پناہ گزینوں کے مسئلہ پر ترک یونان کشیدگی

یورپی یونین کے ممالک میں جانے والے پناہ گزینوں کیخلاف جرمن نازیوں جیسے ظلم وتشدد کے ہتھکنڈے آزمانے کی کوشش کررہی ہیں۔


Editorial March 13, 2020
یورپی یونین کے ممالک میں جانے والے پناہ گزینوں کیخلاف جرمن نازیوں جیسے ظلم وتشدد کے ہتھکنڈے آزمانے کی کوشش کررہی ہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے یونانی سیکیورٹی فورسز پر الزام لگایا ہے کہ وہ ترکی کی سرحد سے یورپی یونین کے ممالک میں جانے والے پناہ گزینوں کے خلاف جرمن نازیوں جیسے ظلم و تشدد کے ہتھکنڈے آزمانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ترکی نے 8 فروری کو اعلان کیا تھا کہ وہ ان ہزاروں لاکھوں پناہ گزینوں کو ترکی سے یونان جانے کی کوششوں کو مزید نہیں روک سکتا۔

واضح رہے یونان بھی یورپی یونین کا رکن ملک ہے جس نے 2016 میں برسلز میں پناہ گزینوں کے بارے میں طے پانے والے سمجھوتے کو قبول کیا تھا کہ ان پناہ گزینوں کو یورپی یونین کی طرف سے دی جانے والی امداد کو جاری رکھا جائے گا لیکن یونانی سیکیورٹی فورسز نے ترکی سے آنے والے پناہ گزینوں پر آنسو گیس کے علاوہ پانی کے گولے استعمال کیے ہیں جب کہ یونانی حکومت نے پناہ گزینوں کی سیاسی پناہ کی درخواستوں کو معطل کر دیا ہے جس سے 42 ہزار سے زائد پناہ گزین ترکی اور یونان کے بارڈر پر پھنس کر رہ گئے ہیں جنھیں یونان نے روک لیا ہے، یہ پناہ گزین دو ہفتے سے یہیں پڑے ہیں۔

صدر اردوان نے پناہ گزینوں کی حالت زار کے بارے میں ویڈیو فلم پارلیمنٹ میں دکھائی اور کہا کہ یونانی بارڈر پر ان کے ساتھ وہی سلوک ہو رہا ہے جو نازی رجیم اپنے دور میں کرتی رہی ہے۔

صدر اردوان نے کہا کہ پناہ گزینوں پر گولیاں بھی چلائی جا رہی ہیں اور ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے۔ ترکی نے اس سے قبل بھی یونان پر پناہ گزینوں کو مارنیکا الزام بھی لگایا۔

یونان کا کہنا ہے کہ سرحد کا دفاع یونان کی ذمے داری ہے۔یونانی حکومت کے ترجمان اسٹیلیوس پسساس نے کہا جو لوگ غیرقانونی طور پر داخلے کی کوشش کرتے ہیں انھیں روکا جاتا ہے مگر قانونی طور پر آنے والوں کا خیرمقدم کیا جاتا ہے۔ ان لوگوں کو وکیل کی رسائی بھی حاصل ہوتی ہے۔

ترجمان نے بعض امریکی اخبارات کی اس رپورٹ کی تردید کی کہ ترکی نے غیرقانونی پناہ گزینوں کو خفیہ مقام پر روک رکھا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یورپی یونین 2015 ، 2016کے واقعات کا اعادہ نہیں چاہتا جب وہاں پناہ گزینوں کی بہت ہلاکتیں ہوئیں۔

مقبول خبریں