شمیم حنفی ستیہ پال کی خدمت میں ’’پھول‘‘

ہندوستان نے اردو کی انجمنوں کو کروڑوں کی گرانٹ دی ہے لیکن سرکاری سطح پر ان کا وجود نہیں، یہی کیفیت یہاں بھی ہے


ڈاکٹر عالیہ امام November 30, 2013

انسان ابتدائے آفرنیش سے امن کا معبد تیار کرنے میں مشغول ہے، ایک اینٹ بھی جو اس راہ میں ہم لگا دیتے ہیں، وہ لازوال ہے۔ اردو زبان زمانے کی محبوبہ ہے۔ کراچی اردو کانفرنس نے ممتاز محقق شمیم حنفی اور ممتاز ادیب ستیہ پال کو مدعو کیا۔ یہ بہت دلچسپ بات ہے کہ اردو کانفرنس میں ادب پر جی کھول کر بات ہوئی، لیکن اردو زبان کے سلسلے میں بات نہیں کی گئی۔ ہندوستان نے اردو کی انجمنوں کو کروڑوں کی گرانٹ دی ہے۔ لیکن سرکاری سطح پر ان کا وجود نہیں۔ یہی کیفیت یہاں بھی ہے۔ بس گرانٹس لے لیجیے، ادب پر گفتگو کیجیے، زبان کو سرکاری طور پر رائج کرنے کی بات نہ کیجیے۔ شاخیں مہکتی رہیں، جڑ سوکھتی جائے۔ بہرحال کانفرنس ہوئی۔ شمیم حنفی اور ستیہ پال نے خوبصورت مقالے پڑھے، داد و تحسین حاصل کی، میں نے بھی انھیں پھول پیش کیا۔ پھول لیتے ہی بولے ڈاکٹر صاحبہ! آپ تو ہمیشہ ہی پھول پیش کرتی ہیں۔ یہ جملہ سنتے ہی مجھے جنید بغدادی کا ایک واقعہ یاد آگیا۔ جنید سڑک پر جا رہے تھے، بچے ان پر پتھر مار رہے تھے۔ وہ سر سے پیر تک زخمی تھے لیکن پھر بھی سر اٹھائے چلے جا رہے تھے۔ اچانک شمس تبریزی کی نگاہ پڑی۔ انھوں نے جنید پر پھول پھینک دیا۔ جنید مسکرائے اور آنکھیں کھول دیں۔

چین میں پیکنگ یونیورسٹی میں معلمی کے فرائض انجام دینے کے زمانے میں مجھے وزیراعظم چو این لائی سے ملنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ انھوں نے پھولوں کا گلدستہ دے کر میرا استقبال کیا۔ میں سراپا حیرت بنی، لیکن فوراً ہی محسوس ہوا کہ فوارہ فضا میں بلند ہوتا ہے، لیکن پھر زمین سے اپنے رشتے کو جوڑ لیتا ہے۔

روس میں سوشلسٹ نظام کے زمانے میں یہ دستور تھا کہ بچے جب اسکول جاتے تو انھیں بینڈ بجاکر سلامی دی جاتی اور ان پر پھول برسائے جاتے تاکہ وہ تمام زندگی مہکتے رہیں۔

بچوں کی ایک تقریب میں وزیراعظم پاکستان نے تقریر کرتے ہوئے بچوں پر پھول پھینک دیے۔ ایک بچے نے پھول اٹھالیا۔ پھر مسکراتے ہوئے بولا۔ ''ماں! میں بھی بڑا ہوکر صدر اور وزیر اعظم بنوں گا اور بچوں پر پھول برساؤں گا۔''

پھول مور پنکھی ہوتے ہیں، قرمزی، دھانی، یاقوتی۔ یہ بھائی کی کلائی پر کنگن بناکر باندھے جاتے ہیں، دلہن کے سہرے میں پروئے جاتے ہیں، محبوبہ کے بالوں میں سجائے جاتے ہیں، لیڈروں کے گلے میں ڈالے جاتے ہیں۔ عام طور پر لیڈر انھیں پہننے کے بعد فوراً اتار دیتے ہیں۔ کھیت بھی پھول اگلتے ہیں اور ماں کی آغوش میں بھی پھول کھلتا ہے۔ پھر یہ پھول اٹھتی ہوئی جوانی میں ڈھل جاتا ہے۔ ڈھیتی ہوئی ماں کا سہارا بنتا ہے۔ سینے پر ستارے لگاتا ہے۔ وطن کی آبرو کی حفاظت کے لیے میدان جنگ کا رخ کرتا ہے۔

جنگ سامراجی نظام حیات کی تقدیر ہے جو اپنے معاشی تضادات سے نکلنے اور منڈیوں پر قبضہ کرنے کے لیے ہتھیاروں کا بیوپار کرتا ہے۔ ''جمہوریت'' کے نام پر ''پھولوں'' کو جنگ کا ایندھن بناتا ہے۔

ہندوستان و پاکستان کی سرمایہ پرست حکومتوں نے اقتدار کو طول دینے کے لیے تین طرف اندھیرے اور ایک طرف روشنی کا نظام بنایا اور جب عوام نے روٹی و روزی کی بات کی تو کہہ دیا ''تم ہندوستان کے ایجنٹ ہو۔۔۔۔ تم پاکستان کے ایجنٹ ہو''۔ یہی وہ فکری تانا بانا تھا جس کے تحت تین جنگیں ہوئیں، زمین لہولہان ہوئی۔

