کورونا اور قومی امنگوں کی ترجمانی

کورونا پھیلانے کے بلیم گیم میں امریکا اور چین میں ٹھن گئی ہے مگر پاکستان کے عوام کو کورونا سے نجات حاصل کرنا ہے۔


Editorial March 19, 2020
کورونا پھیلانے کے بلیم گیم میں امریکا اور چین میں ٹھن گئی ہے مگر پاکستان کے عوام کو کورونا سے نجات حاصل کرنا ہے۔ (فوٹو: فائل)

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے، یہ بات اپنے ذہن میں ڈال لیں کورونا وائرس نے پھیلنا ہے مگر آپ نہ گھبرائیں، ہم نے اسے پھیلنے سے روکنے کی پوری کوشش کرنی ہے، ہمارا ایمان ہے زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

ہمارے نبی ﷺکا فرمان ہے احتیاط کرو، اگر آپ کو ڈر ہے کہ آپ کا اونٹ بھاگ نہ جائے تو اللہ سے دعاکرنے سے پہلے اسے باندھو ، عوام کے لیے ضروری ہے احتیاط کریں، چالیس سے زیادہ لوگوں کے اجتماعات میں نہ جائیں۔ مصافحہ نہ کریں اور ہاتھ بار بار دھوئیں ۔بحیثیت قوم ہم اس کا مقابلہ کریں گے اور انشاء اللہ ہم یہ جنگ جیتیں گے۔

وزیر اعظم نے ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب میں کہا کہ آپ سے کورونا وائرس کی بات کروں گا، یہ آپ سب کے لیے سمجھنا ضروری ہے کیونکہ اس پر مجھے خوف ہے کہ ملک میں افراتفری پھیل رہی ہے، اگر لاک ڈاؤن کرتے تو لوگ بھوک سے مرتے۔

ملک کے فہمیدہ حلقوں ، سیاسی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کا انداز نظر کورونا کی ہلاکت آفرینی پر شاید مختلف ہو مگر یہ بات اپنے اثرات و مضمرات کے حوالے سے وزیر اعظم کی تقریر سے واضح تھی کہ قوم اس وائرس سے شدید ڈپریشن کا شکار ہے،اسے ریاستی اور حکومتی سہارے کی ضرورت ہے اور اس کی سراسیمگی کا ادراک اقتدارکی غلام گردشوں میں زمینی حقائق سے جڑا ہوا ہے، قوم کورونا وائرس کی اندھی سرنگ سے نکلنے کو بے تاب ہے، مشکل یہ بھی ہے کہ کورونا کا کوئی مابعدالطبیعاتی یا دیومالائی حل بھی نظر نہیں آتا۔

وزیراعظم کے خطاب میں جذبات کی بے ساختگی تھی ، مگر سیاسی مبصرین کے مطابق ملک کے چیف ایگزیکٹو نے معاشی مسائل کا تذکرہ توکیا مگر ٹھوس اور قابل عمل اقدامات کی تفصیل نہیں بتائی جب کہ قوم اس انتظار میں تھی عمران خان ایک ماسٹر پلان کا اعلان کریں گے، کسی پیکیج کی پیشکش کریں گے۔

مہنگائی کم کرنے، غربت اور بیروزگاری کے بڑھتے ہوئے خدشات کا سدباب کرتے ہوئے قوم کے حوصلے بلند کریں گے اور پیداشدہ صورتحال میں عوامی صفوں میں جو مایوسی پھیل رہی ہے، اسے بہتر سمت سازی سے کسی بریک تھرو سے ہم آہنگ کریں گے، قوم بلاشبہ ریلیف کی آرزو مند تھی۔

تاریخ گواہ ہے کہ آزمائش اور امتحان و ابتلا کی ایسی گھڑی میں سیاست دان مدبرکا کردار ادا کرتے ہیں ، وہ اپنے عہد سے بالاتر ہوجاتے ہیں، دنیا انھیں '' لارجر دین لائف '' (larger than life)کہتی ہے، کم وبیش ایسی ہی توقع عوام کو عمران کی طلسماتی اور پرکشش شخصیت سے ہے، وہ بارہا یہ اعلان کرچکے ہیں کہ مشکلات سے کبھی نہیں گھبراتے ، ہمیشہ فائٹر رہے ہیں، باؤنسراور یارکر ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ، وہ مشکلات سے کھیلنے کا رسک لیتے ہیں اور چیلنجز سے نمٹنے میں انھیں مزہ آتا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ کورونا وائرس کے بحران سے ابھرنے والے جس باہمت ، اولوالعزم وزیراعظم سے قوم اپنی امنگوں کی حقیقی ترجمانی چاہتی ہے۔

اس مرد بحران عمران خان کو سیاسی افق پرطلوع ہوتے دیکھنے کی پوری قوم آج بھی منتظر ہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے اگلے روز اپنے سیکریٹری خزانہ اور ایک اعلیٰ افسر کے ساتھ پریس کانفرنس کی۔

وزیر اعظم جانسن نے خود مختصر گفتگو کی مگر ان کے دونوں عہدیداروں نے صحافیوں کے سامنے ریلیف ، مراعات اور پیشکشوں کی لائن لگا دی۔ اسی خواب کو پاکستانی عوام شرمندہ تعبیر دیکھنا چاہتے ہیں، لوگ اس بات کو سننے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ لاک ڈاؤن کرتے تو لوگ بھوک سے مرجاتے، سوال یہ ہے کہ ایسی دردناک صورتحال پیدا کیوں ہونے دی گئی۔

