کورونا کے آئندہ دو ہفتے۔۔۔

حکمراں جماعت پیدا شدہ صورتحال کا کوئی جامع حل تلاش کررہی ہے


Editorial April 02, 2020
حکمراں جماعت پیدا شدہ صورتحال کا کوئی جامع حل تلاش کررہی ہے

کورونا وائرس کے پھیلتے خطرات نے گلوبل ولیج کو اعصابی بھنور میں جکڑ لیا ہے۔ عالمی برادری کے مطابق عالمی جنگ دوم کے بعد کورونا وائرس سب سے بڑا خطرہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایشیائی ممالک میں کورونا کے خاتمہ کا فوری طور پر کوئی امکان نہیں، ان ملکوں کے شہریوں کو دیر تک حفاظتی اقدامات تسلسل سے جاری رکھنا ہوں گے، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک سمیت پورے ملک میں آیندہ آنے والے دو ہفتوں کو درد ناک قرار دیا ہے، امریکی صحت حکام نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ کورونا وائرس سے امریکا میں ہونے والی ہلاکتیں بے پناہ ہوسکتی ہیں اور ڈھائی لاکھ افراد یا اس سے زیادہ اس وبا سے لقمہ اجل بن سکتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان بھی کورونا وائرس کے شدید حملوں کے تسلسل کا خطرہ ظاہر کرچکے ہیں، انھوں نے کہا کہ 15جنوری کو اندازہ ہوگیا تھا کہ کورونا وائرس کی وبا آچکی ہے اور اسی وقت سے احتیاطی تدابیر شروع کردی گئیں تھیں، منگل کے روز ان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کورونا وائرس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر غور کیا گیا۔ وفاقی کابینہ نے1200ارب روپے کے حکومتی ریلیف پیکیج اور3 سال کی مدت کے لیے سکوک بانڈز کے اجرا کی منظوری دی۔ اجلاس میں گڈز ٹرانسپورٹ کے مسائل کے ساتھ ساتھ ایکسپورٹرز کا مال بھی روکنے کا معاملہ زیر غور آیا۔

وزیراعظم نے رینجرز کو سندھ میں گڈز ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کرنے اور گڈز ٹرانسپورٹ کے ساتھ ایکسپورٹرز کا مال بھی نہ روکنے کی ہدایت کی۔ منگل کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 6 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ احساس پروگرام کے تحت ایک کروڑ20 لاکھ افراد کو 12ہزار روپے فی گھرانہ کیش ٹرانسفر کیا جائے گا۔ کابینہ نے ریلوے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کے لیے بھی چھ ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دی، تین ماہ تک ہر مہینے دو ارب روپے جاری کیے جائیں گے۔ کابینہ نے ای سی سی کے فیصلوں کی بھی توثیق کر دی۔ 15 بین الاقوامی پروٹوکول کنونشنز کی منظوری دی گئی، بھٹہ مزدوروں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی۔ کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے مختلف شہروں میں آٹے کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کی شکایات پر برہمی کا اظہار کیا اور وزیر فوڈ سکیورٹی کو فوری ریلیف اور امداد کا حکم دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آٹا وافر مقدار میں موجود ہے تو نہ قلت پیدا ہو نہ قیمت بڑھنی چاہیے۔ وزیراعظم نے ریلوے، ایف بی آر اور پی آئی اے میں اصلاحات لانے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر مراد سعید نے کہا کہ وزیراعظم کے بروقت اور درست اقدامات کو نمایاں انداز میں پیش نہیں کیا جاتا۔ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ کابینہ اجلاس میں ٹرانسپورٹ بند ہونے سے آنے والی مشکلات کا ذکر کیا گیا۔ وزیراعظم نے گڈز ٹرانسپورٹ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ انھیں لاک ڈاؤن اور بڑی شاہراہیں بند ہونے سے عوام کی تکالیف کا اندازہ ہے، صورتحال بہتر ہوتے ہی مسافر گاڑیوں کو بھی اجازت دیں گے۔