زندگی موت سے زیادہ طاقتور اور امن جنگ سے زیادہ توانا ہے۔ دونوں جانب کی عوامی قوت اور شعور نے حکومتوں کو جھکا کر اپنی جدوجہد کا خراج وصول کیا ہے۔ ''شملہ معاہدہ'' ان کا قبلہ بنا ہے۔

ہندوستان کے مدبر وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے عالمی حالات کے نتائج پر مفکرانہ نگاہ ڈالی ہے۔ ''آخر ہم کب تک ہندوستان و پاکستان کے عوام سے جنگ کرتے رہیں گے؟'' یہ کہتے ہوئے انھوں نے پاکستان پر پھول پھینک دیے۔ اسی تازہ فکر کی روشنی میں پاکستان کی قیادت وزیراعظم نواز شریف نے امن و آزادی کا علم گاڑ دیا۔

بھارت سے صحافیوں کے وفد کی آمد جنوبی ایشیا کے خطے میں پائیدار امن قائم کرنے کی نوید ہے۔ دنیا اقتصادی تعاون کی جانب بڑھ رہی ہے۔ تشدد کی جنگ مذاکرات نے لے لی ہے۔ چین و روس، امریکا اور چین ایک دوسرے کے گلے مل سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہندوستان و پاکستان اپنے تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل نہ کرسکیں۔ کشمیر کا مسئلہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

''لاہور ڈیکلیئریشن'' اور ''شملہ معاہدہ'' سب جائز۔ لیکن سب سے پہلے جنوبی ایشیا کو ضرورت ہے کہ یہاں امن کے Process کو شروع کیا جائے۔ رجعت پرست قوتیں اس پر شب خون نہ ماریں۔ کشمیر کے ساتھ اس خطے میں روٹی، روزی اور روزگار کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو بھی مرکزیت حاصل ہے۔ امن کا لفظ مجرد نہیں ہے۔ یہ سماجی نظام انصاف سے جڑا ہوا ہے۔ اس کے لیے اس وقت قیادت کی پختہ نظری کی ضرورت ہے۔

ہندوستانی صحافیوں کی آمد یقیناً اس خطے میں امن کی آشا کو تیز سے تیز تر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ان کے شیریں الفاظ نوید سحر کی خوشخبری کی دلیل ہیں۔ لیکن اس کا کیا کیجیے؟

وہ غریب دل کو سبق ملے کہ خوشی کے نام سے ڈر گیا

کبھی تم نے ہنس کے جو بات کی تو ہمارا چہرہ اتر گیا

...

بہت مشکل ہے کہ حالات کی گتھی سلجھے

اہل دانش نے بہت سوچ کے الجھائی ہے

لائن آف کنٹرول پر آج بھی خون کی بارش ہورہی ہے۔ فائربندی کے باوجود نوجوان فوجیوں کی لاشوں کی خبریں ٹی وی سے نشر ہورہی ہیں۔ خدا کا احسان ہے کہ اس جنگ میں اور ان سے پہلی جنگوں میں کسی وزیر و سفیر، امیر، کبیر، جنرل، بریگیڈیئر، قاضی اور ملا صاحبان کے بیٹے شریک نہیں تھے۔ ان کا تو اصلی ناخدا امریکا ہے۔ وہیں وہ پلتے اور بڑھتے ہیں تاکہ زمین کے درد سے ناآشنا چین کی بانسری بجاتے رہیں۔

زمین کی آبرو بچانے کا حق تو صرف کھیت کھلیانوں کے پھولوں کے حصے میں آیا ہے۔ شاید اس لیے کہ پیدل فوجی کی کوئی ماں، بہن، بیوی اور محبوبہ نہیں ہوتی۔ یہ تو بکاؤ مال ہیں، ایندھن بننے کے لیے۔

باتیں کہاں سے کہاں پہنچ گئیں۔ اس وقت کچھ دھندلے نقوش ذہن میں ابھر رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ایوان صدر میں جنگ کے سورماؤں اور شہیدوں کو ''نشان حیدر'' دینے کی تقریب تھی۔ فوجی لباس میں ملبوس دو جوانوں نے ایک بوڑھی ماں کا ہاتھ تھام کر انھیں اسٹیج پر پہنچایا۔ صدر نے حیرت بھری نگاہ سے ماں کے چہرے کو دیکھا۔ پھر گمشدہ شہید کے پھول کا نشان ماں کے کپکپاتے ہاتھوں میں دیا، ماں نے ''نشان حیدر'' کا پھول سینے پر سجایا، پھر بوسہ دیا۔ جوان پھول سوتا رہا۔ ماں اکیلی جاگتی رہی۔ آخرکار اس نے بھی آنسوؤں کی چادر اوڑھ لی۔ مٹی میں اپنا چہرہ چھپالیا، کتبے پر لکھا تھا:

آہستہ برگ گل بہ فشاں برمزار ما

بس نازک است شیشہ دل درکنار ما

''میرا دل شیشے کی طرح چکنا چور ہے، اس لیے اس پر پھول بہت آہستہ رکھنا''۔

مقبول خبریں