کورونا وائرس کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ مسئلہ یہ ہوا کہ جو زائرین بلوچستان کے تفتان بارڈر سے آ رہے تھے، وہ ایسا ویران علاقہ ہے جہاں انھیں ڈاکٹر اور دیگر طبی سہولیات پہنچانا مشکل ہے،حکومت بلوچستان اور پاک فوج کو داد دیتا ہوں کہ انھوں نے برے حالات میں مل کر کوشش کی، زائرین کو قرنطینہ میں رکھا اور وہاں سے نکالا، یہ بہت ہی مشکل کام تھا، میں مسلسل باخبر رہا۔ 15جنوری سے ہوائی اڈوں پر اسکریننگ شروع کی گئی، ہوائی اڈوں پر نو لاکھ افراد کی اسکریننگ ہو چکی۔

پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری کو آیاجب پاکستان میں 20کیس ہوگئے تو ہم نے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی بنائی،جب اجلاس بلایا تو دنیاکے ردعمل کا جائزہ لیا۔ اٹلی نے شروع میں کچھ نہیں کیا پھر جب کیس بڑھنے شروع ہوئے تو لاک ڈاؤن کیا۔

برطانیہ کا اسے روکنے کے لیے مختلف انداز ہے، امریکا نے بھی پہلے کچھ نہیں کیا، اب پورے کے پورے شہر بند کر دیے۔ بیس کیسوں کے بعد پاکستان میں بھی شہر بند کرنے کی تجویز آئی۔ میں بتانا چاہتا ہوں جو امریکا اور یورپ کے حالات ہیں وہ پاکستان کے نہیں، ہمارے ملک میں غربت ہے، پچیس فیصد لوگ شدید غربت کا شکار ہیں، ہمیں سخت معاشی مشکلات ہیں اور مشکل حالات سے نکل رہے ہیں۔

2019 ہمارے لیے مشکل سال تھا ، بیروز گاری تھی، کاروبار سست روی کا شکار تھے۔ ہم نے سوچا اگرشہر بند کر دیتے ہیں تو لوگوں کے حالات پہلے ہی برے ہیں ، ایک طرف ہم کورونا سے بچائیں گے اور دوسری طرف لوگ بھوک سے مر جائیں گے ، ہمارے غریب لوگوں کا کیا بنے گا، اس موقع پر وزیراعظم نے چین کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس نے اگر اس کے خلاف کامیابی حاصل کی تو اس کے عوام حکومت کے ساتھ مل کر لڑے ، یعنی قوم لڑتی ہے۔ ہم نے بحیثیت قوم یہ جنگ جیتنی ہے،آپ نے احتیاط کرنی ہے اور پوری ذمے داری لینی ہے،عوام بڑے اجتماعات میں نہ جائیں، چالیس سے زیادہ لوگوں اجتماع میں نہ جائیں۔

وزیراعظم صاحب! 22 کروڑ اہل وطن کورونا کے سامنے گھٹ گھٹ کر تو نہیں مرسکتے، ان کو ایک ولولہ انگیز قیادت کی ضرورت ہے اور وقت کو ثابت کرنا چاہیے کہ عمران خان قوم کی آرزوؤں کو پوراکرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ وزیر اعظم نے ایک خبررساں ایجنسی کوانٹرویو میں کہا کورونا سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی معیشتیں تباہی کا شکار ہوسکتی ہیں، ترقی یافتہ ممالک کچھ قرضے معاف کرنے پر غور کریں۔

اگر پاکستان میں یہ مسئلہ شدت اختیار کرتا ہے تو حکومت کی طرف سے خراب معیشت بہتر بنانے کی کوششیں متاثر ہونے، برآمدات میں کمی، بے روزگاری میں اضافے اور قرضے کا بوجھ بڑھنے کا خدشہ ہے، ایسے حالات نہ صرف پاکستان بلکہ برصغیر میں بھارت اور افریقی ممالک کے لیے بھی ہو سکتے ہیں، اگر وائرس پھیلتا ہے تو ہمیں صحت کی سہولیات کے حوالے سے بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اس حوالے سے ہماری استعداد اور وسائل کی کمی ہے۔

وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ایران کے خلاف امریکی پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا پاکستان میں کورونا وائرس کے زیادہ تر مریض وہاں سے آئے، ایران ایسی مثال کے طور پر موجود ہے، جہاں سیاسی اختلافات یا اقتصادی مفادات ایک طرف رکھتے ہوئے انسانی بنیادوں پر کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کی ضرورت ہے۔

کورونا پھیلانے کے بلیم گیم میں امریکا اور چین میں ٹھن گئی ہے مگر پاکستان کے عوام کو کورونا سے نجات حاصل کرنا ہے، اس کے لیے لازم ہے کہ ملک کے بچے بچے کو اس وائرس سے لڑنے کے لیے حکمرانوں سے ہمت اور حوصلہ کا عملی پیغام ملے، لہذا ایک ولولہ انگیز سیاسی قیادت کے لیے کورونا سے جنگ کی آئیڈیل صورتحال ''آج نہیں توکبھی نہیں'' صاف نوشتہ دیوار نظر آتی ہے۔ ہمت مرداں مدد خدا۔

مقبول خبریں