انتہا پسندی اور فرقہ واریت کا وسیع تناظر
مشرق وسطیٰ کے متعدد ملک بھی خانہ جنگی جیسی صورتحال میں ہیں جہاں شخصی اور جماعتی آمریتوں کے خلاف مسلح اور پرُتشدد۔۔۔
راولپنڈی میں ہونے والے سانحہ کے بارے میں تحقیقات ہو رہی ہیں کہ یہ سانحہ کیسے رونما ہوا، اور اس میں ملوث شرپسند کون تھے، ان کی وابستگی کن تنظیموں سے تھی، مقامی انتظامیہ کی نااہلی کا اس سانحے میں کتنا عمل دخل تھا اور اگر یہ سب کچھ ایک طے شدہ منصوبے کے تحت ہوا تو ہمارے انٹیلی جنس ادارے اس سے لاعلم کیوں تھے؟
اس حوالے سے عدالتی کمیشن کام شروع کر چکا ہے اور ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بھی چند دنوں میں اپنی رپورٹ پیش کر دے گی جس سے اہم حقائق ضرور سامنے آئیں گے اور مستقبل میں ایسے سانحات سے بچنے اور غیر معمولی صورتحال میں درست حکمت عملی اختیار کرنے میں یقیناً مدد ملے گی۔ تاہم، اس امر پر بھی غور کی ضرورت ہے کہ انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی کا مسئلہ محدود نہیں بلکہ ایک وسیع تناظر رکھتا ہے۔ اس کی سنگینی کا درست اندازہ لگانے کے لیے داخلی اور عالمی قوتوں کے کردار کا تجزیہ کرنے اور اس حوالے سے حقائق کو سمجھے بغیر، مستقبل میں ایسے سانحوں کو رونما ہونے سے روکنا آسان نہیں ہو گا۔
پاکستان میں داخلی طور پر فرقہ واریت کے فروغ میں ان قوتوں کا کلیدی کردار رہا ہے جو آئین اور قانون کو پامال کرتے ہوئے ریاست پر طویل عرصے تک قابض رہ چکی ہیں جمہوری طاقتوں کو کمزور کرنے کا اہم اور مؤثر طریقہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو رنگ، نسل، زبان، مذہب اور مسلک کی بنیاد پر تقسیم کر دیا جائے تا کہ ایسی جماعتوں کا اثر محدود کیا جا سکے جو ان امتیازات سے بالاتر ہو کر عوام میں مقبولیت رکھتی ہیں۔ تقسیم کرو، اور حکومت کرو، یہ غاصب حکمرانوں کا پرانا اور آزمودہ نسخہ ہے جس پر پاکستان میں بہت مہارت سے عمل کیا گیا ہے۔ جنرل ایوب خان نے پاکستان میں نسلی اور لسانی منافرت کو بام عروج پر پہنچایا۔ مشرقی اور مغربی پاکستان میں نسلی اور لسانی بنیاد پر منافرت کی ایسی خلیج پیدا ہوئی جسے پاٹنا ممکن نہیں تھا اور جس کا ثبوت 1971ء میں سامنے آ گیا۔ جنرل ضیاء الحق نے مذہبی اور مسلکی منافرت کو فروغ دیا۔ سوویت یونین کی افغانستان میں مداخلت اور امریکا اور سعودیہ کی مدد سے افغان جہاد کے آغاز نے پاکستان کو فرقہ وارانہ طاقتوں اور بین الاقوامی دہشتگردوں کا اہم مرکز بنا دیا۔
جنرل ضیاء الحق کو نہ اسلام اور نہ کسی مسلک سے کوئی خاص عشق تھا۔ انھیں اپنا اقتدار عزیز تھا جس کے لیے وہ عالمی طاقتوں بالخصوص امریکا کے آلۂ کار بنے اور جہاد کے نام پر افغانستان میں لڑی جانے والی اس جنگ نے افغانستان کو کم اور پاکستان کو کہیں زیادہ نقصان پہنچایا۔ فرقہ واریت، ڈرگ اور اسلحے کا کلچر، جمہوری اداروں کا خاتمہ اور عالمی دہشتگردوں کی پرورش اور تربیت کے اثرات ملک کے تمام اداروں پر مرتب ہوئے۔ سول انتظامیہ، سول انٹیلی جنس ادارے، فوج اور اس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں میں مذہبی اور مسلکی انتہا پسند در آئے جس کی وجہ سے آج یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ راولپنڈی کے سانحے میں سرکاری افسروں اور بعض نادیدہ قوتوں کے ملوث ہونے کے بارے میں تحقیقات کی جائیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ انتہا پسند قوتوں کے بھرپور اثرات نہ صرف سول اور فوجی اداروں بلکہ بعض سیاسی جماعتوں اور عدلیہ سمیت سماج کے مختلف طبقوں میں موجود ہیں۔
