اوآئی سی بھارتی انتہا پسندوں کوروکے

دریں اثنا او آئی سی نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو قابل مذمت قرار دیا ہے


Editorial March 07, 2020
دریں اثنا او آئی سی نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو قابل مذمت قرار دیا ہے

ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام پر دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل رنجیدہ ہیں ، جمعرات کو اپنے ایک ٹویٹ میں سید علی خامنہ ای نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ہندو انتہاپسندوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل عام روکے اور خود کو مسلمان دنیا میں تنہا ہونے سے بچائے۔

یہ اپیل ایرانی سپریم لیڈر نے ایسے وقت میں کی ہے جب بھارت اپنے فسطائی طرز عمل ، جمہوریت دشمنی ، انسانیت سوز مائنڈ سیٹ اور آر ایس ایس کے جنونی ایجنڈے کی تکمیل میں ہوش سے بیگانہ ہوچکا ہے، وزیر اعظم نریندر مودی نے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے حقوق کی پامالی اور غیر انسانی اقدامات کی ایسی آگ بھڑکائی ہے جس میں خود بھارتی جمہوریہ کے محل سرا اور اس کے نام نہاد سیکولر ازم کو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔

عالمی برادری سمیت انسانی حقوق کی بیشتر تنظیمیں ، جمہوریت پسند ادارے اس رویے پر برہم ہیں کہ مسلمہ جمہوری اور انسانی اقدار سے مکالمہ کی کوئی گنجائش بھارتی حکومت اپنے پیش نظر رکھنے پر آمادہ نہیں ، اس تناظر میں سید علی خامنہ ای کی یاد دہانی بھارت کے لیے لمحہ فکریہ ہے بلکہ یہ بھارت میں پیدا شدہ اندوہناک صورتحال کی فوری اصلاح اور بی جے پی کی بر خود غلط سیاسی تنگ نظری ، ہلاکت آفرینی ، مریضانہ قوم پرستی اور فرقہ وارانہ ذہنیت سے اجتناب کی ایک انتباہی کال ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ دنیا میں جمہوری ریاستیں ، متحرک ذمے دار حکومتیں اور انسانیت کے پیرو کار اکیسویں صدی کے جدید تقاضوں سے متصادم نظریات کو قبول کرنے پر ہرگز تیار نہیں ، اسی طرح بھارت نے جس دیوانگی کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف لاقانونیت ، انسان دشمنی اور جمہوریت کش طرز عمل اپنا کر ہٹلر ازم کے جس نئے شرم ناک روپ میں بھارت کی تصویر کشی کا سلسلہ شروع کیا ہے وہ بھارت کے لیے خطرناک راستہ ہے جس پر چل کر وہ عالم انسانیت ، اقلیتوں کے بنیادی حقوق ، پر امن بقائے باہمی کے نصب العین اور زخم زخم خطے کے درماندہ مستقبل کو تباہی سے دوچار کریگا ، دنیا اور مظلوم و دکھی انسانیت کو ناگزیر جمہوری آدرش اور خیر سگالی کی ضرورت ہے اسے بھارتی حکومت بہت پیچھے چھوڑ چکی ہے۔

ادھر عالمی برادری اور اسلام دنیا کی اپنی روش بھی حریت پسندی اور انسانی حقوق کی بازیابی کی جدوجہد میں کس قدر ضعف وعدم دلچسپی اور بے حسی کا شکار ہے اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا ، جموں وکشمیر کے مظلوم عوام کو عالمی برادری اور مسلم امہ تقریباً بھول چکی ہے، مستحکم اور زبانی جمع خرچ کرنے والی انسانی حقوق اور عالمی امن و بھائی چارہ کے فروغ اور عدم تشدد کی علمبردار قوتیں کشمیری عوام کی آزادی ان کے حق استصواب رائے کے لیے عملی اقدام کے کسی اجتماعی مقصد اور منزل کے لیے موثر پلیٹ فارم سے کوسوں دور ہیں، یہ سارے حقائق ثابت کرتے ہیں کہ محض قراردادوں، اخباری بیانات، سیمینار، ملی نغموں اور ترانوں سے مودی کے ضمیر میں کوئی خلش پیدا نہیں ہوسکتی۔

