پاکستان میں کورونا وائرس تیسرے فیز میں داخل

احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے والے سیدھے موت کی وادی میں پہنچ جائیں گے۔


Editorial March 24, 2020
احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے والے سیدھے موت کی وادی میں پہنچ جائیں گے۔ فوٹو : فائل

پاکستان میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ اس وقت ملک بھر میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 803 ہوگئی ہے،کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد چھ ہے،پاکستان میں وائرس اب تیسرے فیز (مرحلے) میں داخل ہورہا ہے ۔ صورتحال دن بدن سنگین ہوتی جارہی ہے۔

ملک بھر میں یوم پاکستان بھی انتہائی سادگی سے منایا گیا ۔قومی اعزازات کی تقاریب منسوخ کردی گئیں ، جب کہ مزار اقبال پر گارڈزکی تبدیلی تقریب بھی نہ ہوسکی۔ عالمی سطح پر دیکھا جائے تو کورونا وائرس سے دنیا کے تقریبا تمام ممالک میں چودہ ہزار سے زائد افراد لقمہ بن چکے ہیں جب کہ تین لاکھ سے زائد متاثر ہیں۔اٹلی میں اموات کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا، اٹلی میں اموات کی تعداد ساڑھے پانچ ہزار سے تجاوز کرچکی ہیں جو دنیا کے کسی بھی ایک ملک میں مرنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

پوری دنیا میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک ارب سے زائد افراد اپنے گھروں میں بند ہیں۔ پاکستان کے دوسرے بڑے صوبے سندھ میں پندرہ روزہ کے لیے لاک ڈاؤن کا آغاز ہوچکا ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے اتوار کو قوم سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں عوام رضاکارانہ طور پر لاک ڈاؤن کریں ، کھانسی ، نزلہ ، زکام یا بخار کی صورت میں خود کو دوسروں سے علیحدہ کرلیں ۔

انھوں نے مزید کہا کہ حکومت اپنی ذمے دارویوں سے آگاہ ہے ۔ اشیائے خورونوش کا وافر ذخیرہ موجود ہے ۔ اس وقت ملک میں لاک ڈاؤن کی بحث جاری ہے، اٹلی یا چین جیسے حالات ہوتے تو فورا لاک ڈاؤن کردیتا ، ملک کی پچیس فی صد آباد غربت کی لکیر سے نیچے ہے جو وقت دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے کماتی ہے اورمکمل لاک ڈاؤن ہوا تو غریبوں کا کیا بنے گا؟

بلاشبہ وزیراعظم ایک درد دل رکھنے والے انسان ہیں اور وہ صورتحال کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں انھیں کیا کرنا ہے۔ قوم سے خطاب کے دوران انھوں نے اپنے دل کھول کر رکھ دیا، ان کے اختصار میں جامعیت کا پہلو نمایاں نظرآیا ہے، انھوں نے جو سوال کیا کہ کیا ہمارے پاس اتنی صلاحیت ہے کہ ہم اتنی بڑی تعداد کے لیے گھروں میں کھانا پہنچا سکیں؟

بالکل درست بات کہی ہے دراصل ترقی یافتہ ممالک میں ایک پورا نظام پایا جاتا ہے جس کے تحت وہ ملک انتظام وانصرام چلاتے ہیں جب کہ ہمارا سرے سے کوئی سسٹم بن ہی نہیں سکا ہے، ایسے میں عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم ملک بھر میں مکمل لاک ڈاؤن کرنے سے اجتناب کررہے ہیں ۔وزیراعظم نے ایک ٹویٹ بھی کیا ہے ، جس میں ان کا کہنا ہے کہ جومحدود ہے وہ محفوظ ہے ، عوام رضاکارانہ لاک ڈاؤن کی راہ اختیار کریں۔انھوں نے مزید کہا کہ اللہ انسان کو مشکل وقت میں آزماتا ہے ، مشکل وقت میں ہی قوم کے جذبے کا پتہ چلتا ہے ۔

دوسری جانب چیف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرصدارت اسپیشل کور کمانڈرز کانفرنس گزشتہ روز جی ایچ کیو میں کورونا وائرس کے حوالے سے واحد نکاتی ایجنڈے پر منعقد ہوئی ۔ کورکمانڈروں نے متعلقہ کور ہیڈکوارٹرز سے وڈیو کانفرنس کے ذریعے حصہ لیا ۔

اس وبائی مرض پر قابو پانے کے لیے مختصر نوٹس پر سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے والی سرگرمیوں میں مدد کے لیے تیار رہنے کا کام سونپا گیا ہے۔ اس موقعے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ایک ذمے دار اور پرعزم قوم کو کچھ بھی شکست نہیں دے سکتا، پاک فوج قومی کوششوں کا حصہ ہونے کے ناتے ایک مقدس فریضہ کی حیثیت سے قوم کی خدمت اور حفاظت کرے گی ۔

