تین بہت ہی بڑی خبریں ایک ساتھ

ان دنوں کئی بہت ہی بڑے واقعے اتفاقاً ایک ساتھ ہو رہے ہیں اور ہمارے جیسے روز مرہ کے واقعات پر کالم لکھنے والوں۔۔۔


Abdul Qadir Hassan November 29, 2013
[email protected]

ان دنوں کئی بہت ہی بڑے واقعے اتفاقاً ایک ساتھ ہو رہے ہیں اور ہمارے جیسے روز مرہ کے واقعات پر کالم لکھنے والوں کو وخت پڑ گیا ہے کہ مختصر سے کالموں میں کسی بھی موضوع سے انصاف نہیں کیا جا سکتا۔ کجا کہ ایک جیسی تین خبریں ہوں۔ پاکستان کی تاریخ کا ایک بہت بڑا واقعہ برّی فوج کے سپہ سالار کی تقرری تھی جو یوں تو وزیر اعظم نے کرنی ہوتی ہے مگر یہ کام ہماری فوج کے متوقع سربراہ خود ہی کر لیتے ہیں لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا اور ایک کامیاب فوجی سربراہ قانون قاعدے کے مطابق خود ہی ریٹائر ہو گیا اور ہماری تسلی کے لیے کافی پہلے اس کا اعلان بھی خود ہی کر دیا مگر اس کے باوجود میرے جیسے شکی پاکستانی کو یقین نہیں آ رہا تھا ،کسی بھی لمحے اور یہ کوئی بھی لمحہ ہو سکتا تھا کہ 'میرے عزیز ہموطنو' کا پاکستانی تاریخی جملہ سنا جا سکتا تھا۔ ملازمت کے آخری دن بھی لیکن اس شخص نے کمال کر دیا، پاکستان کی فوجی تاریخ ہی بدل دی اور پاکستانی فوج کو صرف فوج ہونے اور فوجی بن کر رہنے کا سبق دیا۔ میں نے تو اپنے اسی شک پر کالم بھی لکھ دیا تھا لیکن تمام اندازے غلط ثابت ہوئے اور اس فوجی کی وجہ سے کالم میں آخری وقت میں رد و بدل کرنی پڑی مگر یہ سب بہت ہی مبارک تھا۔

اس فوجی نے اپنے پیشے کی لاج رکھی۔ قوم ایک اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر سے بچ گئی اور خدا کرے یہ ایک مستقل روایت بن جائے۔ بہر کیف اس موضوع پر مزید بات چیت ہو گی۔ دوسرا بڑا واقعہ ہماری اعلیٰ عدلیہ میں ہوا، نیا سربراہ آ گیا، پرانے نے واپسی کی تیاری شروع کر دی۔ محترم و مکرم جسٹس افتخار محمد چوہدری پر کسی بہت ہی جذباتی پاکستانی کو لکھنا چاہیے کیونکہ عدلیہ کی تاریخ میں یہ ایک غیر معمولی انسان تھا جو جرنیلوں کی جلائی ہوئی آگ میں سے نکل کر اس قوم کے سامنے آیا اور اپنے منصب کی لاج بھی رکھی ورنہ پاکستان میں انصاف کا علم بلند کرنا کوئی مذاق نہیں ہے، اُس جمعہ کے دن جب یہ معزول جج چار جرنیلوں کی خدمت میں حاضر کیا گیا اور جنرل مشرف نے اس سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جو بعد میں حکم بھی بن گیا لیکن اس نے یہ حکم ماننے سے انکار کر کے اپنے اللّہ پر اپنے ایمان کو تازہ کر دیا۔ اس وقت وہ بالکل تنہا تھا، اس کا ڈرائیور بھی جو اسے لے کر یہاں فوجیوں کے پاس آیا تھا کہیں غائب تھا۔ کوئی دوسرا پاکستانی اس کے ساتھ نہیں کھڑا تھا سوائے گھر پر ان کی بیگم کے۔

