زرعی اصلاحات وسیع تر اتحاد کی ضرورت
اگر پاکستان کو ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہونا ہے تو اسے دو بڑی رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا جو اس کے۔۔۔
اگر پاکستان کو ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہونا ہے تو اسے دو بڑی رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا جو اس کے راستے میں آہنی دیوار بن کرکھڑی ہوئی ہیں۔ ایک نیم قبائلی جاگیردارانہ نظام دوسرا دہشت گردی اور بدقسمتی سے خود حکمران طبقہ ان دونوں بلاؤں کا مددگار اور محافظ بنا ہوا ہے۔ جاگیردارانہ نظام تو 66 سالوں ہی سے ترقی کے راستے کا پتھر بنا ہوا ہے اور دہشت گردی یا مذہبی انتہا پسندی پچھلے دس سال سے ترقی کے راستے کا دوسرا پتھر بنی ہوئی ہے۔
پاکستان میں ایک عرصے تک بائیں بازو کی جماعتیں جاگیردارانہ نظام کے خلاف جدوجہد کرتی رہیں لیکن اب وہ پیپلز پارٹی کے ریلے میں بہہ گئیں اور انتشار کا شکار ہو کر کمزور ہوگئیں تو متحدہ قومی موومنٹ جو ملک کی تیسری بڑی جماعت ہے ڈنکے کی چوٹ پر جاگیردارانہ نظام کے خلاف آواز بلند کرنے لگی سندھ اور پنجاب میں بھی کسان کمیٹیوں اور ہاری تنظیموں کی شکل میں جاگیردارانہ نظام کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے لیکن یہ آوازیں اس لیے کمزور ہیں کہ ان کے درمیان رابطہ اور اتحاد موجود نہیں، بائیں بازو کی کچھ جماعتیں بھی زرعی اصلاحات کے لیے جدو جہد کر رہی ہیں لیکن بوجوہ ان کی آواز بھی سیاست کے نقار خانے میں طوطی کی آواز بنی ہوئی ہے۔
پچھلے دنوں کچھ ایسے دوست برطانیہ سے کراچی آئے تھے جو پاکستان میں زرعی اصلاحات اور جاگیردارانہ نظام کے خاتمے میں دلچسپی رکھتے ہیں، کراچی کے کچھ دوستوں سے مشاورت کے بعد جس میں برادر مومن خان مومن پیش پیش ہیں اس حوالے سے ایک تنظیم قائم کرنے کا فیصلہ کیا جس کا نام ''پاکستان برطانیہ زرعی اصلاحات فورم'' رکھا گیا۔ اس فورم کے ایک وفد نے متحدہ کے رہنماؤں سے پاکستان میں زرعی اصلاحات کے لیے جدو جہد کے حوالے سے ملاقات کی اس ملاقات کے مثبت نتائج نکلنے کی امید ہے کیونکہ متحدہ اس حوالے سے ابتدا ہی سے اپنا واضح موقف رکھتی ہے۔ خود ہم نے زرعی اصلاحات کے مسئلے پر متحدہ کے ایک سینئر رہنما سے بات کی اور مجھے ذاتی طور پر بڑی خوشی ہوئی کہ متحدہ جیسی بڑی اور منظم جماعت اس حوالے سے آگے بڑھنے کی سنجیدہ کوشش کر رہی ہے اور سندھ کی ہاری کمیٹیوں اور پنجاب کا کسان تنظیموں سے رابطے پر غور کر رہی ہے۔
پاکستان میں پہلی زرعی اصلاحات ایوب خان کے زمانے میں ہوئیں لیکن ایوب خان کی زرعی اصلاحات جاگیردارانہ نظام کو توڑنے کے لیے نہیں بلکہ جاگیرداروں کو بلیک میل کرنے کے لیے کی گئی تھیں، ایوب خان کو ان کے مشیروں نے بتایا تھا کہ پاکستان میں اگر کوئی آپ کے راستے کا پتھر بن سکتا ہے تو وہ جاگیردار طبقہ ہوگا۔ سو ایوب خان نے اس طبقے کی طاقت کم کرنے کے لیے زرعی اصلاحات نافذ کیں لیکن جب وڈیروں اور جاگیرداروں نے ایوب خان کے آگے گھٹنے ٹیک دیے اور اسے سیاسی چھتری فراہم کرنے کے لیے مسلم لیگ کو دو حصوں میں بانٹ کر ایک حصہ کنونشن لیگ ایوب خان کی خدمت میں پیش کی۔ اور جاگیرداروں کو اپنی حکومت میں شامل کرلیا۔ یوں ایوب خان نے زرعی اصلاحات کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور جاگیردارانہ نظام جوں کا توں موجود رہا۔
