اب کیا ہو گا…
آج ساری دنیا ہمیں انسان ماننے سے انکارکررہی ہے، ڈارون کی تھیوری اگرصحیح ہے تو اس کی ذمے داری ہمارے حکمرانوں پر آتی ہے
میں ''آج'' پچاس سے زیادہ چینلوں پر عوام کے وہ ہجوم دیکھ کر حیران ہو رہا تھا جو راجہ بازار راولپنڈی کے سانحے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ راجہ بازار میں 10محرم کو دو فرقوں کے درمیان خونریز تصادم ہوا، جس میں 12مسلمان ہلاک، بہت سارے زخمی ہوئے اور 200 سے زیادہ دکانوں کو نذر آتش کر دیا گیا، 10 محرم کو تو سارا ملک پولیس اور رینجرز اسٹیٹ میں بدل گیا تھا، صرف کراچی شہر میں 25 ہزار سے زیادہ پولیس اور رینجرز اہلکار الرٹ کھڑے تھے۔ سڑکوں کو کنٹینرز لگاکر بند کر دیا گیا تھا، موٹر سائیکلوں پر ڈبل سواری پر پابندی عائد کر دی گئی تھی، موبائل سروس بھی بند کر دی گئی تھی، ایم اے جناح روڈ کی سڑکوں سے ملحقہ مکانوں میں رہنے والے لوگ جان کے خوف سے اپنے گھروں کو چھوڑ کر عزیزوں کے گھر منقل ہو گئے تھے، جلوسوں میں شرکت کرنے والوں کی تلاشی کے لیے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی تھیں، دفعہ 144 نافذ کر دی گئی تھی، ماہر کتوں کے ذریعے جلوسوں کی گزر گاہوں کو چیک کیا جا رہا تھا، بم ڈسپوزل اسکواڈ تیار کھڑے تھے، مسجدوں، امام بارگاہوں کو پولیس اور رینجرز نے حفاظتی تحویل میں لے لیا تھا۔
ہیلی کاپٹرز کے ذریعے جلوسوں کی نگرانی کی جا رہی تھی، سیکڑوں کی تعداد میں ایمبولینس تیار کھڑی تھیں، پورے شہر پر خوف کے سائے منڈ لا رہے تھے، یہی حال ملک کے سارے شہروں کا تھا، اتنے بڑے احتیاطی اقدامات کے باوجود راولپنڈی کے راجہ بازار میں قیامت صغریٰ برپا ہو گئی۔ مسلمانوں نے مسلمانوں کو ذبح کیا اور 200 دکانوں، مسجدوں، امام بارگاہوں کو آگ لگا دی۔ مشتعل مسلمانوں کے اشتعال کا عالم یہ تھا کہ پولیس کے افسران جان بچا کر بھاگ گئے تھے، سارا شہر بلوائیوں کے نرغے میں تھا، ایک فرقے کے لوگ دوسرے فرقے کے لوگوں کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے، آج اسی راجہ بازار کے سانحے کے خلاف ملک بھر کی سڑکیں سادہ لوح عوام سے بھری ہوئی تھیں، حکومت علماء سے اور علماء عوام سے امن کی بھیک مانگ رہے تھے۔
یہ ''آج'' 1977ء سے 2013ء کے عرصے پر محیط ہے۔ اس حوالے سے میں جس کل کا ذکر کر رہا ہوں وہ کل 1950ء سے 1973ء کے عرصے پر محیط ہے، اس عرصے میں بھی سڑکیں عوام کے ہجوموں سے بھری رہتی تھیں، لیکن یہ عوام نہ سنی ہوتے تھے، نہ شیعہ، نہ دیوبندی، نہ بریلوی، نہ پنجابی، نہ پٹھان، نہ سندھی، نہ مہاجر، نہ بلوچ۔ یہ صرف غریب ہوتے تھے اور سب ایک ہو کر ظلم و استحصال کے نظام اور ظالموں کے خلاف احتجاج کرتے تھے، مزدور مالکان کے خلاف، کسان اور ہاری وڈیروں اور جاگیرداروں کے خلاف یہ عوام پر امن اور غیر مسلح ہوتے تھے، نہ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی جاتی تھی، نہ شہر میں 25 ہزار پولیس اور رینجرز تعینات ہوتی، نہ سڑکوں کو کنٹینرز لگا کر بند کیا جاتا، نہ کتوں کے ذریعے بموں اور ہتھیاروں کو تلاش کیا جاتا، نہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ان ہجوموں کی نگرانی کی جاتی، نہ ایمبولینسوں کی لائنیں لگتیں، نہ بم ڈسپوزل اسکواڈ الرٹ کھڑے ہوتے، ان ہجوموں کی قیادت تعلیم یافتہ اور طبقاتی استحصال کے مخالف نوجوان کرتے اور آج کے ہجوموں کی قیادت علماء کرام کر رہے ہیں۔
راجہ بازار کا خونیں المیہ کوئی پہلا المیہ نہیں، پختونخوا سے لے کر کوئٹہ اور کراچی تک پچھلے دس سال سے ایسے المیے پیش آتے رہے ہیں، ان المیوں میں شہید ہونے والے بے گناہ پاکستانی مسلمانوں کی تعداد 50 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے اور ان المیوں کے سرپرستوں کی منادی یہ ہے کہ ''ہم پاکستانی عوام کو اس سے بڑے المیوں سے دو چار کریں گے؟'' کیوں کریں گے؟ اس کا جواب ہمیں تحریک پاکستان اور قیام پاکستان میں تلاش کرنا پڑے گا۔ کہا جاتا ہے کہ متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک اپنے علیحدہ وطن کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی جان و مال کو ہندو غنڈوں سے خطرہ تھا جو اکثریت میں تھے اور یہ خوف بھی لاحق تھا کہ ہندو اکثریت مسلمان اقلیت پر معاشی حوالے سے حاوی رہے گی۔ سو اس خوف سے پاکستان بنایا گیا جس کی بنیاد ہی 22 لاکھ مسلمانوں کے خون پر رکھی گئی۔
14 اگست 1947ء سے پہلے بنگال سے لے کر وزیرستان تک مسلمان، مسلمان ہی تھے نہ کوئی بنگالی تھا، نہ پنجابی، نہ سندھی، نہ پٹھان، نہ بلوچی، نہ مہاجر، نہ شیعہ، نہ سنی، نہ اہل حدیث، نہ دیوبندی، نہ بریلوی۔ سب کے سب پہلے مسلمان تھے بعد میں پنجابی، سندھی، پٹھان، بلوچی، شیعہ، سنی وغیرہ۔ اگر بنگال میں مسلمانوں کے ساتھ ہندو کوئی زیادتی کرتے تو پختونخوا تک مسلمان سڑکوں پر آ جاتے۔ 14 اگست 1947ء کے بعد پاکستان کے مسلمان پنجابی، بنگالی، سندھی، بلوچی، پٹھان، مہاجر، شیعہ، سنی، اہل حدیث، دیوبندی، بریلوی بنتے گئے، اس کا آغاز قرار داد مقاصد سے ہوا۔ پھر یہ پہچان ضیاء الحق کے دور میں نظریاتی ضرورت بن گئی۔ افغانستان میں امریکا کے آنے کے بعد مذہبی پہچان مذہبی انتہا پسندی میں بدل گئی۔ اس پہچان کی سب سے بڑی خوبی خودکش بمباروں، بارودی گاڑیوں، ٹائم بموں کی شکل میں سامنے آئی اور شدت پسندی، بے گناہ پاکستانیوں کا قتل عام بن گئی، امریکا دشمنی حیرت انگیز طور پر عوام دشمنی میں بدل گئی اور عوام دشمنی میں شیعہ، سنی، دشمنی سر فہرست آ گئی اور خیبر سے کراچی تک پاکستان کے بے گناہ 50 ہزار مسلمانوں کا خون بکھر گیا۔ راجہ بازار کی وحشت و بربریت نے ساری دنیا میں مسلمانوں اور اسلام کا منہ اس طرح کالا کر دیا کہ 14 اگست 1947ء کا مسلمان اس کالک میں چھپ گیا۔ آج ساری دنیا ہمیں انسان ماننے سے انکار کر رہی ہے۔ ڈارون کی تھیوری اگر صحیح ہے انسان حیوان کی ''ارتقاء'' کے اس عمل کی ذمے داری کس پر آتی ہے؟