پنجاب میں بھی لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا گیا ہے ،وزیراعلی عثمان بزدار نے پیر کو اس کا اعلان کیا ہے ،کورونا وائرس کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے تحت لاہور، راولپنڈی اور ملتان میں میٹرو بس سروس کو پہلے ہی معطل کیا جاچکا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ایکسپوسینٹر لاہور میں فیلڈ اسپتال کا دورہ کیا اور جاری کام کا جائزہ لیا ، اس فیلڈ اسپتال میں مریضوں کو آئسولیشن میں رکھا جائے گا ، انھوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ احتیاطی تدابیر اپنائیں اور سماجی فاصلہ رکھیں ، وقتی فاصلے مستقل فاصلوں تک بچاسکتے ہیں، صوبے میں کسی قسم کی خوراک کی قلت نہیں ، پنجاب ایک لاکھ لوگوں کی دیکھ بھال کرسکتا ہے۔

عثمان بزدار نے لاہور شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ حکومت پنجاب کی کوششیں اپنی جگہ لیکن یہاں ہم اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ لاہور میں لوگ تادم تحریر احتیاط سے کام نہیں لے رہے ہیں ۔ بالخصوص نوجوانوں نے ان چھٹیوں کو موج مستی کا ذریعہ بنا لیا ہے جوکہ انتہائی خطرناک ہے لہٰذا صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ آوارہ گردی ایکٹ کو لاگو کرے،یا پھر دفعہ 144کے نفاذکا اعلان کرے،تاکہ وائرس کے پھیلاؤاور عوام کی بے احتیاطی پر قابو پایا جاسکے۔ لاہور میں انتہائی مضرصحت انداز میں مٹن اور بیف فروخت ہورہاہے۔

دکانوں پر لٹکے ہوئے گوشت پر مکھیوں اور مچھر کی بہتات نظر آتی ہے اسی طرح برائیلر مرغی کا گوشت بھی ہے۔ چین میں وائرس جانوروں کے گوشت سے پھیلاہے ہمیں احتیاط برتتے ہوئے گوشت کی خریدوفروخت پر کم ازکم ایک ماہ کی پابندی لگا دینی چاہیے۔ اس وقت ہر شخص کی خواہش ہے کہ وہ اسپتال سے کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرالے ، ہمیں اس سوچ کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی کیونکہ اس طرح اصل مریض تشخیص سے محروم رہ جائیں گے۔

صرف ڈاکٹر متاثرہ شخص کو ایڈوائس لکھ کردے، اسی کا ٹیسٹ اسپتال میں کیا جائے، ہر ایک کا نہیں۔نجی اور سرکاری اسپتالوں میں علاج معالجے کی ہرممکن سہولت بہم پہنچانے کے لیے وسیع پیمانے پر مربوط انتظامات وقت کا اہم ترین تقاضہ ہیں ۔ جو ادویات اس مرض کے خاتمے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں ان کو وافر مقدار میں موجود ہونا ضروری ہے لیکن میڈیکل اسٹور پر ڈاکٹرز کے نسخے کے بغیر ادویات ہرگز نہ دی جائیں۔

بلاتاخیر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردینا چاہیے ، تاکہ عوام کو کم ترین نرخ پر پٹرول دستیاب ہوسکے۔ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ہرگز نہ کی جائے بلکہ بجلی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایاجائے ۔ملک بھر کے عوام سے یوٹیلٹی بلز نہ ہی لیے جائیں بلکہ چند ماہ تک موخر کردیے جائیں تو زیادہ بہتر رہے گا ، جب عوام کے معاشی حالات بہتر ہوجائیں تو انتہائی آسان اقسط میں یہ رقم وصول کی جاسکتی ہے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کس درجے کیٹگری کا ہے اس بات کا حکومتی سطح پر تعین نہیں کیا جاسکا ہے، البتہ ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان میں وائرس اب تیسرے مرحلے میں داخل ہورہا ہے ، جس میں وائرس کی شدت میں بھی تیزی آجائے گی ٗمعروف ہیماٹالوجسٹ ڈاکٹر طاہرشمسی نے ایکسپریس کو بتایا کہ اس وقت پاکستانی ماہرین صحت ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف ونرسنگ عملہ براہ راست کورونا کے نشانے پر آگیا ہے ۔ ابھی پاکستان میں کورونا وائرس سے شرح اموات صفر اعشاریہ پانچ فی صد سامنے آرہی ہے۔

حیرت کا مقام ہے کہ تاحال پاکستانی عوام اس وائرس کی ممکنہ تباہ کاریوں سے بے خبر ہیں اورخود کو گھروں تک محدود رکھنے کی ہدایت پر مکمل عمل نہیں کررہے ہیں جوکہ انتہائی خطرناک بات ہے۔

یاد رکھیں احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے والے سیدھے موت کی وادی میں پہنچ جائیں گے۔ لہٰذا عوام سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود کو ہرصورت میں گھروں تک محدود رکھیں اسی میں ہم سب کی فلاح اور بھلائی کا راستہ پوشیدہ ہے۔ قومیں آزمائش کی گھڑی میں ثابت قدم رہتی ہیں ہم بھی ایک زندہ قوم ہیں اس کا ہمیں عملی ثبوت دینا ہوگا۔

 

مقبول خبریں