لاہور میں ادب کا چراغاں

ایک وسیع سبزہ زار ہے۔ بوڑھے پیڑ، نوخیز پودے، سبزۂ نورستہ۔ ان سب کے درمیان سرخ اینٹوں سے بنی ہوئی عمارتیں ہیں...


Zahida Hina December 03, 2013
[email protected]

ایک وسیع سبزہ زار ہے۔ بوڑھے پیڑ، نوخیز پودے، سبزۂ نورستہ۔ ان سب کے درمیان سرخ اینٹوں سے بنی ہوئی عمارتیں ہیں، بڑے اور چھوٹے آڈیٹوریم ۔ شائقین ادب کا ایک ریلا ہے جو اپنے محبوب لکھاریوں کو سن کر اور دیکھ کر خوش ہورہا ہے ۔ ان کے ساتھ تصویریں اتار رہا ہے اور اپنے نصیبوں پر نازاں ہے۔ یہ لاہور کی آرٹس کونسل ہے جو 'الحمرا' کے نام سے مشہور ہے۔ نکیلے اور کٹیلے جملے لکھنے والے ادیب عطاء الحق قاسمی نے محفل آرائی کی روایت برقرار رکھی ہے اور چوتھی الحمرا عالمی ادبی و ثقافتی کانفرنس کا اہتمام کیا ہے۔ ملک اور بیرون ملک کے دانشوروں، ادیبوں، شاعر وں اور فنکاروں کی سبھا سجائی ہے۔

رات ہوگئی ہے۔ ہوا پیڑوں کے درمیان سرگوشیاں کرتی ہے۔ سرخ اینٹوں سے بنی ہوئی عمارتوں کی منڈیروں پر قمقمے روشن ہیں۔ ادب کا چراغاں کہیے۔ عطاء الحق قاسمی پہلے دن کی کامیاب محفلوں سے خوش ہیں اور چہک رہے ہیں، وزیراعظم کی بیرون ملک مصروفیات کی وجہ سے یہ کانفرنس ایک بار ملتوی ہوئی تھی۔ اس مرتبہ وزیر اعظم آئے اور اپنی شگفتہ باتوں سے محفل کو زعفران کر گئے۔ یہ ایک اچھی بات ہے کہ انھوں نے ادب اور سیاست کو ایک دوسرے سے آمیز کرنے کے باریک نکتے پر اصرار کیا۔ ہم جس آشوب سے گزر رہے ہیں اس میں انتہا پسندی، دہشت گردی اور سفاکی کے معاملات ادب کی رگ و پے میں بھنور ڈالتے ہیں۔ خالدہ حسین 'یاد من بیا' اور منشا یاد 'ایک سائیکلو اسٹائل وصیت نامہ'لکھتے ہیں۔ خورشید رضوی ہمارے درمیان موجود ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں :

وہ بھی ہیں بہت عقل پہ نازاں کہ جنہوں نے

خلقت پہ نئے ظلم کے انداز نکالے

میں تھکن مٹانے کے لیے سیڑھیوں پربیٹھ گئی ہوں۔ عطا یہ سنا رہے ہیں کہ گزشتہ تین مہینوں کے درمیان اس کانفرنس کی تیاریوں میں وہ اور ان کے ساتھی کن مرحلوں سے گزرے ۔ میری نگاہ کچھ فاصلے پر نصب علامہ اقبال کے مجسمے پر پڑتی ہے۔ حیرت ہے کسی 'بت شکن' کو خبر نہ ہوئی ۔ کانفرنس میں شرکت کے لیے آنے والے دانشوروں، ادیبوں اور شاعروں کی رنگین تصویروں سے الحمرا کی دیواروں کو آراستہ کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ صحافیوں، موسیقاروں اور گلوکاروں کی تصویریں بھی آویزاں ہیں۔ استاد حامد علی خان، استاد غلام حسن شگن، شوکت علی، عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی، ترنم ناز کے چہرے دیواروں کی شوبھا بڑھا رہے ہیں۔ ہماری خوش ادا رقاصہ ناہید صدیقی کا نیم رخ چہرہ بھی سرخ اینٹوں کی دیوار پرلَو دے رہا ہے۔ ہمارے یہاں رقص و موسیقی پر جو برا وقت پڑا اسے ناہید صدیقی، شیما کرمانی اور نگہت چوہدری نے کیسی استقامت سے گزارا۔ مدیحہ گوہر اس سہ روزہ کانفرنس میں ایک سامع کے طور پر آتی ہیں، اس جان عزیز نے بدترین زمانوں میںبھی مزاحمتی تھیٹر کو کس شان سے زندہ رکھا۔ غلام عباس صاحب کے افسانے 'دھنک' کو بنیاد بناکر 'موئنجودڑو ہوٹل' پیش کرنا جان ہتھیلی پر رکھنا تھا۔

