کورونا کے خلاف جنگ کی ضرورت

عالمی ادارہ صحت نے دنیا کو متنبہ کیا ہے کہ کورونا وائرس پر کنٹرول کے لیے تمام ممالک سرتوڑ کوششیں کریں۔


Editorial March 13, 2020
عالمی ادارہ صحت نے دنیا کو متنبہ کیا ہے کہ کورونا وائرس پر کنٹرول کے لیے تمام ممالک سرتوڑ کوششیں کریں۔فوٹو : آئی این پی

کورونا وائرس نے دنیا بھر میںدہشت پھیلا دی۔ اطلاعات کے مطابق 113 ممالک اس عالمی وبا کی زد میں آ چکے جب کہ اموات اور متاثرین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے مگر ساتھ ہی کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے کھربوں ڈالر مختص کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے، امریکا، برطانیہ، اٹلی، کنیڈا اور دیگر ممالک نے خزانوں کے منہ کھول دیے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کو عالمی وبا قرار دیتے ہوئے دنیا کو متنبہ کیا ہے کہ وائرس پر کنٹرول کے لیے تمام ممالک سرتوڑ کوششیں کریں۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈرس ایڈہانوم نے کہا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس وقت دنیا کے چھ براعظم کورونا کی زد میں ہیں۔ 120ممالک میں اس مہلک وائرس سے اب تک ایک لاکھ21 ہزار 656 افراد متاثر اور 4382 موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔

چین میں مزید 22 افراد ہلاک ہو گئے جب کہ24 نئے کیس سامنے آئے ہیں۔ چین میں مصدقہ مریضوں کی تعداد 80 ہزار778 تک پہنچ گئی جب کہ 3 ہزار158افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم عالمی ادارہ صحت نے چین کی کورونا وائرس کے خلاف مزاحمت اور کوششوں کی تعریف کی ہے، چین نے دنیا سے آنے والوں کو قرنطینیہ میں رکھنے کا اعلان کیا ہے، اٹلی میں ایک ہی دن میں 168 افراد کو وائرس نے نگل لیا جس کے بعد اموات کی تعداد 631 ہو گئی ہے اور متاثرہ افراد کی تعداد دس ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ ایران میں کورونا نے مزید 63 افراد کی جان لے لی جب کہ متاثرین کی کْل تعداد نو ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

پرتگال کے وزیراعظم مارسیلو ریبیلو ڈی سوسا اور برطانیہ کی وزیر صحت نادین ڈورس کے وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے، دونوں کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ بلجیئم، پاناما اور لبنان میں کورونا سے اموات ہوئی ہیں۔دریں اثنا گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے ایک اور مریض کی تصدیق ہو گئی ہے جس سے ملک میں اس وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 20 ہو گئی ہے۔

گلگت بلتستان کے فوکل پرسن برائے کورونا ڈاکٹر شاہ زمان نے بتایا کہ اسکردو کے14 سالہ لڑکے زین علی میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، متاثرہ لڑکا اپنی والدہ کے ساتھ 25 فروری کو ایران سے پاکستان، پھر4 اور 5 مارچ کی شب اہل خانہ کے ہمراہ اسکردو پہنچا تھا، جہاں 6 مارچ کو اس میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہوئیں، اسے آئسولیش وارڈ منتقل کر دیا گیا۔ زین علی کے تمام خاندان کے نمونے حاصل کرکے لیب بھجوا دیے گئے ہیں۔

قومی ادارہ صحت کی ٹیم بھی اسکردو پہنچ گئی۔ ادھر سری لنکا اور ترکی میں پہلے کیسوں کی تصدیق ہو گئی ہے، اسرائیل میں اسکول کے سیکڑوں بچوں کو قرنطینہ کر دیا گیا ہے۔ ملک میں دو ہزار سے زیادہ افراد والی تقریبات اور اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے کہاکہ جرمنی کی 70 فیصد آبادی متاثر ہو سکتی ہے۔ امریکا میں متاثرین کی تعداد 1025 ہو گئی ہے ۔ نیویارک میں کورنا سے نمٹنے کے لیے پہلی بار امریکی ریزرو فوج کے دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔ واشنگٹن اور دوسرے اہم شہروں میں بڑی تقریبات بھی ملتوی یا منسوخ کر دی گئی ہیں۔ ادھر اٹلی میں کورونا وائرس سے61 سالہ پاکستانی امتیاز احمد جاں بحق ہو گیا۔

ترجمان دفترخارجہ کے مطابق امتیاز احمد طویل عرصہ سے اٹلی میں قیام پذیر تھا۔ پاکستانی قونصل خانہ متاثرہ خاندان سے مسلسل رابطے میں ہے۔ امتیاز احمد اٹلی کے شہر میلان سے سو کلو میٹر دور بریسکیا میں رہائش پذیر تھا۔ معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ کورونا وائرس کے رپورٹ ہونیوالے نئے کیسز کی بہترین طبی نگہداشت کی جا رہی ہے، تمام افراد کی حالت خطرے سے باہر ہے، حکومت کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر ہے۔ پاک افغان چمن سرحد دسویں روز بھی بند رہی۔

