چمن بارڈر کوکھولنا کیا درست فیصلہ ہے

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز ٹویٹ کے ذریعے یکطرفہ طور پر پاک افغان بارڈرکھولنے کے احکامات دیے تھے۔


Editorial March 23, 2020
افغانستان سے کتنے لوگ یہ کورونا لائے اس کا کسی کوعلم نہیں، فوٹو: فائل

اخباری اطلاع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر20روز سے بند چمن بارڈر کو ہفتے کو افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے کھول دیاگیا جس کے بعد تازہ پھلوں، سبزیوں اور دیگر اشیائے خورو نوش کے 70 ٹرک افغانستان کی حدود میں داخل ہوگئے۔وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز ٹویٹ کے ذریعے یکطرفہ طور پر پاک افغان بارڈرکھولنے کے احکامات دیے تھے۔

کورونا وائرس سے پیشگی بچاؤ کی خاطر وفاقی حکومت نے پاک ایران اور پاک افغان بارڈر کو بالترتیب تفتان اور چمن کے علاوہ دیگر مقامات پر بندکرنے کااعلان کیا تھا جس کے باعث افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور نیٹو سپلائی کرنے والی مال بردارگاڑیوں کی بڑی تعداد چمن شہر میں پھنس گئی تھی، اب پاکستان کی طرف سے یکطرفہ مال بردار گاڑیوں کے افغانستان جانے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومت پاکستان نے پاک ایران اور پاک افغان بارڈر بند کرنے کا بالکل درست فیصلہ کیا تھا اور اس کے بعد یہ امید بندھی تھی کہ کم از کم کورونا وائرس باہر سے تو پاکستان میں داخل نہیں ہوگا ' وزیراعظم نے یقیناً یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا ہو گا لیکن سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ اس وقت جب پوری قوم کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں کیا قومی سلامتی کے اس اہم ترین مسئلے پر صرف ایک ٹویٹ کے ذریعے معاملات کو نمٹانا صائب عمل ہے' ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس اہم فیصلے پر مشاورت کے لیے پارلیمنٹ ، کابینہ یا قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا جاتا اور ان سے رائے لینے کے بعد اس بارے میں فیصلے کیے جاتے۔اس وقت جب پاکستان انٹرنیشنل فلائٹس تک بند کر چکا ہے۔

ایسے میں چمن بارڈر کھولنے کے فیصلے سے تشویش کا ابھرنا قدرتی امر ہے۔ممکن ہے کہ اس حوالے سے کوئی بین الااقوامی قانون حائل ہو ، بہرحال اگر کو ئی مجبوری ہے بھی تو اس پر افغان حکومت کو بھی قائل کیا جانا چاہیے کہ پاکستان سے بھی لوگوں کا اور سامان کا جانا، افغان عوام کے لیے بہتر نہیں ہوگا۔ بہرحال امید ہے کہ افغانستان جانے والے ٹرک ڈرائیوروں اور دیگر عملے کا روانگی سے پیشتر مکمل چیک اپ کیاگیا ہوگا اور جب یہ ٹرک ڈرائیور اور دیگر عملہ واپس آئیں تو بھی ان کا 15روز تک قرنطینہ میں رکھ کر مکمل میڈیکل چیک اپ ہونا چاہیے ، اس طرح حفاظتی اقدامات کیے بغیر یہ افراد پورے ملک میں کورونا وائرس پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں۔

ہم ایران سے آنے والوں کا پہلے ہی بھگتان بھگت رہے ہیں، پاکستان میں کورونا وائرس ایران سے ہی پاکستان میں داخل ہوا، اس کے علاوہ افغانستان سے کتنے لوگ یہ موذی وائرس لے کر پاکستان میں داخل ہوئے، اس کا کسی کو علم نہیں ہے ۔ ایک جانب کورونا وائرس کے انسداد کے لیے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کی تجاویز پیش کی جا رہی ہیں تو دوسری جانب شمال مغربی سرحدوں کو ان تشویشناک حالات میں بھی نرم رکھا جارہا ہے۔ پارلیمنٹ کا بھی کہیں وجود نظر نہیں آرہا۔ فیصلے کہاں ہورہے ہیں، مشاورت کن سے کی جارہی ہے،عوام کو کچھ نہیں بتایا جارہا۔

مقبول خبریں