کسٹم کراچی کا کریک ڈاؤن 61 غیرقانونی پٹرول پمپ مسمار

سمندری راستوں سے اسلحے کی اسمگلنگ کے شواہد نہیں ملے، کلکٹر کسٹم طارق ہدیٰ


کراچی:کلکٹر کسٹم طارق ہدیٰ غیرقانونی پٹرول پمپوں کیخلاف آپریشن کی تفصیلات صحافیوں کو بتارہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

کسٹم حکام نے پولیس و رینجرز کے ہمراہ ناردرن بائی پاس پر غیر قانونی پٹرول پمپوں کیخلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 61 پٹرول پمپ مسمار کردیے جبکہ بھاری مقدار میں ڈیزل، 100 سے زائد ڈسپنسر اور دیگر سامان ضبط کرلیا گیا۔

ضبط شدہ سامان کی مالیت تقریباً ایک ارب روپے ہے، کارروائی کے دوران کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ یہ بات کلکٹر کسٹم پریونٹو طارق ہدیٰ نے اتوار کو کسٹم ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ طارق ہدیٰ نے بتایاکہ کسٹم حکام نے آپریشن انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر پولیس و رینجرز کے ہمراہ مشترکہ طور پر کیا۔مسمار کیے گئے پٹرول پمپوں پر عرصہ دراز سے غیر قانونی طور پرایرانی ڈیزل اور پٹرول فروخت کیا جاتا تھا۔ طارق ہدیٰ نے بتایا کہ کارروائی کے دوران کسٹم کو کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور تمام افراد فرار ہوگئے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے خفیہ نیٹ ورک بچھادیا گیا ہے اور جلد ہی ملزمان قانون کے کٹہرے میں ہوں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کسٹم حکام کی جانب سے کریک ڈائون جاری رکھا جائے گا۔ غیر قانونی پمپوں کی وجہ سے قانونی طور پر کام کرنے والے افراد اور کمپنیاں مسابقت سے قاصر تھیں جبکہ اسمگل شدہ پٹرولیم مصنوعات کے استعمال سے عام صارف کو گاڑی میں فنی خرابیوں کی صورت میں بھی نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔



کلکٹر کسٹم نے پریس کانفرنس سے خطاب میں اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ غیر قانونی پٹرول پمپس کے خلاف بلا تفریق اور سیاسی مصلحتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے یکساں کارروائی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ حب ریور روڈ اور ناردرن بائی پاس پر سیکڑوں کی تعداد میں غیر قانونی پٹرول پمپ قائم ہیں ۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق طارق ہدیٰ نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی سمندری حدود کی حفاظت میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی، کوسٹ گارڈز، کسٹم اور نیول انٹیلیجنس کرتی ہے، تاحال سمندری راستوں سے اسلحے کی اسمگلنگ کے شواہد نہیں ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی و صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ شہر سے بدامنی ختم کی جائے اور سیکیورٹی اداروں کی مشترکہ کارروائی سے کراچی میں بدامنی پھیلانے والے عناصر کو سخت پیغام دیا گیا ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے مزید معلومات ملنے کے بعد کوشش ہے کہ اسمگلنگ کیلیے استعمال ہونے والے راستے مکمل بلاک کردیں۔