عالمی قرضوں میں رعایت خوش آئند
عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے پاکستانی معیشت کو بڑا ریلیف ملنا، تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہے
عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے پاکستانی معیشت کو بڑا ریلیف ملنا، تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہے۔ قرضوں کی واپسی کو ایک سال کے لیے منجمد کرنے کے فیصلے کو انتہائی امید افزاء قرار دیا جاسکتا ہے۔ اسی تناظر میں چند روز بیشتر وزیراعظم عمران خان نے عالمی برادری اور مالیاتی اداروں سے اپنے خطاب میں اپیل بھی کی تھی۔
پاکستانی معیشت کی بحالی اس وقت حکومت کے لیے یقیناً بہت بڑا چیلنج ہے۔ تازہ ترین صورتحال کے مطابق آئی ایم ایف سے مزید سہولت ملنے کے امکانات روشن ہوئے ہیں اور اس وقت ملکی زرمبادلہ کے ذخائر سترہ ارب 29 کروڑ روپے سے بڑھ گئے ہیں۔ اس کٹھن مرحلے میں ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ حکومت ایسے فیصلے ہنگامی اور جنگی بنیادوں پر کرے جس سے معیشت رواں دواں ہوسکے۔ پاکستان کے معاشی و اقتصادی مسائل زیادہ جب کہ وسائل پہلے ہی بہت کم ہیں۔ عالمی سطح پر پاکستان کے لیے قرضوں پر رعایت کا اطلاق فی الفور ہونا خوش آئند امر ہے۔
اب حکومت پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے وہ معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے بروقت اقدامات اٹھائے تاکہ عام آدمی کو ریلیف ملے سکے۔ دوسری جانب اسٹیٹ بینک نے شرح سود نو فیصد کردی ہے جس سے موجودہ حکومت میں پہلی بار شرح سود سنگل ڈیجٹ ہوگئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق مہنگائی کی شرح11سے 12فیصد رہے گی۔ اسٹیٹ بینک نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ حقیقی شرح سود کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان میں بھی شرح سود افراط زر سے کم ہے، اس طرح پاکستان حقیقی شرح سود کے لحاظ سے صفر شرح سود کے حامل ملکوں میں شامل ہوگیا ہے۔ تاجروں نے شرح سود میں دو فیصد کمی کا خیر مقدم کرتے ہوئے مزید دو فیصد کمی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
وزیرِاعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت نے عام آدمی کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے محدود کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دی ہے، ماہ رمضان کے حوالے سے حکمت عملی تشکیل دینے کے لیے وہ بہت جلد علمائے کرام سے ملاقات کریں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کورونا کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے میڈیا کا بھی کلیدی کردار ہے۔ وزیر اعظم ملک سے کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور اس کے ساتھ وہ خلوص دل سے چاہتے ہیں کہ عام آدمی کی مشکلات میں کمی واقع ہو، اب جب کہ پاکستان کو قرض واپسی کے لیے ایک سال کی رعایت مل چکی ہے تو ملکی معیشت کو اپنے پاؤں پرکھڑا کرنے کے لیے حکومتی سطح پر فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ زراعت کے شعبے کو زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے کیونکہ یہ شعبہ قومی غذائی تحفظ اور غربت کے خاتمے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی باتیں صائب ہیں، حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ موجودہ لاک ڈاؤن سے گندم کی کٹائی متاثر نہ ہوں۔
زرعی شعبہ ملکی معیشت میں اہم کردار کا حامل ہے لیکن بدقسمتی سے ماضی میں اسے ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ موجودہ حکومت پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شعبہ زراعت پر نہ صرف خصوصی توجہ دے بلکہ اس کے لیے صنعتی شعبے کی طرح ایک ریلیف پیکیج کا بھی اعلان کرے تاکہ کسانوں کے مسائل حل ہوسکیں اور ملکی معیشت مستحکم بنیادوں پر تشکیل پا سکے۔
عالمی وبا کورونا وائرس کے نتیجے میں 21 لاکھ سے زائد افراد متاثر جب کہ اموات کی تعداد ایک لاکھ 41ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جب کہ پاکستان میں بھی کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد سات ہزار سے زائد جب کہ اموات کا تسلسل جاری ہے، ایک ہی دن میں سولہ افراد جاں بحق ہوجانے سے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔ پاکستان اس وقت کورونا وائرس کے حوالے سے روز بروز انتہائی خطرناک اسٹیج میں داخل ہو رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سطح پر لمحہ بہ لمحہ صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور حکومتی سطح پر بروقت اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں، لیکن وائرس کے مقابلے کے لیے عوام کو سماجی دوری کا لازمی خیال رکھنا ہے، تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین، سیاسی ورکرز کو سماجی دوری برقرار رکھنا ہوگی،کیونکہ وائرس پھیلاؤ کا خطرہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے، عوام الناس کو احتیاط کا دامن تھامنا ہوگا۔ بحیثیت قوم ہمیں اس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہمیں اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے کورونا وائرس کا مقابلہ کرنا ہے۔
