بھارتی وفدکی کراچی چیمبرآمدمقامی کرنسیوں میں تجارت پر زور

پاکستان بھارت کوپسندیدہ قراردیدے توتجارت بڑھنے کے ساتھ فضاپرامن ہو جائیگی،کاملیش


Business Reporter November 28, 2013
پاکستان بھارت میں بالواسطہ تجارت بڑھ رہی ہے لیکن براہ راست تجارت کی مالیت صرف2 ارب ڈالر تک محدود ہےصدرگجرات چیمبر آف کامرس۔ فوٹو : این این آئی

بھارتی تاجروں نے بھی مقامی کرنسؤں میں دوطرفہ تجارت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی ڈالر میں تجارت سے پاکستان اور بھارت کو شرح مبادلہ کے فرق سے بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

یہ بات سدرن گجرات چیمبرآف کامرس کے صدر کاملیش یاگنک نے بدھ کو کراچی چیمبر آف کامرس میں تاجروں و صنعت کاروں سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت میں بالواسطہ تجارت بڑھ رہی ہے لیکن براہ راست تجارت کی مالیت صرف2 ارب ڈالر تک محدود ہے، اگر پڑوسی ملک ہونے کے ناطے براہ راست تجارت کو فروغ دیا جائے اور دونوں ممالک کی تاجربرادری مشترکہ کاوشیں کرے تو آئندہ10 سال میں پاک بھارت تجارتی حجم25 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے تاہم اس ہدف کو پورا کرنے میں دونوں ممالک کی حکومتوں کا کردار بھی اہم ہے، دوطرفہ تجارت25 ارب ڈالر تک پہنچنے سے دونوں ممالک کے40 کروڑ غریب عوام مستفید ہوسکیں گے۔



کاملیش یاگنک نے کہا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں بھارت کو ایم ایف این کا درجہ دینے کے حق میں ہیں، اگر اس پر حکومت پاکستان عمل درآمد کرے تو باہمی تجارت کو فروغ کے علاوہ دونوں ممالک میں امن کی فضا قائم ہوجائے گی۔ انھوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان نان ٹیرف بیریئرز، ویزوں کی سخت شرائط، پولیس رپورٹنگ ودیگر مسائل برقرار ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ سدرن گجرات چیمبر آف کامرس ویزاپالیسی اور پاکستانی تاجروں کو بھارت میں پیش آنے والی مشکلات کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ مرتب کرکے متعلقہ بھارتی اداروں کو ارسال کرے گاتاکہ مشکلات کا حل نکالا جاسکے۔

اس موقع پربزنس مین گروپ کے چیئرمین سراج قاسم تیلی نے کہاکہ پاکستانی تاجر بھارت سے یکطرفہ تجارت نہیں بلکہ برابری کی بنیاد پر تجارتی روابط اختیار کرنا چاہتے ہیں، وقت آگیا ہے کہ بھارت کوپسندیدہ ملک کا درجہ دے دیا جائے۔ کراچی چیمبرآف کامرس کے صدر عبداللہ ذکی نے ویزے میں حائل رکاوٹوں کودور کرنے اورتجارت کے وسیع مواقع دستیاب بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ٹریڈ انفرااسٹرکچر کو مزید بہتر بنایا جائے اور تجارتی سہولتوںکی فراہمی کے بھی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے بینکنگ اور سرمایہ کاری سے متعلق مسائل کا بھی تذکرہ کیا جوسرمایہ کاری میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ عبداللہ ذکی نے دوطرفہ تجارت بڑھانے کیلیے سرحدوں پرمزیدکراسنگ پوائنٹس قائم کرنے کی بھی تجویز دی۔ بعدازاں دونوں چیمبر آف کامرس کے درمیان ایک ایم او ؤ پر دستخط کیے گئے۔