نیٹو سپلائی کیلیے متبادل انتظامات فضائی ترسیل کی بھی تجویز

نیٹوسپلائی روکنے سے اگر پاک امریکا کشیدگی بڑھتی ہے تو اس سے پاکستان شدید مالی مشکلات سے دوچار ہوجائے گا.


Irshad Ansari November 24, 2013

KARACHI: تحریک انصاف اوراس کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے نیٹو سپلائی روکنے سے امریکاکا اتنا نقصان نہیں ہوگا تاہم اگرمعاملات خراب ہوتے ہیں تو پاکستان کی مالی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا۔

اسی خدشے کے پیش نظروفاقی حکومت نے نیٹوسپلائی کے متبادل انتظامات کرلیے ہیںجس کے تحت معاملہ حل نہ ہونے تک سپلائی طورخم کے بجائے چمن کے راستے جاری رکھنے کافیصلہ کیا گیاہے جبکہ فضائی راستے سے بھی نیٹوسامان کی ترسیل کی تجویزکا جائزہ لیاجا رہاہے۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے ابتدائی طورپر معاملے کے سیاسی حل کی کوششیںشروع کردی ہیںتاہم سیاسی کوششیں ناکام ہوئیںتو دوسری صورت میں قانونی راستہ اختیارکیا جائے گا۔ نیٹوسپلائی روکنے سے اگر پاک امریکا کشیدگی بڑھتی ہے تو اس سے پاکستان شدید مالی مشکلات سے دوچار ہوجائے گا کیونکہ اتحادی سپورٹ فنڈ کی مد میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی ادائیگی روک لی جائیگی یاتاخیر کا شکار ہوسکتی ہے۔ اسی طرح کیری لوگر بل کے تحت بحال کردہ ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد اور دونوں ممالک کے اسٹریٹجک ڈائیلاگ بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔



اس ڈائیلاگ کے لیے سیکریٹری دفاع آصف یاسین ملک اس وقت امریکامیں موجودہیں۔ اس حوالے سے جب وزارت خزانہ، وزارت دفاع اور ایف بی آرکے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیاگیا توانھوں نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نیٹوسپلائی روکنے کا فیصلہ غیرقانونی ہے کیونکہ یہ قانونی طور پر وفاقی معاملہ ہے۔ سپلائی کی بحالی کے لیے 2012 میں گرائونڈ لائن کمیونی کیشن معاہدہ بھی وفاقی حکومت نے کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ عمران خان کا نیٹو سپلائی روکنے کا فیصلہ غیرآئینی ہے تاہم اس کے باوجود مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا کیونکہ حکومت تصادم کی راہ اختیار کرنے کے حق میں نہیں۔ خیبرپختونخوامیں گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے سوال کے جواب میں وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی قدم نہیں اٹھایا جائے گااور نہ ہی اس کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے۔ کوشش کی جائے گی کہ معاملہ افہام و تفہیم سے سلجھا لیا جائے ۔ ایک سوال پر حکام کا کہنا تھا کہ اگر خیبرپختونخواحکومت کی طرف سے نیٹو سپلائی روکنے کا کوئی تحریری آرڈر جاری کیا جاتا ہے تو اس کا قانونی جائزہ لیا جائے گا۔

مقبول خبریں