عطاء الحق خوش رہیں کہ انھوں نے ادب کی اس محفل کا وہ نقشہ جمایا کہ لاہور شہر اور ارد گرد سے خلقت اس میں جوق در جوق آئی۔ کچھ اس لیے کہ بارود کی بو سے نڈھال لوگوںکے لیے یہ تازہ ہوا کا جھونکا تھا اور کچھ اس لیے کہ ان کے محبوب لکھنے والوں اور خواب دکھانے والوں کی یہ وہ محفلیں تھیں جو ان کے دلِ پُر درد پر اپنے شبنمی ہاتھ رکھتی تھیں۔ یقین دلاتی تھیں کہ یہ ہوا کے تند جھونکوں میں جلتے ہوئے چراغوں کی لو کو اپنی ہتھیلیوں کی اوٹ سے بچانے کا موسم ہے۔ ان تین دنوں کے دوران کسی بھی محفل ، مکالمے اور مباحثے میں حصہ لینے والوں کو سماعتوں کی کمی نہ تھی۔ داستان سرائی کا انداز اختیار کروں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ تِل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ ان محفل آرائیوں پر عطا الحق قاسمی، محمد علی بلوچ، ذوالفقار زلفی، صبح صادق، خرم اور دوسرے رضاکاروں کے لیے بے شمار داد و تحسین۔

انتہا پسندی اور فرقہ واریت نے روادار مسلم ثقافت کے چہرے پر جس طرح دھول اڑائی ہے اور خون کے چھینٹوں سے اسے آلودہ کردیا ہے، اس موضوع پرکلیدی مقالہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کا تھا۔ اس سے پہلے بنگلہ دیش کے ڈاکٹر عبدالواحد، ایران کے ڈاکٹر علی بیات اور مصر کے ڈاکٹر ابراہیم المصری نے اپنی بات کی۔ بنگلہ دیش سے آنے والے دانشور کی باتیں ہم میں سے اکثر کی سمجھ میں نہ آئیں۔ بنگلہ دیش میں اس وقت جماعت اسلامی پر جو آفت آئی ہوئی ہے شاید اسی سے بچنے کے لیے انھیں یہاں بھیج دیا گیا تھا۔ علی بیات اور ابراہیم المصری کی اردو سنتے ہوئے حیرت ہو رہی تھی۔ اس پہلی مجلس کے صدر وزیراعظم تھے۔ میاں صاحب کی شگفتہ بیانی کے ساتھ ہی ان کا یہ اصرار جاری رہا کہ ہمیں ہندوستان سے اپنے تعلقات بہتر کرنے چاہئیں۔ وہ اس مرتبہ بھی ویزا ریژیم سے شاکی نظر آئے۔ ان کی یہ شکایت ہمارے کچھ لوگوں کو سخت ناگوار گزرتی ہے لیکن اسے کہا کہیے کہ دہائیوں سے جاری بحران سے نکلنے کے لیے اپنے پڑوسیوں سے خوشگوار مراسم اور تجارتی روابط از حد ضروری ہیں۔

اس پہلے سیشن کے بعد آج کے زمانے میں اردو افسانے کے 5 بڑوں انتظار حسین، عبداللہ حسین، انور سجاد، خالدہ حسین اور منشا یاد کے تناظر میں گرما گرم بحث ہوئی جسے سنبھالنے کی ذمے داری ڈاکٹر آصف فرخی کی تھی۔ ان پانچ پیاروں پر گفتگو میں مسعود مفتی، ڈاکٹر سلیم اختر، مسعود اشعر، ڈاکٹر انوار احمد، شکیل عادل زادہ، مبین مرزا، نیلم احمد بشیر، ناصر عباس نیر، حمید شاہد، سعادت سعید، صنوبر ضیا اور دوسرے شریک تھے۔ یاد آیا کہ میں بھی اس میں تھی اور میں نے منشا یاد کے افسانوں کے سیاسی تناظر کا جائزہ لیا۔'تصوف، اور ہمارا ادب' پر دلچسپ گفتگو ہوئی۔ 'جمالیات کی اخلاقیات' پر ہونے والی بحث میں ذوالفقارعلی زلفی، مارجری حسین، راحت نوید مسعود اور دوسروں نے رنگ جمایا۔جمالیات کاحسین ترین رنگ ہمارا کلاسیکی رقص ہے۔ رات کی محفل میں ناہید صدیقی رنگ منچ پر کبک کی چال چلتی ہوئی آئیں تو سیکڑوں لوگ سانس روکے ہوئے ان کی نرت اور بھائو کو دیکھتے رہے۔ چہرے پر وہ کیفیت جو عبادت سے عبارت ہے۔ وہ جھونک لیتی تھیں تو بے ساختہ لبوں سے داد نکلتی تھی۔ حسینہ معین، کشور ناہید، ڈاکٹر فہمیدہ حسین اور یہ خاکسار ان کے قدموں کی ہر جنبش پر جھومتے رہے۔ وہ سلامت رہیں کہ ان کے دم سے ہمارے یہاں کتھک کی روایت زندہ ہے۔

