عمران جتنے دھرنے دیں نیٹو سپلائی پر فرق نہیں پڑیگا شرجیل میمن

میں بھی خبریں دیکھ رہا ہوں لیکن ایم کیوایم کی حکومت سندھ میں شمولیت زیر غور نہیں


Numainda Express November 25, 2013
فوٹوسیشن کے لیے دھرنے دینے کے ذریعے عوام کو مزید بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا۔ فوٹو:فائل

صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ عمران خان چاہے کتنے دھرنے دیںلیکن اس سے نیٹوسپلائی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

انکا دھرنا فوٹوسیشن کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، اگردھرنے دینے ہیں توپھر مستقل دیں، فوٹوسیشن کے لیے دھرنے دینے کے ذریعے عوام کو مزید بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا۔ متحدہ قومی موومنٹ کی سندھ حکومت میں شمولیت کے حوالے سے وہ خود اخبارات میں خبریں پڑھنے کے علاوہ ٹی وی چینلوں پر ٹکر دیکھ رہے ہیں لیکن اس قسم کا کوئی بھی پروگرام اس وقت زیر غور نہیں ہے۔ محکمہ بلدیات میں ساڑھے12 ہزار سے زائد ملازمین ایسے ہیں جن کا کوئی ٹریک ریکارڈ موجود نہیں کہ انھیں کس نے اور کس بنیاد پر بھرتی کیا گیا ہے لیکن یہ ملازمین دعوٰی کرتے ہیں انھیں ضوابط کے تحت بھرتی کیا گیا۔ یہ معاملہ سیاسی کے ساتھ ساتھ انتظامی بھی ہے اور اگر ہم ان تمام ملازمین کو ملازمتوں سے برطرف کرتے ہیں توپھر ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو جائے گا ۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے حیدرآباد پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر حیدرآباد پریس کلب کے جنرل سیکریٹری حامد شیخ اور سینیئر صحافی علی حسن بھی ان کے ہمراہ تھے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ محکمہ بلدیات میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ گھوسٹ ملازمین ہیں۔ محکمہ بلدیات کے نئے سیکریٹری کو ہدایت کی ہے کہ تمام ملازمین کے بائیو میٹرک سسٹم کے تحت نئے کمپیوٹرائزڈ سروس کارڈ بنائے جائیں تاکہ ملازمین کے متعلق معلومات حاصل ہو سکے۔ انھوں نے کہا کہ کراچی میں ہائیڈرنٹس مافیا ایک سنگین معاملہ ہے، میں نے واٹر بورڈ کو 4 روز کا وقت دیا تھا کہ 80 غیر قانونی ہائیڈرنٹس کو ختم کردیا جائے جن میں سے10 ہائیڈرنٹس کو مسمار کردیا گیا ہے۔ میں نے آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سے بھی بات کرکے انھیں غیرقانونی ہائیڈرنٹس ختم کرنیکی ہدایت کی ہے اور واضح کر دیا ہے کہ جس جگہ بھی غیرقانونی ہائیڈرنٹس ہوگا تو اس علاقے کا واٹر بورڈ انچارج، اہلکار اور متعلقہ ایس ایچ او برابر کے ذمے دار ہونگے۔



ہم کسی کو بھی چوری یا بدمعاشی کی اجازت نہیں دیں گے اور حکومت کی رٹ کو ہرصورت قائم رکھیں گے۔انھوں نے کہا کہ غیرقانونی ہائیڈرنٹس ختم کرنے سے عوام کو نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہوگا، ہائیڈرنٹس مافیا غیرقانونی ہائیڈرنٹس کے ذریعے پانی فروخت کر کے روزانہ کروڑوں روپے ناجائز طریقے سے کماکر کراچی واٹربورڈ کو تباہ کررہی ہے۔ ہم رہ جانے والے70 غیرقانونی ہائیڈرنٹس کو ایک ہفتے میں بند کرائیں گے، جہاں کارروائی میں مزاحمت کا سامنا ہوگا وہاں ہم رینجرز اورپولیس کی مدد حاصل کریں گے۔ انھوںنے کہا کہ وہ حیدرآبادمیں صفائی سھترائی کی صورتحال سے مطمئن نہیں۔ ہم لطیف آبادمیں صفائی سھترائی کاکام نجی شعبے کو دینے جارہے ہیںجس کے بعد قاسم آباد اورحیدرآباد شہر میں بھی صفائی سھترائی کے معاملات کو نجی شعبے کے حوالے کردیاجائے گا۔

ایک سوال پر شرجیل میمن نے کہا کہ نیٹو سپلائی کی اجازت وفاقی حکومت نے دی ہے اور وہ چاہتے تو بند کرسکتی ہے، پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت نے سلالہ واقعے کے بعد مضبوط قدم اٹھاتے ہوئے نیٹوسپلائی بند کی اور جب امریکا نے معذرت کی تو سپلائی بحال کی گئی تھی لیکن اب وفاق میں ہماری حکومت نہیں۔ انھوںنے کہا کہ ہماری خواہش تھی کہ بلدیاتی الیکشن مارچ میں ہوں، چندروز میں اعلی سطح کا اجلاس ہوگا جس میں اس حوالے سے فیصلہ کیاجائے گا۔ ہم الیکشن کمیشن کی جانب سے دی جانے والی تاریخ پر الیکشن کرانے کے تیارہیں یا پھر مارچ میں الیکشن ہونے چاہئیں۔ہم نے توپہلے ہی کہا تھاکہ اگر27 نومبر کو بلدیاتی الیکشن ہوجاتے تواس کے نتیجے میں بہت خون خرابہ ہورہا ہوتا اوروہ تاریخ کے سب سے بدنظمی والے الیکشن ہوتے ۔