وزیراعظم صاحب کراچی سے کیا ناراضی ہے

خان صاحب ’’صاحب اقتدار‘‘ ہونے سے پہلے بھی کراچی کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے تھے


شاہد انیق April 18, 2020
خان صاحب ’’صاحب اقتدار‘‘ ہونے سے پہلے بھی کراچی کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے تھے۔ (فوٹو: فائل)

کراچی صرف منی پاکستان ہی نہیں بلکہ پاکستان کا معاشی مرکز بھی ہے۔ اس شہر نے اپنے خون جگر سے ملک کی نیم مردہ معیشت کو آکسیجن فراہم کی ہے۔ یہ وسیع القلب شہر اپنے دکھ چھپاتا ہے اور دوسروں میں خوشیاں بانٹتا ہے۔ تعصب، سیاست اور فرقہ واریت کی گولیوں سے چھلنی یہ شہر ملک کے کسی بھی حصے میں کوئی قدرتی آفت آجائے، اپنے زخم پر مرہم پٹی کیے بغیر مدد کو دوڑا آتا ہے۔

اس شہر نے کئی سیاسی بتوں کو منہ کے بل گرایا ہے، آمریت کے خلاف جناح کی بہن کی ڈھال بنا، خوب مار کھائی لیکن جنرل کے آگے سر نہ جھکایا؛ اور لبرل بھٹو کے سامنے مذہبی جماعتوں کا ہراول دستہ ثابت ہوا۔ کرفیو برداشت کیے، محاصرے جھیلے لیکن تیس سال تک ایک ہی جماعت کو کامیاب کراتے رہے۔ اور جب عمران خان نے کراچی سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا اور یقین دلایا کہ اگلا وزیراعظم کراچی سے ہوگا تو ووٹ عمران خان کی جھولی میں ڈال دیئے۔

پھر چشم فلک نے دیکھا کہ تحریک انصاف کو کراچی سے خود ان کی توقع سے زیادہ نشستیں ملیں اور کراچی ہی کی جماعت ایم کیو ایم سے وفاق میں اتحاد کے باعث حکومت بنانے کا موقع بھی مل سکا۔ تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ کراچی سے منتخب ہونے والا امیدوار وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوا تھا۔ خان صاحب کا بھی یہی وعدہ تھا اور ووٹرز پھولے نہیں سما رہے تھے۔

کراچی والوں کی خام خیالی اس وقت ہی دور ہوگئی جب خان صاحب اقتدار میں آتے ہی ایک زائد حلقوں سے کامیاب ہونے کی وجہ سے کراچی والوں سے کیے گئے وعدے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کراچی کی سیٹ سے دستبردار ہوگئے اور کراچی والوں کا ظرف دیکھیے کہ اس حلقے میں ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کے نمائندے ہی کو جتوایا۔

خان صاحب ''صاحب اقتدار'' ہونے سے پہلے بھی کراچی کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے تھے۔ تنظیمی ڈھانچہ ہمیشہ افراط و تفریط کا شکار رہا، اندرونی سیاست پارٹی سیاست پر حاوی رہی، یہاں تک کہ ایک ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کا امیدوار الیکشن سے پہلی والی رات ایم کیو ایم کے مرکز پہنچ کر دستبرداری کا اعلان کررہا تھا اور اعلیٰ قیادت نرم بستروں میں خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی تھی۔

سیاسی نابلد ہونے کا اندازہ اس بات لگائیے کہ بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف نے کراچی میں جماعت اسلامی سے اتحاد کیا اور کامیابی کی صورت میں کراچی کے میئر و ڈپٹی میئر کےلیے حافظ نعیم الرحمان اور علی زیدی کے ناموں کا اعلان بھی کردیا گیا؛ اور ہوا یہ کہ نہ تو علی زیدی یو سی الیکشن جیت سکے، نہ حافظ نعیم الرحمان۔

ایسا نہیں تھا کہ تحریک انصاف کو بلدیاتی انتخابات میں نشستیں نہیں ملیں۔ نشستیں ملیں لیکن زمینی حقائق سے ناواقف، کراچی قیادت نے اپنے میئر کےلیے حلقے کا انتخاب ہی غلط کیا تھا۔ عمران خان نے اس موقع پر بھی کوئی مداخلت نہیں کی اور کراچی کے معاملات سے دور ہی رہے۔

