افغان لویہ جرگے کا صدر کرزئی کو امریکا کیساتھ قومی سلامتی کے معاہدے پر فوری دستخط کرنے کا حکم

افغان صدر حامد کرزئی کو اس بات کا کوئی اختیار نہیں کہ وہ معاہدے پر دستخط کرنے کے حوالے سے کچھ کہیں، سربراہ لویہ جرگہ


AFP November 24, 2013
افغان حکومت نے معاہدے پرجلد دستخط نہ کئے تو افغانستان کو دی جانے والی امداد خطرے میں پڑ سکتی ہے، وائٹ ہاؤس۔ فوٹو؛ فائل

ISLAMABAD: افغان لویہ جرگہ کے ارکین نے افغان صدر حامد کرزئی پر زور دیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ قومی سلامتی کے معاہدے پر فوری طور پر دستخط کردیں تاہم حامد کرزئی بضد ہیں کہ قومی سلامتی کے معاہدے پر دستخط اپریل 2014 کے صدارتی انتخابات کے بعد ہونے چاہیئیں۔

لویہ جرگہ کے سربراہ سبغت اللہ مجاددی کا کہنا تھا کہ افغان صدر حامد کرزئی کو اس بات کا کوئی اختیار نہیں کہ وہ معاہدے پر دستخط کرنے کے حوالے سے کچھ کہیں، وہ اس طرح کا بیان دے کر غلطی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے افغانستان میں 2014 کے بعد فوجیوں کی تعیناتی کے حوالے سے تمام شرائط مان لیں ہیں، اگر افغان صدر نے یہ معاہدہ قبول نہ کیا تو اس سے افغانستان کو نقصان ہو گا۔

لویہ جرگہ کے ایک اور رکن عبد القیوم کا کہنا تھا کہ افغانستان اور امریکا کے درمیان قومی سلامتی کے معاہدے کے حوالے سے افغان عوام کو اس معاہدے کی ایک شق پر اعتراضات تھے جسے کچھ ترامیم کے بعد ٹھیک کرکے منظور کر لیا گیا ہے لہٰذا اب اس معاہدے پر دستخط نہ کرنے کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا۔

واضح رہے کہ افغانستان اور امریکا کے درمیان 2014 کے بعد افغانستان میں تقریبا 15 ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے حوالے سے معاہدے پر اتفاق ہو چکا ہے تاہم معاہدے کی حتمی منظوری کے لئے لویہ جرگہ میں اس حوالے سے بحث جاری ہے۔ دوسری جانب امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر افغان حکومت نے قومی سلامتی کے معاہدے پر اس سال کے آخر تک دستخط نہ کئے تو جنگ زدہ افغانستان کو دی جانے والی امداد کا ایک بڑا حصہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے امریکا افغانستان میں فوجیوں کی تعیناتی کے حوالے سے معاہدے پر جلد پیشرفت چاہتا ہے۔