وزیراعظم نے رینجرز کو سندھ میں گڈز ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ٹرک اڈوں پر ٹرانسپورٹروں کے ہوٹل بھی بند ہیں جس کی وجہ سے ڈرائیورز کچھ کھا پی نہیں سکتے۔ اجلاس کے دوران ٹرانسپورٹروں کے لیے مخصوص ڈھابہ ہوٹل کھولے جانے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں 1865کورونا کیسز رجسٹر ہوئے ہیں، 25 کی اموات ہو چکی،58 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں، کورونا پر قابو پانے کے لیے وزیراعظم نے 2 رخی حکمت عملی اپنانے کے ساتھ ساتھ متاثرہ افراد کے ساتھ صوبائی اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو حسن سلوک کی ہدایت کی۔

حکومت بلاشبہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات اور فول پروف منصوبہ بندی کی کوششیں کررہی ہے لیکن ملک میں ایک مربوط اور منظم معالجاتی میتھڈ کا فقدان ہے اور وبا نے جس طرح دنیا میں اپنے پنجے گاڑے ہیں اس سے کمزور ایشیائی ملکوں کی تو بات ہی الگ ہے، دینا کی مستند عالمی قوتیں بھی کورونا کے سامنے ڈھیر ہوچکی ہیں، ان کے بظاہر مضبوط ہیلتھ سسٹم کی سانسیں اکھڑ چکی ہیں، ایک افرا تفری اور انتشار ہے جس نے ہر ملک کو پریشان اور فیصلے و اقدامات کے بحران میں مبتلا کردیا ہے، کیا کوئی تصور کرسکتا ہے کہ اٹلی، برطانیہ، امریکا، فرانس، اسپین، اور دیگر یورپی ممالک اپنے صحت سسٹم کے ملبے تلے دب کر رہ جائیں گے اور امریکا ایک وجودی خطرہ سے دوچار ہوجائیگا۔

کورونا کے علاج کے لیے نیویارک کے سینٹرل پارک اور یو ایس اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے ہوم گراؤنڈ کو ہنگامی طور پر فیلڈ ہاسپیٹل میں تبدیل کردیا گیا ہے، جان ہوپکنز یونیورسٹی کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق امریکا میں کورونا وائرس کے کیسز بدھ کے اوائل میں ایک لاکھ 89 ہزار510 ہوگئے تھے جس میں سے 4 ہزار76 اموات ہوئیں یہ تعداد چین میں ہونے والی3 ہزار310 اموات سے کہیں زیادہ ہیں۔

پاکستان میں حکومتی سطح پر امکانی اموات کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے تاہم وائرس کی دیدہ دلیری کو دیکھتے ہوئے پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں صورتحال سے نمٹنے کی تیاریاں جاری ہیں اور کمزوریوں اور انتظامی کوتاہیوں کے ازالے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے مگر وزرائے اعلیٰ، گورنر صاحبان، وزیروں، معاونین خصوصی، وزارت صحت،ا سٹیبلشمنٹ، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل کی ٹیموں، سول سوسائٹی اور فلاحی و رفاہی تنظیموں کو کورونا کے خلاف جہاد کرنا ہوگا، کورونا نے انسانی صحت کے لیے ہولناک چیلنجز پیدا کیے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک صورتحال کورونا کی ابھی کی پیدا کردہ ہے جب کہ اس وبا کے خاتمے کے بعد بھی ریاست و حکومت اور سیاسی جماعتوں کو سیکنڈ فیز کے لیے اپنی توانائیاں صرف کرنا ہوںگی، ملکی معیشت کی بحالی سب سے اہم ٹاسک ہوگا۔

ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق غیرملکی خریداروں نے ٹیکسٹائل مصنوعات کے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کے سودے منسوخ کردیے کیونکہ لاک ڈاؤن کے باعث ملکی معیشت پر منفی اثرات پڑنا شروع ہوگئے، ایف پی سی سی آئی نے آرڈر منسوخ کرنے کی تصدیق کی ہے، مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹائل و دیگر صنعتی پیداوار رکنے سے ملک میں سپلائی چین بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، صنعتکاروں و تاجروں کی نمایندہ انجمنوں کا کہنا ہے کہ حکومت بھارت اور بنگلہ دیش کی طرز پر اقدامات کرے۔