ایوب خان کے بعد بھٹو نے بھی زرعی اصلاحات نافذ کیں لیکن بھٹو کی جماعت میں وڈیرے اور جاگیردار چونکہ طاقت پکڑ چکے تھے اس لیے بھٹو کی زرعی اصلاحات ناکام ہوگئیں اور اس حوالے سے بعد میں بھی جو کوششیں کی گئیں ان میں بھی کوئی سنجیدگی اور ایمانداری نہیں تھی اس لیے یہ کوششیں بھی ناکام رہیں۔ ورکرز پارٹی وغیرہ کی طرف سے سپریم کورٹ میں عابد حسن منٹو نے ایک پٹیشن شرعی عدالت کے فیصلوں کے حوالے سے داخل کی گئی ہے جو شریعت کورٹ کے اس فیصلے کے حوالے سے ہے جس میں زرعی زمین کو لامحدود ملکیت کو اسلامی اصولوں کے مطابق قرار دیا گیا ہے۔
اس فیصلے سے جاگیردارانہ نظام کو قانونی سہارا دستیاب ہوگیا ہے۔ ہم اس فیصلے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کریں گے کہ یہ ایک عدالتی فیصلہ ہے لیکن ہمارے ملک میں جاگیردارانہ نظام ملکی ترقی سیاسی پیش رفت میں جس طرح رکاوٹ بنا ہوا ہے یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو اس ملک کی ترقی چاہنے والے ہر فرد ہر جماعت کے لیے باعث تشویش ہے۔ چونکہ بڑی پارلیمانی جماعتوں پر وڈیرے اور جاگیردار قابض ہیں اس لیے ملک سے اس نظام کو ختم کرنے میں بہت مشکلات درپیش ہیں۔ اس کے برخلاف زرعی اصلاحات اور جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کی حامی جماعتیں بہت کمزور ہیں اس لیے 66 سال سے وڈیرے اور جاگیردار سیاست اور اقتدار پر قبضے کے لیے بیٹھے ہیں جاگیردارانہ نظام کے اس استحکام کی وجہ سے اب جاگیردار طبقہ اس قدر بے لگام ہوگیا ہے کہ اس نے باضابطہ ولی عہدی کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور صنعتی اشرافیہ بھی اپنی اولاد کو آگے لا کر سیاست کے دروازے مزدوروں، کسانوں، مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس کے لیے بند کرنے کی منظم کوششیں کر رہی ہے۔
جاگیردارانہ نظام دراصل ہندوستان میں مسلم حکمرانوں کی سیاسی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا۔ عوام کے غداروں کو جاگیریں منصب وغیرہ دے کر بادشاہوں نے انھیں عوام کے خلاف استعمال کیا۔ عوام سے ٹیکس وصول کرنے اور بادشاہوں کو جنگوں کے لیے سپاہی فراہم کرنا جاگیرداروں کی ذمے داری تھی جو اس نظام میں امرا کہلاتے تھے۔ انگریزوں نے جب ہندوستان پر قبضہ کیا اور ہندوستان کی مغلیہ سلطنت کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو ملک بدر کردیا گیا تو برطانوی حکومت کو ایسے معزز لوگوں کی ضرورت محسوس ہوئی جو ان کی حکمرانی میں غلاموں کی طرح ان کی اعانت کریں۔