نا جانے ہم یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں کہ وائرس کسی میں فرق نہیں جانتا، وائرس کے مقابلے کے لیے ہمیں روایتی سماجی زندگی کی قربانی دینا ہوگی۔ حکومت پنجاب کی جانب سے لاک ڈاؤن میں نرمی اور مخصوص کاروبار کھولنے کی اجازت ملتے ہی شہر بھر میں بیشتر دکانداروں نے اپنی دکانیں کھول کر کام شروع کردیا۔ حکومت پنجاب کی جانب سے تعمیراتی کام، ہارڈ ویئرز، درزی، الیکٹرک وئیرز، سینٹری، بک اسٹورز، امپورٹڈ سامان بنانے والی فیکٹریوں کو کھولنے کی اجازت دی گئی تھی باقی پر پابندی چوبیس اپریل تک ہے لیکن علاقوں کی سطح پر چھوٹی مارکیٹیں، کھانے پینے کی دکانیں، دہی بھلے، چائے کے ہوٹلز، فرنیچرز، برتنوں کی دکانیں، مشروبات، پیزاہٹ، شوارما، پینٹس وغیرہ کی دکانیں کھل گئیں۔ پولیس نے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والے درجنوں تاجروں کو گرفتار کرکے تھانوں میں بند کردیا۔
ملک میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ صوبوں کی صورتحال کا جائزہ لیں تو خیبرپختونخوا میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 58 کیس رپورٹ ہونے کے بعد مصدقہ کیسز کی تعداد بڑھ کر 993 تک جا پہنچی ہے۔ بلوچستان میں خاتون سمیت کورونا کے دو مریض جاں بحق ہوگئے جب کہ مزید پچیس مصدقہ کیسز رپورٹ ہونے سے مریضوں کی کل تعداد تین سو پانچ ہوگئی۔ حکومت سندھ نے جمعہ کو12 بجے سے سہ پہر 3بجے تک مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے غیر مشروط تعاون پر علمائے کرام کا شکریہ ادا کیا۔
پشاور میں پچیس دن بعد لاک ڈاؤن میں نرمی کے ساتھ ہی مختلف بازار کھل گئے، بازاروں میں ہجوم اور مزدور طبقے کی بے احتیاطی سے کورونا وائرس پھیلنے کے شدید ترین خطرات ظاہر کر دیے گئے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے دیگر کئی اہم اقدامات کے علاوہ کورونا کے مشتبہ مریضوں کے لیے ٹیسٹنگ کی استعداد کو خاطر خواہ حد تک بڑھانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہیں، لیکن جس انداز سے لاک ڈاؤن کی پابندیوں کو عوام نظر انداز کررہے ہیں اس سے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں اور صورتحال انتہائی سنگین ہونے کے خدشے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ملکی سیاسی سطح پر دیکھا جائے تو وفاق اور سندھ باہم دست و گریباں نظر آتے ہیں۔ ملکی سیاسی قیادت کو اس نازک موقعے پر صبروتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاسی بیان بازی سے پرہیز کرنا چاہیے، یہی وقت ہے کہ باہمی سیاسی اختلافات کو بھلا کر کورونا وائرس کے خلاف سب مل کر لڑیں۔ المیہ یہ ہے کہ کورونا وبا کے خلاف وفاق اور صوبوں نے مشترکہ پلان نہیں بنایا ہے۔ دیہاڑی دار مزدوروں کا ڈیٹا بھی اکٹھا نہیں کیا جاسکا ہے، اس کے علاوہ بھی لاکھوں غریب لوگ ہیں جو امداد سے ابھی تک محروم ہیں، جن لوگوں نے کسی مجبوری کی وجہ سے پاسپورٹ بنایا، ان کو بھی احساس پروگرام سے نکال دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے وہ امداد سے محروم ہیں۔ وفاقی حکومت نے رمضان پیکیج کے لیے 2.5 ارب مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور انیس اشیائے خورونوش پر سبسڈی دی جائے گی۔
کھجور، چاول، بیسن، چائے اور دالوں سمیت دیگر اہم اشیا کی ارزاں نرخوں پر دستیابی ممکن بنائی جائے گی جب کہ عید کے بعد مزید دو سو یوٹیلٹی اسٹورز کھولے جائیں گے۔ حکومتی اقدامات لائق تحسین ہیں لیکن اس نازک موقعے پر ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھی کارروائی کی جانی چاہیے جو ناجائز منافع کے حصول کے لیے ذخیرہ اندوزی کے ساتھ اشیائے خورونوش کی مصنوعی قلت پیدا کررہے ہیں۔ وفاقی کابینہ نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف آرڈیننس کی منظوری دے دی ہے۔ آرڈیننس صدر مملکت کے پاس منظوری کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔ اس آرڈیننس کا اطلاق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی حدود میں ہوگا، بلاشبہ یہ ایک مستحسن اقدام ہے۔ صوبائی حکومتوں کو بھی اس کی تقلید کرنی چاہیے۔
ملک میں کورونا وائرس کا شکار ہونے والے ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی عملے کی تعداد ایک سو اسی سے زائد ہوگئی ہے، یہ اضافہ انتہائی تشویش ناک ہے۔ طبی رہنماؤں نے اگلے روز لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ طبی اور نیم طبی عملے کو یا تو ماسک اور دیگر سازوسامان بالکل نہیں دیا جارہا اور اگر کہیں پر یہ سازوسامان مہیا کیا جارہا ہے تو وہ انتہائی ناقص کوالٹی کا ہے۔ حکومت کو اس صورتحال کا فوراً نوٹس لینا چاہیے کیونکہ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں ہراول دستہ ہیں، خدانخواستہ انھیں نقصان پہنچا تو ہمیں یہ جنگ جیتنا بہت مشکل ہوجائے گا۔
یہ بات درست سہی کہ لاک ڈاؤن کے نتیجے میں مسائل میں بے پناہ اضافہ ہوا لیکن یہ سب کچھ عوام کی جانوں کی حفاظت کے لیے کیا جا رہا ہے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ لاک ڈاؤن کی پابندی کا خیال رکھیں اور خود کو گھروں تک محدود رکھیں۔ جتنی احتیاط برتی جائے اتنا ہی اچھا ہے۔ بلاشبہ میڈیا معاشرے میں شعور و آگہی پھیلانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کررہا ہے۔ اب یہ عوام پر فرض ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر کی پابندی خود پر لازمی قرار دیں، تب ہی ہم کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیت سکیں گے۔