2007ء میں دی گئی قربانیوں کی روایات کو برقرار رکھنا ہے نامزد چیف جسٹس

آج عدلیہ آزاد اورجمہوریت رواں دواں ہے، وکلا لیڈرکاکردارادا کریں، جسٹس تصدق


Numainda Express November 29, 2013
باراوربینچ کاتعلق بہترہونے سے انصاف کی منزل آسان ہوگی، ملتان میں تقریب سے خطاب۔ فوٹو: فائل

نامزد چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ اس وقت ہمیں بڑے چیلنجز کا سامنا ہے لہٰذا ان روایات اور اقدار کو برقرار رکھنا ہے جس کیلیے 2007ء میں قربانیاں دی گئیں۔

انھوں نے ان خیالات کااظہار ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن ملتان کے زیر اہتمام تقریب میںخطاب کرتے ہوئے کیا۔جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ آج عدلیہ آزاد اور جمہوریت بھی رواں دواں ہے تاہم منصف کا عہدہ کانٹوں کی سیج ہے جس میں زیادہ وکلا کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے، بار اور بینچ کا تعلق جس قدر بہتر ہوگا انصاف کی منزل اس قدر آسان ہوگی لہذا انھیں اپنے تعلقات مثالی رکھنے چاہئیں۔



انھوں نے کہا کہ وکلا کو لیڈر کا کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ یہ واحد شعبہ ہے جس کا تعلق زندگی کے ہرطبقے سے ہے۔انھوں نے کہاکہ ملتان بینچ کے قیام کے وقت کہا تھا کہ بینچ کے قیام سے اس خطے کے لوگوں کو اپنی صلاحیتیں منوانے کا موقع ملے گا اور اس بار نے ثابت کیا ہے کہ عدلیہ اور انصاف کی ترقی میں ان کا کتناکردار ہے۔تقریب میں ہائیکورٹ کے جج صاحبان ،پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین قلب حسن اوروکلا نے کثیرتعدادمیں شرکت کی۔