غیر قانونی تجارت کے خلاف مہم ایک ماہ میں20کروڑ42لاکھ روپے کی اسمگل شدہ اشیا ضبط

غذائی اشیا،گاڑیاں،ڈیزل،کپڑا،کمبلیں،گٹکے،ٹائرز،سلنڈرز،ٹائلز،کھاد، انجن، آٹوپارٹس،سگریٹس اورغیرملکی کرنسی شامل


Business Reporter November 26, 2013
انسداداسمگلنگ مہم مستقل جاری رہے گی،ٹرانزٹ ٹریڈ کیلیے سرحدوں پر اسکینرزلگیں گے،چیف کلکٹرانفورسمنٹ ساؤتھ ۔ فوٹو : محمد عظیم / ایکسپریس

محکمہ کسٹمز ساؤتھ کے 4 کلکٹریٹس نے سپریم کورٹ کے احکام کے بعدایک ماہ کے مختصردورانیے میں20 کروڑ42 لاکھ91 ہزار روپے مالیت کی اسمگل شدہ اشیا ضبط کر کے مثال قائم کردی۔

یہ بات چیف کلکٹر انفورسمنٹ ساؤتھ محمد یحیٰ نے کلکٹرکسٹمزپریونٹیوطارق ہدیٰ کے ہمراہ کسٹم ہاؤس کراچی میں پیرکوپریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ملکی تاریخ میں پہلی بار صرف ایک ماہ کے دوران پریونٹیوکلکٹریٹ حیدرآباد، کوئٹہ اور گوادر نے سندھ اور بلوچستان میں مختلف چھاپوں کے دوران متعدد اشیا اسمگل کرنے کی کوششوں کا ناکام بنایا جبکہ جناح انٹرنیشنل سمیت مختلف ایئرپورٹس سے 5 کلوگرام ہیروئین بھی قبضے میں لی گئی۔

چیف کلکٹرانفورسمنٹ نے بتایا کہ31 اکتوبر سے23 نومبرتک محکمہ کسٹمز کی انسداد اسمگلنگ مہم کے تحت جن اشیا کو ضبط کیا گیا ہے ان میں49 گاڑیاں، 2 لاکھ32 ہزار لیٹرڈیزل، 70 ہزار یارڈ کپڑا، 4449 کمبلیں، گٹکے کی188 بوریاں، 1939 نئے اورپرانے ٹائرز، 90 سی این جی سلنڈرز، 6 موٹربوٹ لانچیں، ڈٹرجینٹ پاؤڈر کے764 بیگز، ٹائلز کے3314 کارٹنز، 89 ایل ای ڈی اسمارٹ ٹی وی سیٹس، 1646 لیٹر موبل آئل، کھاد کی 1400 بوریاں،8960 کلوگرام غیرملکی انجیر، 75250 کلو گرام غیرملکی پیاز، منرل گریس کے 35045ڈرم، وسیع مقدار میںنئے پرانے انجن، شاک ابزرور، آٹوپارٹس، ہیڈ لائٹس، پلاسٹک اسکریپ، وہیکلزسیٹس، خشک دودھ، 800 کلوگرام غیرملکی ویجیٹیبل آئل، 45 کلوگرام ایسڈ بلیچ کے علاوہ غیرملکی کرنسیوں میں1 لاکھ51 ہزار500 سعودی ریال، 1965 اماراتی درہم، 5474 امریکی ڈالر،5000 تنزانوی شرلنگ، 3000 روانڈین کرنسی، 4052 کلوگرام سیاہ چائے، 74ہزار20 پیکٹس سگریٹس، 312 کلوگرام انڈر گارمنٹ ہکس، 5 موٹرسائیکلز،16750 کلوگرام پوپی سیڈز کے علاوہ دیگر اشیا بھی شامل ہیں۔



محمد یحیٰ نے بتایا کہ اسمگلنگ کے خلاف کسٹمز ڈپارٹمنٹ کی اس مہم میں دیگرمتعلقہ ایجنسیوں کا تعاون بھی حاصل رہا ہے،یہ مہم مستقل بنیادوں پر جاری رہے گی تاہم اس کے لیے محکمہ کسٹمز کو افرادی قوت کی قلت کا سامنا ہے کیونکہ مذکورہ چاروں کلکٹریٹس میں عملے کی مجموعی تعداد1700 ہے جو ناکافی ہے جس میں اضافے کے لیے محکمہ کسٹمز نے وفاق سے درخواست کی ہے، امید ہے کہ جلد ہی محکمہ کسٹمز میں بھرتیوں کا آغاز ہوجائے گا۔

ایک سوال پر چیف کلکٹرکسٹمز نے بتایا کہ ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے چمن اور طورخم سرحدوں پر اسکینرز لگائے جارہے ہیں جبکہ ٹرانزٹ کنسائنمنٹس کی موثرنگرانی کے لیے محکمہ کسٹمز نے پہلے ہی ٹرانزٹ ٹریڈ وہیکلز پرٹریکنگ سسٹم نصب کرادیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ کسٹمز کی نشاندہی پر ایف آئی اے غیرملکی کرنسیوں کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف مستعد ہوگئی ہے،اتوار کومسمار کیے جانے والے 61 ڈبہ پٹرول پمپوں کے ذریعے ایرانی اسمگل شدہ ڈیزل اور پٹرول فروخت کیے جارہے تھے، محکمہ کسٹمز کو اگر ان ڈبہ پٹرول پمپوں میں کسی بھی بااثر شخصیت کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے تو تمام مصلحتوں کو بالائے رکھتے ہوئے ان کے نام بھی ایف آئی آر میں درج کیے جائیں گے۔