یہ بڑا مشکل سوال ہے لیکن ایمانداری سے اس بے ایمانی کا جائزہ لیں یا جواب تلاش کریں تو اس کی ذمے داری ہمارے حکمرانوں پر آتی ہے جنہوں نے اپنے سیاسی مفادات کی خاطر مسلمانوں کو پنجابی، سندھی، بلوچی، پٹھان، مہاجر، سرائیکی، ہزارے وال، شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد اس ارتقاء کی ذمے داری ہماری محترم ایجنسیوں پر آتی ہے جنہوں نے پاکستان کے دینی مدرسوں میں قابل احترام علماء کرام کی سرپرستی میں روس کو افغانستان سے نکالنے کے لیے مقامی اور غیر ملکی مجاہد کاشت کیے جو افغانستان پر امریکی قبضے کے بعد لہلہاتی فصل بن گئے۔ 1947ء کو ہم نے بڑی ایمانداری اور سیاسی بصیرت کے ساتھ مسلمانوں کو ہندو اکثریت کے ممکنہ مظالم سے بچانے اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے ہندوستان کو تقسیم کرا دیا، لیکن اسے اتفاق کہیں یا حسن اتفاق کہ تقسیم ہند عملاً تقسیم مسلمانان ہند بن گئی۔ کوئی 20 کروڑ مسلمان ہندوستان میں ہیں۔ 18 کروڑ پاکستان میں اور 20 کروڑ سے زیادہ بنگلہ دیش یعنی سابق مشرقی پاکستان میں ہیں۔ سابق مشرقی پاکستانی بنگلہ دیش کیوں بن گیا؟ اسے بننا ہی تھا، کیوں بننا تھا اس کا جواب پاکستان بنانے والے ہی دے سکتے ہیں۔
میں جب یہ کالم لکھ رہا ہوں تو ایک بریکنگ نیوز یہ آ رہی ہے کہ نیویارک میں تین مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا، جن میں 9 اور 11 سال کے دو بچے اور ان کا باپ شامل ہیں اور یہ تینوں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے پاکستانی ہیں۔ اس کے ساتھ دوسری بریکنگ نیوز یہ ہے کہ کراچی میں انچولی کے علاقے میں دو دھماکے ہوئے ہیں جن میں 7 افراد ہلاک اور 50 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کارنامے کی ذمے داری وہی گروہ فخر سے قبول کر رہے ہیں جنھیں حکومتوں اور ایجنسیوں نے پالا، پوسا جوان کیا۔
ہمارے ایک دانشور دوست نے یہ دلچسپ سوال کیا کہ کیا سندھ، بلوچستان، پختونخوا، مغربی پنجاب اور مشرقی بنگال میں ہندوستان تقسیم نہ ہوتا تو بھی مسلمانوں کی حکومتیں ہی قائم نہ ہوتیں اور ان حکومتوں میں مسلمان ہی نہ ہوتے۔ سندھی، مہاجر، پنجابی، پٹھان، بلوچی، سنی، اہل حدیث، دیوبندی، بریلوی ہوتے، اگر ایسا ہوتا تو کیا مذہبی انتہا پسندی ہوتی نہ دہشت گردی ہوتی؟ ہم اس سوال پر چپ رہے۔ کیوں کہ ہمارے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔ جواب تھا تو بس اتنا تھا کہ جو کچھ ہونا تھا یا نہیں ہونا تھا وہ ہو گیا، اب کیا ہو گا؟