اوپن مارکیٹ سے ڈالرغائب بینکوں پرسٹے بازی کا الزام

قیمت 110 روپے سے تجاوز،ڈالرنہ ملنے پراے کیٹگری ایکسچینج کمپنیوں کا اجلاس


Ehtisham Mufti November 29, 2013
کاروباربندکررہے تھے،مشیرخزانہ کے ڈالرفراہمی کے وعدے پرفیصلہ واپس لیا، ملک بوستان فوٹو:فائل

روپے کی گرتی ہوئی قدرکو دیکھتے ہوئے اوپن کرنسی مارکیٹ میں سٹہ مافیا سرگرم ہوگیا ہے امریکی ڈالر مارکیٹ سے غائب کر دیا گیا۔

بیرون ملک علاج معالجے اور تعلیمی اخراجات کے لیے ڈالر بھیجنے والے افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 110 روپے سے بھی تجاوز کرگئی تاہم 95 فیصد سے زائد ایکس چینج کمپنیوں کے پاس ڈالر دستیاب ہی نہیں ہے جس کی وجہ سے سیکڑوں خریداروں نے اپنی ضروریات کے لیے111 روپے تا115 روپے فی ڈالر خریدنے کی پیشکشیں بھی کیں لیکن انہیں ڈالر نہ مل سکے بلکہ ایسے خریداروں کوایکس چینج کمپنیاں ڈالر خریدنے کے بجائے یوروکرنسی، پاؤنڈ اور دیگر بڑی کرنسیاں خریدنے کا مشورہ دیتی رہیں، دوسری جانب سے انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی نسبت امریکی ڈالر کی قدرمزید21 پیسے کے اضافے سے108.51 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر کے رحجان کے بعداوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر غائب ہوگیا جبکہ ایکس چینج کمپنیوں کا کہنا تھا کہ اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر ختم ہوگئے ہیں، اس بحرانی کیفیت کے بعد اے کیٹگری ایکس چینج کمپنیوں کا جمعرات کی شام ایک ہنگامی اجلاس ملک محمد بوستان کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں بتایا گیا کہ تجارتی بینک ڈالر کی سٹہ بازی میں ملوث ہیں جس کے منفی اثرات اوپن کرنسی مارکیٹ پر مرتب ہورہے ہیں، ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے اوپن مارکیٹ میں بحرانی کیفیت اور تجارتی بینکوں کی سٹے بازی سے متعلق وزیراعظم نوازشریف اور وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈالر کو باقاعدہ طور پر آگاہ کردیا ہے۔



اے کیٹگری کی تمام ایکس چینج کمپنیاں امریکی ڈالر کی قدر پر قابو پانے کی غرض سے اگرچہ 2 دن کے لیے اپنی کاروباری سرگرمیاں بند کرنے پر غور کررہی تھیں لیکن اس فیصلے کے نتیجے میں بلیک مارکیٹ کے وجود میں آنے کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسوسی ایشن نے اوپن مارکیٹ بند کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک محمد بوستان نے ''ایکسپریس'' کے استفسار پر بتایا کہ ایکس چینج کمپنیاں کمرشل بینکوں کے منفی ہتھکنڈوں سے دلبرداشتہ ہوکراپنے کاروبار کو غیرمعینہ مدت کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کرچکی تھیں لیکن وفاقی وزیرخزانہ کے مشیررانا اسد امین کی جانب سے انہیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ایکس چینج کمپنیوں کوآئندہ ہفتے سے امریکی ڈالر کی فراہمی شروع ہوجائے گی ۔

جس کے بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ کمرشل بینک گزشتہ ایک ماہ سے اوپن مارکیٹ میں ڈالرسپلائی نہیں کررہے لہٰذا وفاقی حکومت کے لیے تجویزہے کہ وہ ایکس چینج کمپنیوں کو صرف 3 ماہ کے لیے امریکی ڈالر امپورٹ کرنے کی اگراجازت دے تو پاکستان میں امریکی ڈالر کے توازن کونہ صرف بہتر بنایا جاسکتا ہے بلکہ زرمبادلہ کی مارکیٹ میں تجارتی بینکوں کی اجارہ داری اور سٹے بازی کی حوصلہ شکنی بھی ممکن ہوسکتی ہے۔ ملک بوستان نے امید ظاہر کی کہ وزیرخزانہ کے مشیر کی ہدایت پر ایکس چین کمپنیوں کو آئندہ ہفتے سے ڈالر کی سپلائی بحال ہوجائے گی جس سے پاکستانی روپے کی قدر میں دوبارہ استحکام پیدا ہوگا۔

مقبول خبریں