صوبائی حکومتوں کو لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل درآمد کرنے پر زور دیتے ہوئے ملکی معیشت کے خاموش بحران کو نظر انداز کرنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے، ملکی معاشی صورتحال ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے، حکومت کے ریلیف اور امدادی اعلانات کی عملی صورتحال شکوک و شبہات پیدا کررہی ہے، ٹائیگر فورس کے قیام کا اعلان کب حقیقت بنے گا، حکومت نے متعدد امدادی پروگراموں کی تفصیل جاری کی ہے لیکن حکومتی میکنزم کہیں نظر نہیں آتا، وزیراعظم کی فعال ٹیمیں امدادی کاموں میں پیش پیش نظر نہیں آتیں، جب کہ امدادی کاموں میں بھی پوائنٹ اسکورنگ کا غلبہ نظر آنے لگا ہے، اس وقت قومی اتفاق رائے کے ساتھ عوام کی خدمت ہونی چاہیے، قوم ایک آزمائش میں ہے، لیڈر شپ کی بھی آزمائش کا وقت ہے، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ شہری گھروں میں رہ کر سلامت رہیں اور دوسروں کو بھی رہنے دیں۔

ان کا انتباہ ہے کہ شہریوں نے لاک ڈاؤن اور دیگر اقدامات کو ہنسی میں اڑا دیا تو مشکلات بڑھیں گی، بہر حال ملک کے عوام بدستور ریلیف، امداد اور کھانے پینے کی اشیا کی رسائی کو ترس رہے ہیں، غربت اور بیروزگاری نے عوام کی زندگی کے لیے سوالات کھڑے کردیے ہیں، دیہاڑی دار مزدور فاقے کرنے لگے ہیں، ملک کے پوش علاقوں میں فٹ پاتھوں اور ٹریفک سگنلز پر روزگار سے محروم مزدور رکنے والی کاروں کی طرف دوڑ لگاتے ہیں تاکہ انھیں مخیر حضرات سے کچھ خیرات یا بھیک ہی مل جائے، یہ حالات زیادہ دیر نہیں چل سکیں گے۔

حکمراں جماعت پیدا شدہ صورتحال کا کوئی جامع حل تلاش کررہی ہے تو اس میں عوام کے لیے عارضی ریلیف شرط اول ہے۔ کورونا کے علاج معالجے، ٹیسٹنگ، آئسولیشن اور ویکسین کی تیاری اور ماسک، ودیگر ضروری سامان کی فراہمی ناگزیر ہے، سندھ میں پہلا ڈرائیو تھرو کورونا ٹیسٹ سینٹر قائم کیا گیا ہے، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں عوام کو ہر طرح کی سہولت ملنی چاہیے۔ مایوسی کی فضا ختم ہو اور عوام کو جو ریلیف مختلف حلقوں اور فلاحی و سیاسی اداروں کی طرف سے مل رہی ہے، اس سے کچھ اشک شوئی کا امکان پیدا ہوا ہے، اب اس کا دائرہ وسیع ہوگا تب ہی عوام ریلیف ملنے پر خوش ہونگے اور ان کے دلوں سے حکمرانوں کے لیے دعائیں نکلیں گی۔

امید کی جانی چاہیے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں ریلیف اور امداد دینے کا جلد اقدام کریں گے۔ توقع ہے کہ عوام لاک ڈاؤن اور سماجی فاصلہ رکھنے اور دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے حکومت سے تعاون کریں گے، اسی تعاون سے کورونا کو سرینڈر کرکے قوم سرخرو بھی ہوسکے گی اور ملک کے عوام صحتیاب ہوکر سکھ اور اطمینان کا سانس لے سکیں گے۔

مقبول خبریں