اقبال کے بقول '' دل مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ۔'' اس وقت عالم اسلام کو ایک پیج پر آنے کی ضرورت ہے اور اس میں تاخیر سے جتنا نقصان خطے کے مشترکہ مفادات اور مقاصد کو پہنچے گا اس کا ادراک و احساس نہایت ضروری ہے، یہ امہ کی ساکھ کا مسئلہ ، مسلم دنیا کے عزم و ارادہ کی حقانیت کا سوال ہے۔ بھارت درحقیقت کشمیر اور متنازع شہریت قانون کی آڑ میں جس بیدردی سے مسلمانوں کی نسل کشی کر رہا ہے ، اس میں کئی سوال پوشیدہ ہیں ، ان کا جواب مظلوم کشمیریوں ، بھارتی مسلمانوں اور اقلیتوں کو چاہیے۔ مودی کی چنگیزیت اسلامی دنیا سے راست اقدام کی بجا توقع رکھتی ہے۔

دریں اثنا او آئی سی نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو قابل مذمت قرار دیا ہے، اسلامی تنظیم کے اسسٹنٹ سیکریٹری وکشمیر کے مستقل نمایندہ خصوصی یوسف الدہ نے کہا ہے کہ مسلم ممالک کی اسلامی تعاون تنظیم کشمیر کے مسئلہ کو اتنا ہی اہم سمجھتی ہے جتنا فلسطین کے مسئلہ کو، مسئلہ کشمیر او آئی سی کے ایجنڈے پر مستقل موجود ہے، اور اس کے وزرائے خارجہ کا ایک گروپ ہے، او آئی سی کی آخری کانفرنس مکہ مکرمہ میں ہوئی جس میں مجھے جموں وکشمیر کے مسئلہ کے لیے ایلچی بنایا گیا۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہار آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان کی جانب سے او آئی سی وفد کو دیے گئے ظہرانے میں کیا۔

انھوں نے کہا کہ کشمیرکا مسئلہ تاریخی ، سیاسی اور انسانی ہے، او آئی سی کے کنونشن میں وزرائے خارجہ کی مشترکہ رائے ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک اہم مسئلہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق 5 اگست کے ہندوستانی اقدامات کے فوری بعد اور6 اگست کو او آئی سی نے ایک خصوصی اجلاس بلایا اور او آئی سی کے رابطہ گروپ نے ہندوستان کے ان اقدامات کی شدید مذمت کی۔ ہم مقبوضہ کشمیرمیں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے ہندوستانی اقدام کی بھی مذمت کرتے ہیں۔

ہماری بہت ساری قراردادیں مسئلہ کشمیر کے امن کے لیے ہیں۔ قبل ازیں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی ذمے داری ہے کہ وہ کشمیر سے متعلق ہندوستانی بیانیے کو شکست دے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ آج جب کشمیر محصور اور مجبور ، مظلوم اور محکوم ہے او آئی سی مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کے مظالم کو رکوائے، اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دلوانے کے لیے ہندوستان پر دباؤ ڈالے۔وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر صائب پیش رفت کرتے ہوئے ترک صدر طیب اردوان کے بعد ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی جانب سے مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف آواز بلند کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

وزیر اعظم نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ترک صدر اور ایرانی رہبر اعلیٰ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف آواز بلند کی ہے ہم اس پر ان کے شکرگذارہیں۔ تاہم عمران خان نے حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم و بربریت کر رہی ہے۔

انھوں نے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ مسلم دنیا میں چند ہی آوازیں اس کی مذمت میں اٹھی ہیں جب کہ مسلم دنیا سے زیادہ احتجاج مغرب میں ہو رہا ہے۔ لہذا مشترکہ عملی اقدام کے اسی فقدان کے باعث عالم اسلام کی آواز عالمی برادری کے ایوانوں میںصدا بہ صحرا ثابت ہورہی ہیں۔ مودی کی دیدہ دلیری بڑھ گئی ہے، یہ صورتحال چشم کشا اور لمحہ فکریہ ہے۔

مقبول خبریں