سو انھوں نے جاگیردار طبقے کی سرپرست شروع کی یوں جاگیردارانہ نظام انگریزوں کی سرپرستی کی وجہ سے اور مستحکم ہوگیا۔ نواب، سر، خان، سردار جو مصنوعی اعتبار سے عوام کے غدار اور انگریزوں کے وفادار تھے معاشرے میں محترم بن گئے اور عوام کو ان ظالموں نے غلام بنا کر رکھ دیا۔ آج بھی جاگیرداروں اور وڈیروں کی ریاستوں میں ہاری اور کسان غلاموں کی زندگی گزار رہے ہیں اور جاگیردار انھیں اپنی جمہوری حکمرانیوں میں زینے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں ان مجبور عوام کو ہانک کر پولنگ اسٹیشنوں اور جلسوں جلوسوں میں لایا جاتا ہے اور ان کے کندھوں پر چڑھ کر ہی اقتدار کے ایوانوں میں پہنچا جاتا ہے۔ نو آبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد نو آزاد ملکوں میں زرعی اصلاحات کے ذریعے جاگیردارانہ نظام کو ختم کردیا گیا لیکن غالباً پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں جاگیردارانہ نظام نہ صرف موجود ہے بلکہ اس قدر مستحکم ہے کہ سیاست اور اقتدار اس کے گھر کی لونڈی بنا ہوا ہے اور مستقبل پر قبضہ برقرار کھنے کے لیے ولی عہد تیار کیے جارہے ہیں۔
بدقسمتی سے تقسیم ہند میں جو علاقے پاکستان کے حصے میں آئے وہ انتہائی پسماندہ اور جاگیرداروں، وڈیروں، سرداروں اور خانوں کے زیر تسلط علاقے تھے۔ جب ان علاقوں کے وڈیروں اور جاگیرداروں نے متحدہ ہندوستان میں اپنی جاگیروں کو ختم ہوتے دیکھا تو تقسیم کی حمایت شروع کی اور مسلم لیگ میں نہ صرف شامل ہوئے بلکہ اس میں فیصلہ کن طاقت بنتے چلے گئے۔ جب ملک تقسیم ہوا تو سیاست میں یہ طبقہ سب سے طاقتور طبقہ بن گیا اور 66 سال گزرنے کے بعد بھی یہ طبقہ ہماری سیاست پر روز اول کی طرح قابض ہے۔ اس کی طاقت کو توڑے بغیر ہمارا ملک نہ سیاسی میدان میں آگے بڑھ سکتا ہے نہ اقتدار کے ایوانوں پر اس کی گرفت کمزور پڑ سکتی ہے۔ اس عفریت سے نجات حاصل کرنا اس ملک کے عوام کی پہلی ضرورت ہے۔
سیاسی جدوجہد میں جو اتحاد بنتے ہیں ان میں عموماً سیاسی مفادات بنیادی محرک ہوتے ہیں۔ لیکن جو سیاسی جماعتیں ملک سے اس66 سالہ Status Quo کو توڑنے میں سنجیدہ ہیں ان کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اس Status Quo کو توڑنے کے ہر اس جماعت کے ساتھ اتحاد کریں جو اس جمود کے سب سے زیادہ طاقتور فریق جاگیردارانہ نظام کے خاتمے میں سنجیدہ اور مخلص ہو۔ بدقسمتی سے ہماری ترقی پسند جماعتیں قومی مسائل کے حوالے سے اتحاد بنانے یا اتحاد میں جانے کے لیے وقت کی ضرورتوں کے بجائے نظریاتی حوالوں سے اتحادوں میں شریک ہونے کے غیر منطقی اصولوں کو اپناتی ہیں جس کا نتیجہ مایوسی کی شکل میں نکلتا ہے۔
آج کی ضرورت جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ ہے اور اس ایک نکاتی اتحاد میں ہر اس جماعت کے ساتھ کھڑا ہونے کی ضرورت ہے جو جاگیردارانہ نظام کے خاتمے میں مخلص ہے اور اس کی اہمیت کو سمجھتی ہے متحدہ ایک بڑی اور منظم جماعت ہے اگر وہ اس حوالے سے آگے آتی ہے تو یقینا زرعی اصلاحات کی تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوسکتی ہے اور ایک ایسا وسیع تر اتحاد بن سکتا ہے جس کا مقابلہ کرنا جاگیردار طبقے کے بس کی بات نہیں ہوگا۔