونقیں دیکھنے کے بھی خواہشمند ہیں اور وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ انہیں سیکیورٹی وغیرہ کے جھنجھٹ میں نہ پڑنا پڑے۔ انتظامیہ اور حکومت کھیل کے فروغ پر توجہ دینے کے ساتھ عوام کی پریشانیوں پر بھی ایک نظر ڈال لے تو مسائل کافی حد تک کم ہوسکتے ہیں۔ ملک میں انٹرنیشنل میچز کا انعقاد ضرور کیجئے مگر سیکیورٹی کے نام پر عوام کو خوار نہ کیجئے۔ آبادی میں اضافے کے باعث شہر سے باہر بنائے جانے والے کرکٹ گراؤنڈز اب شہر کے بیچوں بیچ آگئے ہیں۔ اس وجہ سے بھی عوام کو زیادہ مسائل جھیلنا پڑتے ہیں۔ اس ضمن میں اگر چھوٹے شہروں میں کھیلوں کے انٹرنیشنل میدان بنائے جائیں تو کافی بہتری آسکتی ہے۔ چھوٹے شہروں کو سیکیورٹی کے نام پر بند بھی کردیا جائے تب بھی ملکی معیشت کو اتنا نقصان نہیں پہنچتا جتنا بڑے شہروں کو بند کرنے سے پہنچتا ہے۔

کھیلوں کا مقصد عوام کو تفریح فراہم کرنا اور نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا ہوتا ہے۔ کھلاڑیوں اور جگہ کےلیے سیکیورٹی فراہم کرتے ہوئے عوام کو ہی مشکلات میں ڈال دینا درست نہیں۔ سڑکیں بند، کاروبار بند سیکیورٹی کی بنا پر گن اٹھائے اہلکار، جیسے اسٹیڈیم نہیں میدان جنگ ہو۔ ان تمام باتوں میں عوامی مسائل کو پس پشت ڈال دینا عقلمندی نہیں۔ شہریوں کا اتنا بھی امتحان نہ لیجئے کہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں کہ اس سے تو بہتر تھا ملک میں میچز ہوتے ہی نہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

مقبول خبریں