پاکستان اور افغانستان کو مل کر کام کرنا چاہیے

پاکستان اور افغانستان نے دہشت گردی سے مل کر نمٹنے‘ دو طرفہ تعلقات‘ امن عمل میں ملا برادر کے کردار اور ...


Editorial December 01, 2013
کابل:وزیراعظم نوازشریف اور افغان صدر حامد کرزئی مشترکہ پریس کانفرنس سیقبل کسی معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں ۔فوٹو : ایکسپریس

پاکستان اور افغانستان نے دہشت گردی سے مل کر نمٹنے' دو طرفہ تعلقات' امن عمل میں ملا برادر کے کردار اور باہمی تجارت کو فروغ دینے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیام امن کے لیے مل کر کوششیں کرتے رہیں گے جب کہ وزیراعظم محمد نواز شریف نے واضح کیا ہے کہ پر امن افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے' پاکستان افغانستان کی ہر مرحلے پر حمایت جاری رکھے گا' افغانستان میں امریکی اڈوں کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ افغان حکومت خود کرے گی' افغانستان خود مختار ملک ہے اسے اپنے فیصلوں میں مکمل آزادی حاصل ہے' افغان عوام اپنی قسمت کا فیصلہ خود کریں' 2014 ء کے بعد بھی تعاون جاری رکھیں گے' افغان صدر جس کو بھی چاہیں ملا برادر سے ملاقات کے لیے بھیج سکتے ہیں۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ہفتے کو کابل میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی سے ون آن ون ملاقات کی' موجودہ حالات کے تناظر میں یہ ملاقات انتہائی اہمیت اور دور رس اثرات و نتائج کی حامل ہے۔اس کے بعد دونوں رہنمائوں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا' اس مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیراعظم نواز شریف نے کھل کر پاکستان کے موقف کا اظہار کیا ہے۔پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک ایک عرصہ سے دہشت گردی کا شکار ہیں، یہ عفریت اس قدر پھیل چکا ہے کہ دونوں ممالک کو اس سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل صرف کرنا پڑ رہے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ پاکستان اور افغانستان مل کر ہی دہشت گردی کا مقابلہ کر سکتے ہیں' یہ نہیں ہو سکتا کہ افغانستان ایسے لوگوں کو اپنے ملک میں پناہ دے جو پاکستان میں آ کر دہشت گردی کی وارداتیں کرتے رہیں اور یہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ایسے گروہ موجود ہوں جو افغانستان کی حکومت کے لیے مسائل پیدا کرتے رہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے تمام اختلافات بالائے طاق پر رکھتے ہوئے دہشت گرد گروپوں کی سرکوبی کے لیے متفقہ پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

یہ بدلتے ہوئے حالات کا تقاضا ہے کہ دونوں ممالک متفقہ لائحہ عمل اپنانے میں تاخیر نہ کریں ورنہ دونوں دہشت گردی کا عذاب جھیلتے رہیں گے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے تو واضح کر دیا ہے کہ ملا برادر کو افغان حکومت کے ساتھ مشاورت کے نتیجے میں رہا کیا گیا ہے' ان کی ملاقاتوں پر کوئی پابندی نہیں ہے' افغان صدر جس کو بھی چاہیں' ملا برادر سے ملاقات کے لیے بھیج سکتے ہیں۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے اس بیان کے بعد ان افواہوں کا خاتمہ ہو جانا چاہیے جن میں یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ ملا برادر پاکستانی ایجنسیوں کی نگرانی میں ہیں اور انھیں آزادی حاصل نہیں' اب افغانستان کی حکومت چاہے تو وہ ان سے ملاقات کرنے کے لیے اپنا نمایندہ بھیج سکتی ہے۔ پاکستان نے بھی افغانستان میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کوششیں کی ہیں' سابق افغان صدر برہان الدین ربانی کے صاحبزادے صلاح الدین ربانی پاکستان آتے جاتے رہتے ہیں اور ان کی مشاورت سے پاکستان نے کئی طالبان رہنما بھی رہا کیے ہیں'تاکہ مذاکرات کے عمل کے ذریعے خطے میں امن قائم ہو اور دہشت گردی کے عذاب سے جان چھوٹے، پاکستان اس سے زیادہ کیا کر سکتا ہے۔

اس کے برعکس پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث مولوی فضل اللہ کے خلاف حکومت افغانستان نے کوئی کارروائی نہیں کی' افغانستان کی حکومت کو اس حوالے سے اپنے کردار پر ضرور غور کرنا چاہیے۔اگلے برس افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا شروع ہونا ہے' امریکی فوج کے انخلا کے بعد افغانستان ایک نئے دور میں داخل ہونے جا رہا ہے' امریکا اپنی پوری فوج واپس نہیں لے جا رہا' وہ یہاں اپنے اڈوں میں ایک محدود تعداد رکھے گا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اسی حوالے سے کہا ہے کہ امریکی اڈوں کے بارے میں فیصلہ افغانستان کی حکومت کرے گی۔ یہ بالکل درست موقف ہے' پاکستان افغانستان کو ایک خود مختار ملک سمجھتا ہے لہٰذا اسے اپنے فیصلے خود کرنے کا پورا اختیار حاصل ہے۔ افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کے بعد افغانستان کی حکومت کے لیے کئی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں'امریکا کی تمام تر کارروائیوں کے باوجود طالبان ابھی تک افغانستان میں ایک اہم قوت کے طور پر موجود ہیں۔

امریکی فوجوں کی واپسی کے بعد طالبان کی کارروائیوں میں اضافے کے خدشے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا'ایسے حالات میں افغانستان کو نئی خانہ جنگی سے بچانے کے لیے پاکستان اور افغانستان کو مل کرچلنا ہو گا'افغانستان کی حکومت کو پاکستان کے مفادات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کیونکہ پاکستان کے تعاون کے بغیر افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے تو افغانستان کی تعمیر نو اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے پاکستان کی طرف سے 385 ملین کی امداد بڑھا کر 500 ملین ڈالر کرنے کا اعلان کیا ہے۔دونوں ممالک نے آپس میں مزید روابط کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا جن میں پشاور اور کابل کے درمیان موٹروے' پشاور اور جلال آباد' چمن اور سپن بولدک کے درمیان ریل روابط شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے کاسا 1000 اور تاپی گیس پائپ لائن جیسے علاقائی منصوبوں کی تیزی سے تکمیل کے عزم کا اظہار کیا۔ کاسا 1000 اور تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کے بارے میں بھی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا اسے جلد مکمل کیا جانا چاہیے۔ان منصوبوں کی تکمیل سے دونوں ممالک میں بہتر روابط پیدا ہوں گے۔

پاکستان اور افغانستان ایسے ہمسائے ہیں جو اگر اپنے تحفظات اور تعصبات دور کر کے مل کر کام کریں تو اس خطے میں ترقی کا نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔ افغانستان کی حکومت کو ڈیورنڈ لائن کے مسئلے پر پاکستان کے موقف کی تائید کرنی چاہیے اور پاک افغان سرحد کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے یہاں باڑ نصب کرنے کے منصوبے کی حمایت کرنی چاہیے۔ اسی طرح پاکستان کی حکومت کو چاہیے کہ وہ پاکستان میں موجود افغان باشندوں کو وطن واپس بھیجنے کے اقدامات کرے تاکہ یہاں کی معیشت پر غیر ضروری بوجھ کم ہو سکے۔

مقبول خبریں