حالات میں اہم تبدیلی اس وقت رونما ہوئی جب 9/11 کا واقعہ ہوا۔ اس کے بعد ہی امریکا کو اندازہ ہوا کہ اس نے سوویت یونین کے خلاف جن جہادیوں کو مذہب کے نام پر استعمال کر کے بے سہارا چھوڑ دیا تھا وہ جہاد کا رخ اپنے ماضی کے مربی اور سرپرست، امریکا کے خلاف موڑ چکے ہیں اور جس القاعدہ کو اس نے افغانستان میں اڈے، ہتھیار اور افرادی طاقت مہیا کی تھی اس نے افغانستان میں اپنے قدم جما لیے ہیں۔ امریکا پر القاعدہ کے خوفناک حملوں نے عالمی سیاست کے پورے منظر نامے کو تبدیل کر دیا۔ امریکا نے اقوام متحدہ کی اجازت سے ایساف افواج کے ساتھ افغانستان میں فوجی مداخلت کی۔
جس ملک میں امریکا نے 1979ء میں اپنے عالمی دشمن سوویت یونین کی فوجی مداخلت کے بعد پہلا اسلامی جہاد شروع کرا دیا تھا اسی ملک میں خود امریکا کے خلاف 2002ء میں ایک دوسرا اسلامی جہاد شروع ہو گیا۔ اس وقت پاکستان میں چوتھے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف حکمرانی کے مزے لوٹ رہے تھے۔ افغانستان کے معاملات میں فوجی حکمران بہت زیادہ ملوث رہ چکے تھے اور ماضی کے جہادیوں پر ان کا گہرا اثر و رسوخ تھا لہٰذا امریکا نے جنرل پرویز مشرف پر ساتھ دینے کے لیے دباؤ ڈالا اور وہ اس کے سامنے ڈھیر ہو گئے۔ ان کے سامنے اصل مقصد امریکا کو مدد فراہم کر کے اپنے اقتدار کو طول دینا تھا۔ جنرل صاحب اس مقصد میں کسی حد تک تو کامیاب ہو گئے لیکن اس کے نتیجے میں دو بھیانک نتائج برآمد ہوئے۔
اول یہ کہ دہشتگردی کی یہ جنگ پاکستان کے اندر داخل ہو گئی اور دوم یہ کہ القاعدہ نے ملک کے اہم ترین اور حساس اداروں، مخصوص مذہبی و مسلکی تنظیموں اور جماعتوں کے اندر خود کو مضبوط کرنا شروع کر دیا۔ 2013ء تک کے نتائج یہ ہیں کہ دہشتگردوں کے حملوں سے کوئی جگہ، ادارہ اور شخصیت محفوظ نہیں ہے۔ 40 ہزار شہری اور 6 ہزار فوجی موت کا شکار ہو چکے ہیں۔ اتنے طویل اور کربناک نتائج سے گزرنے کے بعد ہمارے مقتدر ترین حلقوں اور اہم سیاسی قوتوں کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا کہ وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ کہنے پر مجبور ہوں۔
اس امر کے شواہد نظر آ رہے ہیں کہ اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت ایک صفحے پر آ چکے ہیں اور دونوں میں یہ اتفاق رائے پیدا ہو رہا ہے کہ دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خلاف بھرپور مزاحمت نہ کی گئی تو ملک خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے جس کے بعد کچھ باقی نہیں بچے گا۔ اس اہم پیش رفت کے بعد فرقہ وارانہ اور مذہبی انتہا پسند طاقتوں کے لیے سیاسی اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت میں واضح کمی محسوس کی جا سکتی ہے۔ لہٰذا یہ عناصر اور مختلف اداروں، تنظیموں میں موجود ان کے حامی، ملک کے اندر عدم استحکام برپا کر کے اہم سیاسی اور فوجی اداروں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انتہا پسند اور فرقہ پرست عناصر میں ملک کے اندر اپنے حامیوں اور سرپرستوں کی جانب سے حاصل حمایت میں بتدریج کمی سے تلخی اور غصہ پیدا ہوا ہے۔ ان کے غصے کی شدت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ عناصر پاکستان کے اندر جن ملکوں کی نیابتی (Proxy) جنگ لڑ رہے تھے وہ ملک بھی اب اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔ ایران طویل عرصے سے عالمی پابندیوں میں جکڑا ہوا ہے جس کے باعث اس کی معیشت بدترین بحران میں گھری ہوئی ہے۔ اس بحران کے سیاسی اور سماجی اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ معاشی پابندیوں اور داخلی بے چینی کا دباؤ اب ایران کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ عالمی تنہائی سے نکلنے کی سنجیدہ کوششیں کرے۔ چھ عالمی طاقتوں سے مذاکرات کے بعد یہ امید ہے کہ ایران اور عالمی برادری کے درمیان کوئی سمجھوتہ طے پا جائے گا اور ایران کے خلاف عائد پابندیاں ختم اور اس کے اربوں ڈالر کے منجمد اکاؤنٹس بھی بحال ہو جائینگے۔ اس حوالے سے ایران کو اپنے جوہری پروگرام کو عالمی قوانین کے تابع اور بیرون ملک مسلح جدوجہد کرنیوالے گروہوں کی حمایت میں کمی لانا ہو گی۔ اس تبدیلی کے اثرات پاکستان سمیت کئی عرب ملکوں میں نظر آئینگے۔
مشرق وسطیٰ کے متعدد ملک بھی خانہ جنگی جیسی صورتحال میں ہیں جہاں شخصی اور جماعتی آمریتوں کے خلاف مسلح اور پرُتشدد جدوجہد میں مذہبی انتہا پسند عناصر کا غلبہ بڑھ رہا ہے۔ یہ خبریں بھی ہیں کہ شام میں شمالی روس کے جنگجو اور پاکستانی طالبان کے جتھے بھی لڑائی میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ صورتحال تیل سے مالا مال بادشاہتوں کے لیے سخت تشویش کا باعث ہے کیونکہ اہم عرب ملکوں میں مذہبی شدت پسند قوتیں اقتدار پر غالب آ جاتی ہیں تو عرب بادشاہتیں براہ راست ان کے نشانے پر آ جائیں گی۔
سعودیہ اس صورتحال سے سخت مضطرب ہے جہاں سماجی اور سیاسی حقوق کی تحریک، سماجی میڈیا کے ذریعے منظم و مضبوط ہو رہی ہے۔ عورتیں کار نہ چلانے کے حکم کی خلاف ورزی کر کے گرفتاریاں دے رہی ہیں۔ القاعدہ کا آغاز بھی اسی ملک سے ہوا تھا اور یہ آج بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ ان عوامل کے پس منظر میں، بعض عرب ملک بالخصوص عرب بادشاہتیں جو ماضی میں پاکستان سمیت کئی ملکوں میں مخصوص مذہبی گروہوں کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہیں وہ اب خود مذہبی شدت پسندوں کے دباؤ میں آ چکی ہیں۔ لہٰذا یہ ملک بھی ماضی کی پالیسی تبدیل کر رہے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ پاکستان میں بھی ان کی حمایت پر تکیہ کرنے والے عناصر، حمایت سے محروم ہوتے چلے جائیں گے۔
سانحہ راولپنڈی سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ مسلکی انتہا پسند بھی خود کو دیگر مذہبی شدت پسند اور دہشت گرد گروہوں کی طرح داخلی اور بیرونی حمایت سے محروم ہوتا محسوس کر رہے ہیں۔ تنہائی کا خوف انھیں مہم جوئی پر اکسا رہا ہے۔ ان حالات میں حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ مقامی سطح پر اس سانحے کے اسباب و عوامل کا حتمی کھوج لگائے۔ تاہم، ملک کو اس مسئلے سے صرف اسی وقت نکالنا ممکن ہو گا جب داخلی طور پر حکومت اور اہم ریاستی ادارے باہمی تعلق کو مضبوط کریں اور بیرونی سطح پر ان ملکوں بالخصوص مسلمان ممالک سے اپنے رابطوں کو زیادہ مؤثر بنائیں جو مذہبی، مسلکی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے معاون و مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