اہل کراچی کو خوش فہمی تھی کہ اقتدار ملنے کے بعد خان صاحب سنجیدگی سے کراچی کے معاملات اور مسائل پر توجہ دیں گے لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ نہ جانے کیوں خان صاحب نے اپنا وعدہ وفا نہ کیا اور کراچی کی نشست سے دستبراد ہوگئے۔ وزیراعظم تو دستبردار ہوئے سو ہوئے، کراچی کے نمائندے جن کی پہنچ وفاق تک تھی، اسلام آباد کو ہی پیارے ہوگئے۔ جی ہاں بات علی زیدی اور فیصل واوڈا کی ہورہی ہے۔

کراچی میں تحریک انصاف کی پہچان، عمران خان کے اولین ساتھی اور کراچی سے 2008 میں منتخب ہونے والے واحد رکن قومی اسمبلی عارف علوی ملک کے صدر بن گئے اور یوں وہ بھی کراچی سے کٹ گئے۔ دوسرا بڑا نام عمران اسماعیل تھا جنہیں گورنر بنا کر سیاسی عمل سے دور کردیا گیا۔

ایک صاحب اور تھے جنہوں نے گٹروں پر ڈھکن لگا کر سندھ حکومت کےلیے پریشانیاں کھڑی کیں، خاصے متحرک رہے، کراچی میں مقبولیت بھی حاصل کی۔ عمران خان کی کراچی کی نشست سے دستبرداری کے بعد ضمنی الیکشن میں انہی کو ٹکٹ دیا گیا۔ اس حلقے نے عمران کی بے وفائی کو پہلی ''غلطی معاف'' کر کے عالمگیر محسود کو واضح اکثریت سے کامیاب کروادیا۔

عالمگیر محسود نوجوان ہیں، کراچی کے جغرافیہ اور طرز سیاست کو سمجھتے ہیں، سماجی کاموں کا تجربہ رکھتے ہیں، مسائل سے آگاہ ہیں اور ان کو حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں لیکن کراچی والوں کی قسمت دیکھیے کہ ایم این اے بننے کے بعد وہ کوئی ترقیاتی کام تو کیا کراتے، اب تو پہلے کی طرح ڈھکن لگانے سے بھی گئے۔

سب سے افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ 2013 سے 2018 تک پیپلز پارٹی کے تجربہ کار اراکین پارلیمنٹ کا تن تنہا مقابلہ کرنے والے خرم شیر زمان کو وفاق میں حکومت ملنے کے بعد بھلا دیا گیا اور سندھ میں اپوزیشن لیڈر کےلیے ان کے تجربے سے فائدہ اُٹھانے اور صلہ دینے کے بجائے پیراشوٹرز کو نواز دیا گیا۔ ثمر علی خان تو پہلے ہی الیکشن میں حصہ نہ لینے کا اعلان کرچکے تھے۔

کراچی میں تحریک انصاف کا انفراسٹرکچر پشاور کی بی آر ٹی ثابت ہورہا ہے۔ اب یہی دیکھیے کہ نجیب ہارون جو کراچی کے حلقے 256 سے کامیاب ہوئے تھے اور پی ٹی آئی کے بانی ارکان میں سے تھے، وہ اُن چند ہی بانی ارکان میں سے تھے جو اب بھی تحریک انصاف کا حصہ ہیں۔ نجیب ہارون نے بیس ماہ میں اپنے حلقے اور شہر میں ایک بھی کام نہ کرائے جانے پر دل برداشتہ ہوکر استعفی وزیراعظم عمران خان کو پیش کردیا۔

یہ استعفیٰ بھی اس وقت سامنے آیا ہے جب خان صاحب کا دورہ کراچی طے تھا لیکن نامعلوم وجوہ کی بنا پر اس دورے کو بھی منسوخ کردیا گیا۔ وزیراعظم کے دورہ کراچی کی منسوخی کوئی نئی بات نہیں اور کراچی کےلیے میگا پروجیکٹس تو دور، سابق حکومت کے پروجیکٹ بھی مکمل نہیں کرائے گئے۔ پی ٹی آئی کراچی کے ارکان اسمبلی کے علاوہ اتحادی جماعت ایم کیو ایم بھی اس کا برملا اظہار کرچکی ہے لیکن بقول غالب

کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں گر آجائے ہے مجھ سے
جفائیں کرکے اپنی یاد، شرما جائے ہے مجھ سے


نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