کراچی اسٹاک مارکیٹ میں مندی179پوائنٹس کی کمی

58.23 فیصد حصص کی قیمتیں کم،سرمایہ کاروں کے6 ارب93 کروڑ70 لاکھ روپے ڈوب گئے


Business Reporter November 27, 2013
بیشترشعبوں کی پرافٹ ٹیکنگ مندی کا سبب بنی، عارضی ثابت ہوسکتی ہے، ماہرین اسٹاک ایکسچینج فوٹو: آن لائن/ فائل

نیٹوسپلائی کی بندش کے منفی اثرات حصص کی تجارت پر بھی مرتب ہوئے۔

کراچی اسٹاک ایکس چینج میں ایک روزہ وقفے کے بعد منگل کو دوبارہ مندی کے اثرات غالب ہوگئے جس انڈیکس کی23900 اور23800 کی حدیں بیک وقت گرگئیں، 58.23 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے6 ارب93 کروڑ70 لاکھ33 ہزار206 روپے ڈوب گئے، ماہرین کا کہنا ہے کہ بیشترشعبوں کی پرافٹ ٹیکنگ مندی کا سبب بنی ہے تاہم یہ عارضی ثابت ہوسکتی ہے، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر13.09 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن منافع کے حصول پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے سبب یہ تیزی عارضی ثابت ہوئی اور مارکیٹ میں مندی کے اثرات غالب ہوئے۔



ٹریڈنگ کے دوران بینکوں ومالیاتی اداروں، میوچل فنڈز، این بی ایف سیز، انفرادی سرمایہ کاروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر84 لاکھ79 ہزار983 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری بھی کی گئی لیکن اس سرمایہ کاری کے باوجود مارکیٹ میں مطلوبہ تیزی رونما نہ ہوسکی کیونکہ ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں کی جانب سے62 لاکھ21 ہزار 308 ڈالر اور مقامی کمپنیوں کی جانب سے22 لاکھ58 ہزار675 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا جو مندی کا باعث بنا۔

کے ایس ای 100 انڈیکس179.59 پوائنٹس کی کمی سے23798.70 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس186.25 پوائنٹس کی کمی سے17895.86 اور کے ایم آئی30 انڈیکس378.80 پوائنٹس کی کمی سے 40031.59 ہوگیا، کاروباری حجم 8.38 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر12 کروڑ92 لاکھ63 ہزار730 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار340 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا۔