جمعہ کی نماز پر جاتے ہوئے جنرل نے اپنے اس ساتھی سے جو اس کی نگرانی پر مامور تھا کہا کہ اس (بہت بڑی گالی) سے کہنا کہ بندہ بن جائے۔ وہ یہ سب سن رہا تھا لیکن اس کی زبان بند تھی مگر اس کا دل درود شریف پڑھ رہا ہو گا۔ اس نے اپنے اس بندے کو غیر معمولی استقامت عطا کی اور وہ اپنے انکار پر قائم رہا۔ چار جرنیل مع اپنی وردیوں کے اور اس تمام رعب و دبدبہ کے جو ان کو حاصل تھا اس پر مسلط تھے لیکن اس وقت اللّہ نے اپنے اس بندے کو جس جرات اور شجاعت سے نوازا تھا وہ بھی ایک مثال تھی۔ بہت بعد اس کی بحالی کی تحریک چلی اور بالآخر ایک رات کو جنرل کیانی نے اطلاع دی کہ جج کو بحال کر دیا گیا ہے۔ بحالی کی اس تحریک کے دوران جو کچھ ہوا وہ قوم نے دیکھا اور حیرت کی ماری قوم صبر کے ساتھ سب کچھ دیکھتی رہی اور بالآخر اس کی خواہش پوری ہوئی، اس کے بعد اس جج نے عدالت کی کرسی پر بیٹھ کر قوم کا حق ادا کر دیا جس جرات کے ساتھ انھوں نے قانون کے ترازو کو متوازن رکھا اور انصاف کی آواز بلند کی وہ ہمیں ہمیشہ یاد رہے گی۔

بلاشبہ جج کے فیصلے ہی بولتے ہیں اور اس جج کے فیصلے گرجتے برستے رہے۔ جو جج زمین کے بادشاہوں کو دھتکارنے میں کامیاب ہوا وہ تاریخ کا بادشاہ بن گیا۔ ہم مسلمانوں کو اپنی تاریخ کے وہی ''بادشاہ'' یاد ہیں جو عدل و انصاف کا علم بلند کیے رہے۔ زلزلہ آیا تو حضرت عمرؓ نے زمین پر کوڑا مار کر کہا کہ کیا میں تم پر انصاف نہیں کرتا کہ تم برہم ہو رہی ہو۔ عرض یہ ہے کہ ہمارے منصف اعلیٰ نے اپنے اسلامی عہدے کا حق ادا کیا اس کا اجر اللہ کے پاس ہے جس نے اسے اس انتہائی مشکل کام کی توفیق دی۔ ان کے جانشین نے درست کہا کہ وہ کتنی بڑی آزمائش میں پڑ گئے ہیں۔ کبھی جج افتخار صاحب سے پوچھیں گے کہ جب زمین کے خدا ان سے استعفیٰ مانگ رہے تھے تو وہ کیا پڑھ رہے تھے جس نے انھیں ان کی مقابلے کی طاقت عطا کی۔

آج کی ایک خبر عمران خان کا پھر بچ جانا ہے۔ وہ ایک بار پھر جلسے گاہ کی اسٹیج سے گرتے گرتے بچ گئے اور تاریخ اپنے آپ کو دہراتی رہ گئی کہ وہ اپنی ہڈی پسلی بچانے میں کامیاب رہے۔ اس بار بھی وہی ہوا کہ جلسہ گاہ کی اسٹیج عمران کے عقیدت مندوں کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اور ان کا لیڈر بڑی مشکل سے جان بچا کر اپنے اسپتال کے بجائے اپنے گھر چلا گیا۔ عمران کی پارٹی نئی نئی ہے اور اس کے کارکن بہت ہی نئے ہیں اس لیے وہ اسٹیج بنانے کے فن سے آشنا نہیں ہیں۔ عمران ان کارکنوں کو تربیت کے لیے جماعت اسلامی کے ہاں بھجوا دیں جلسوں کو آراستہ کرنے کے فن کو ان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔

عمران خان جب دوسری بار بلندی سے گرے تو مجھے حضرت علیؓ کا ایک قول یاد آیا۔ وقت کا یہ بادشاہ محفل میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بیٹھا تھا کہ کوئی بدو ان سے ملنے آیا مگر وہ سب کے ساتھ فرش پر بیٹھے ہوئے حضرت علیؓ کو پہچان نہ سکا بعد میں اسے بتایا گیا تو اس نے عرض کیا کہ آپ اگر اونچی جگہ پر تشریف رکھا کریں تو ملنے والوں کو آسانی ہو ،اس پر علم و دانش کے اس بادشاہ نے کہا کہ 'جو فرش پر بیٹھتے ہیں وہ گرتے نہیں ہیں'۔ عمران خان سے اس سے زیادہ کیا کہا جا سکتا ہے لیکن اب زمانہ فرشوں کا نہیں اونچے اسٹیجوں کا ہے۔

مقبول خبریں