بھارت میں اب تک داخل نہ ہونے والے جرمنی، فرانس اور اسپین کے شہریوں کو جاری کیے گئے ریگولر اور ای ویزے فوری طور پر معطل کر دیے گئے ہیں۔ انڈین اسپیشل لیگ خطرہ میں ہے، اٹلی اور جنوبی کوریا سے آنے والے تمام مسافروں کے لیے کورونا نیگیٹو سرٹیفکیٹ دینا لازمی ہے۔ اسپین میں مزید تیرہ اموات کے بعد کل ہلاکتیں سینتالیس ہو گئیں۔ میڈرڈ میں اسکول دو ہفتوں کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔ کینیڈا میں کورونا مزید7مصدقہ مریض سامنے آ گئے۔

جاپان میںمریضوں کی تعداد 568، ہلاکتیں 31ہوگئیں۔ عراق نے عوامی اجتماعات پر پابندی لگاتے ہوئے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقدس شہروں اور مقامات میں جانے سے گریز کریں۔ چین نے اہم صنعتی اداروں کو متاثرہ شہر ووہان میں کام دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دیدی۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی جانب سے کورونا کو ووہان وائرس کہنا، ایک غیر سائنسی اور عالمی ادارہ صحت کے انتباہ کے برخلاف اقدام ہے۔ یورپی یونین نے کورونا کے خلاف مربوط کوششوں کا آغازکر دیا۔ دنیا بھر کی ایئر لائن انڈسٹری کو کورونا سے820 ارب ڈالر نقصان کا خدشہ ہے۔

اسٹاک مارکیٹیں کریش کر گئیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیل اور اسٹاک مارکیٹس کریش کرنے کی وجہ جھوٹی خبروں کو قرار دے دیا۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے صدر حسن روحانی کو کورونا وائرس کے خلاف مہم کا سربراہ مقرر کر دیا، کربلا میں نماز جمعہ کے اجتماعات منسوخ کر دیے گئے۔ بحرین میں متاثرین کی تعداد 189 ہو گئی۔ کویت میں مزید 3 کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 72 ہو گئی۔

انڈونیشیا میں کورونا وائرس کے 27کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ پہلی ہلاکت بھی ہو گئی ہے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ کورونا وائرس میڈیکل سائنس، نوع انسانی کی صحت ، عالمگیر ہیلتھ انفرا اسٹرکچر کے فقدان اور انسانیت کو بچانے والے مسیحاؤں کی ایک وبائی مرض کے آگے بے بسی کی الم ناک داستان بن گیا ہے۔ مرض خود بھی بپھر گیا اور انتہائی ترقی یافتہ مملکتوں کے ہیلتھ سسٹم پر قہقہ زن ہوا۔ پاکستان میں کورونا وائرس نے ہمارے صحت کے شعبوں میں تنظیم نو اور بڑے پیمانے پر تطہیر و اصلاح کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔

وائرس کی شدت نے ثابت کیا کہ ہمارے ہاںگراس روٹ لیول پر کوئی کام نہیں ہوا، میڈیا میں شور برپا رہا، فوٹو سیشن بہت ہوئے مگر حفظان صحت کے بنیادی اصولوں کی خاطر نہ تو ملک گیر جراثیم کش اسپرے کے جنگی بنیادوں پر سپرے کرائے گئے، اس سے کورونا کو بلاشبہ ختم کرنا ممکن نہیں مگر بے پناہ امکانات لیے ہوئے امراض ، متعدی بیماریاں اور ماحولیاتی آلودگی کے خطرات دور کیے جا سکتے ہیں ، یونین کمیٹیوں اور مقامی خود اختیاری اداروں کی سطح پر اقدامات کا وسیع اور مربوط نیٹ ورک قائم کیا جا سکتا ہے۔

ضرورت ایک قومی ہنگامی پلان مرتب کرنے کی ہے، جس کی سربراہی وزیر اعظم عمران خان کریں، گورنرز، وزرائے اعلیٰ، چیف سیکریٹریز ، وفاقی و صوبائی وزرا اپنے حلقہ انتخاب میں فعال ہوں، ملک کے تمام سرکاری اور نجی اسپتالوں کو ایمرجنسی نافذ کرکے الرٹ رکھا جائے،کورونا سے آگہی مہیا ہونا شرط ہے، ائیرپورٹ پر اسکریننگ میں تساہل کا سختی سے نوٹس لیا جائے۔

عوام میں کورونا سے متعلق جوش وجذبہ ابھارا جائے۔ یہی تلقین عالمی ادارہ صحت کے حکام کی طرف سے آئی کہ کسی نے سرینڈر نہیں کرنا، لازم تھا کہ وفاقی اور تمام صوبائی حکومتیں وزارت صحت کی کمک اور معاونت کے لیے مشیر صحت کے شانہ بشانہ رہتیں، اب بھی وقت ہے کہ کورونا کو شکست دینے کے لیے قوم کو اسی جوش و ولولہ سے سرشار کیا جائے جس کا مظاہرہ چینی ڈاکٹروںاور قوم نے کیا ہے۔چین نے 22کروڑ کی آبادی والے شہر ووہان کو لاک ڈاؤن کیا، یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں۔

مقبول خبریں