حکومت اور عوام متحد ہو کرکورونا کو ہرائیں
حکومت کو یکم اپریل کا انتظار کیے بغیر فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردینا چاہیے
یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کے لیے گھروں میں راشن پہنچانا ضروری ہے
کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے صورتحال انتہائی نازک ترین مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ یہ بات اب ممکنات میں شامل ہے کہ اس وائرس سے پاکستانیوں کو بچانے کے لیے کوئی بڑا فیصلہ بھی کرنا پڑے۔ پاکستان آبادی کے لحاظ ایک بڑا ملک ہے' لہٰذا مکمل لاک ڈاؤن کے نتیجے میں سنگین مسائل جنم لے سکتے ہیں' بالخصوص لاکھوں دیہاڑی دار مزدوروں کے لیے دو وقت کا کھانا بھی ممکن نہیں رہے گا۔ تاحال وفاقی حکومت ملک گیر سطح پر لاک ڈاؤن سے اجتناب برت رہی ہے۔ تاہم سندھ حکومت مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرچکی ہے۔
عالمی سطح پر صورتحال بہت خطرناک ہے ۔اموات کا تسلسل جاری ہے اور بارہ ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ یہ وبا اب تک 188ممالک تک پھیل چکی ہے جب کہ تین لاکھ افراد متاثر ہیں۔ البتہ چین میں مسلسل تیسرے روز بھی کورونا وائرس کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا ہے۔پاکستان میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ملک میں کورونا وائرس سے متاثر مریضوں کی تعداد چھ سو پچاس سے تجاوز کرچکی ہے جب کہ اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے۔ یہ سب علامات ظاہر کررہی ہیں کہ آنے والے دن کتنے کٹھن ہوں گے۔ حکومت نے دوہفتے کے لیے بین الاقوامی فضائی آپریشنز بندکرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
فیصلہ حکومت کے لیے مشکل تھا لیکن صورتحال دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ ایوی ایشن حکام کے مطابق دوہفتوں کی پابندی کے دوران ایوی ایشن انڈسٹری کا نقصان پچیس ارب سے زائد تک پہنچ سکتا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے نیشنل کوآرڈینشن کمیٹی کے اجلاس کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کو سول انتظامیہ کی مدد تیز کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں ۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد کہا کہ انفرادی طور پر کورونا وائرس سے بچاؤ کرنا درحقیقت اجتماعی حفاظت کی بنیاد ہے۔
ہر انفرادی حفاظتی اقدام اہمیت کا حامل ہے ' ہمیں پہلے انفرادی طور پر ایک ذمے دار شہری بننا ہے تاکہ اجتماعی سطح پر حکومت اور اداروں کی کوششیں کامیاب ہوسکیں۔ پاک افواج کے سپہ سالار نے جن دانشمندانہ خیالات کا اظہار کیا ہے وہ یقینا قوم کے لیے مشعل راہ ہیں۔ جب بھی قوم پر کوئی مشکل وقت آیا ہے تو سب سے پہلے پاک فوج عوام کی مدد کو پہنچی ہے اور اس وقت کورونا وائرس کیخلاف بھی ایک جنگ کا آغاز ہوچکا ہے۔ ہماری فوج کا ہر ہر جوان اس چیلنج سے مقابلے کے لیے تیار ہے اور سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر عوام کی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ وزیراعظم بذات خود پوری قوم کے لیے فکر مند ہیں لہٰذا وہ ہرقدم اٹھانے کے لیے تیار ہیں جس سے قوم کا بھلا ہوسکے۔
چین کی مثال ہمارے سامنے ہے جس نے تین ماہ کی مدت کے اندر اس انتہائی خطرناک مرض پر قابو پایا ہے۔ اس وقت قوم کے ہرفرد پر فرض ہے کہ وہ انتہائی نظم وضبط کا مظاہرہ کرے' جو ہدایات وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے جاری ہورہی ہیں ان پر عمل کریں ۔ کورونا وائرس کو آسان نہ سمجھا جائے اور نہ حکومت کی جانب سے دی جانیوالی چھٹیوں کو تفریح کا ذریعہ سمجھ کر ہجوم کی صورت اکٹھا ہوا جائے۔
قوم کے ہرفرد کو اس صورتحال کی نزاکت کو سمجھنا اور سرکاری احکامات پر عمل کرنا چاہیے ، ورنہ وفاقی حکومت کے پاس پورے ملک میں لاک ڈاؤن کرنا مجبوری بن جائے گا۔ ہمیں چاہیے کہ حکومت اور محکمہ صحت کی کورونا وائرس کے حوالے سے ہدایات پر عمل کریں ۔ یہ ہماری قومی زندگی کی بقا اور سلامتی کا اہم ترین معاملہ ہے اس سے صرف نظر کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔آنے والے دن بہت مشکل ہیں لیکن اﷲ پر بھروسہ اور ایمان رکھتے ہوئے ہمیں اس وبا سے نہ صرف خود کو بچانا بلکہ اس پر قابو بھی پانا ہے۔ لہٰذا ہمیں قومی یکجہتی کے ساتھ ساتھ فہم وفراست' تدبر' تحمل اور برداشت کے جذبے سے کام لینا ہوگا۔ یہاں پر چند گزارشات کے ذریعے اہم ترین مسائل پر وفاقی حکومت کی توجہ مبذول کروانابھی ضروری ہے۔
اگر پورے ملک میں لاک ڈاؤن ہوتا تو یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کے لیے گھروں میں راشن پہنچانا ضروری ہے۔ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے علاج کے لیے ادویات کی ضرورت ہوگی ' ٹیسٹ سے لے کر علاج تک کے مراحل کے لیے ہمیں جو جو اشیا درکار ہوںگی ان کی درآمد پر ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسز ختم یا کم کیے جانے چاہیں۔کورونا ٹیسٹ ہرشخص کا بلامعاوضہ ہو یا پھر انتہائی کم رقم وصول کی جائے۔ نجی اور سرکاری اسپتالوں میں علاج معالجے کی ہرممکن سہولیات پہنچائی جائیں۔ جو ادویات اس مرض کے خاتمے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں ان کو وافر مقدار میں ڈیوٹی فری درآمد کیا جائے۔ اشیائے خورونوش پر جی ایس ٹی کو ختم کردیا جائے۔
عالمی منڈی میں اس وقت پٹرول کی قیمتیں انتہائی کم ترین سطح پر آچکی ہے۔ وفاقی حکومت کو یکم اپریل کا انتظار کیے بغیر فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردینا چاہیے ۔جب لوگوں گھروں پر رہنے پر مجبور ہوجائیں گے تو ایسے موقعے پر بجلی کی لوڈشیڈنگ ہرگز نہ کی جائے بلکہ بجلی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایاجائے ۔ اس ضمن میں سندھ حکومت کی تجویز انتہائی صائب ہے جن افراد کا کم ازکم پانچ ہزار ماہانہ بجلی کا بل آتا ہے ان سے یہ بل 10 ماہ کی قسطوں میں وصول کیا جائے اوریوٹیلٹی بلز نہ ہی لیے جائیں تو زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس صورتحال میںپاکستانی عوام بل ادا کرنے کے قابل نہیں ہوں گے ۔ بجلی کے بلوں میں ٹی وی لائسنس کی جو فیس وصول کی جاتی ہے وہ بھی نہ لی جائے۔ حکومت کو ہر وہ ممکن قدم اٹھانا چاہیے جس سے ملک کے عوام کو ریلیف مل سکے ۔