حیدرآباد فائرنگ پولیس افسران تحقیقات کے رخ کا تعین نہ کرسکے

وزیراعلیٰ سندھ نے 2روز قبل خبردارکیا تھا،دہشت گردوں نے پولیس کی رٹ کوہی چیلنج کردیا


Numainda Express November 27, 2013
حیدرآباد: لطیف آباد نمبر8میں ایک ہوٹل کے باہر پولیس اہلکاروں پر حملے کے بعد جائے وقوع پر خون پھیلا ہوا ہے، پولیس اہلکار اور لوگ جمع ہیں۔ فوٹو شاہد علی/ایکسپریس

حیدرآباد میں پولیس افسران منگل کو ہونے والے واقعات کی تحقیقات کا آغاز کس رخ پر کریں وہ اس کا تعین نہیں کر سکے۔

ایک ساتھ 4 پولیس اہلکاروں کی شہادت کے خبر سن کر وہاں پہنچنے والے پولیس افسران انتہائی بے یقینی کی صورتحال میں پائے گئے لاشیں دیکھنے کے بعد بھی آپس میں گفتگو کرتے ہوئے وہ اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے کہ حیدرآباد میں اس قسم کی دہشت گردی ہو سکتی ہے۔



واضح رہے کہ وزیر اعلی سندھ نے دو روز قبل ہی حیدرآباد میں پولیس حکام کو خبردار کیا تھا کہ دوہفتوں کے اندر حیدرآباد ڈویژن اور شہر میں جرائم پیشہ سرگرمیوں پر قابو پایا جائے بصورت دیگر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی لیکن اس کی وارننگ کو ابھی 72گھنٹے بھی نہیں گزرے ہیں دہشت گردوں نے حکومت اور پولیس کی رٹ کو ہی چیلنج کر دیا ہے۔