دوسر ادن اتوار کا تھا، ہم مطمئن تھے کہ آج لوگ گھروں میں آرام کررہے ہوں گے لیکن کیا بات ہے زندہ دلان لاہور کی۔ طنز و مزاح کی محفل میں بھی لوگوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگے ہوئے تھے۔ کرسی صدارت سینیٹر پرویز رشید نے سنبھالی جو وزیر اطلاعات و نشریات بھی ہیں۔ ہمارے گزرے ہوئے بڑے مزاح نگاروں کی تحریروں کے اقتباسات، معروف براڈ کاسٹر غریدہ فاروقی کی چٹکیاں، پھر گل نوخیز اختر، اسرار ندیم، علی رضا احمد، ڈاکٹر یونس بٹ کے دلچسپ جملے لوگوں کو قہقہے لگانے پر مجبور کرتے رہے۔ ٹیکنالوجی اور فنون لطیفہ کا باہمی رشتہ وہ موضوع تھا جس کی صدارت ملک کی نام دار ڈراما نگار حسینہ معین نے کی۔ آغا ناصر، اصغر ندیم سید، ڈاکٹر قاسم بگھیو، سید نور، ڈاکٹر یونس جاوید کے علاوہ کئی دوسروں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ عثمان پیرزادہ ہماری تھیٹر کی دنیا کا اہم نام ہیں۔ انھوںنے اس صنف کے ماضی حال اور مستقبل کے حوالے سے اہم نکات اٹھائے۔ سننے والے ان کی باتوں سے خوش بھی ہوئے اور ادا س بھی۔

رات آئی تو کل پاک ہند مشاعرہ بھی ہوا۔ تیسرے دن کا آغاز شاعری میں نئی اصناف کے مستقبل پر گفتگو سے ہوا۔ جس کی صدارت کشور ناہید نے کی۔ اس محفل میں ڈاکٹر خورشید رضوی، سری نگر سے آئی ہوئی ڈاکٹر شبنم عشائی، سندھی ادبی بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر فہمیدہ حسین، پروفیسر نعمان الحق اور دوسروں نے اردو اور سندھی شاعری کے حوالے سے وہ باتیں کہیں جو سننے والوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔

ایک سیشن میں کلاسیکی اور جدید موسیقی بھی زیر بحث آئی۔ اس محفل کی میزبانی ڈاکٹر عمر عادل کررہے تھے جو علمی اور ادبی گفتگو کرنے میں طاق ہیں۔ اس محفل میں استاد حامد علی خان، غلام حسن شگن، استاد بدرالزماں اپنی مشکلیں بیان کرتے رہے۔ عقیل عباس جعفری کلاسیکی موسیقی کے مشہور گھرانوں کے بارے میں ایک کتاب مرتب کررہے ہیں۔ اس میں سے انھوں نے ایک باب سنایا اور بہت سے لوگوں کے علم میں اضافہ کیا۔

آخری اجلاس میں ہمارے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے لوگ جہاںاپنی اپنی بولی بول رہے تھے وہیں کنگ سکھ ناگ ایڈیٹر ٹائمز آف انڈیا، ہندوستان سے آئے ہوئے روزنامہ 'جدید خبر' کے مدیر معصوم مراد آبادی بھی موجود تھے۔ عطا الحق قاسمی نے جس سہ روزہ عالمی ادبی و ثقافتی کانفرنس کا اہتمام کیا تھا۔ اس کی آخری محفل موسیقی کی تھی جسے نہایت شائستہ انداز میں ریاض خان نے چلایا۔ ہم عطا صاحب کے بارے میں یہی سوچتے رہے کہ انتہا پسندی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کے اس ماحول میں انھوں نے کیا کمال محفل سجائی۔ اس نے یہ ثابت کیا کہ ہمارا عام شہری کتنا روادار ہے اور کس تحمل سے دوسروں کے خیالات سناتا ہے۔ تصوف کے رنگ میں رنگا ہوا یہ عام آدمی ہماری ثقافت کا روشن چہرہ ہے۔ اسی کی تابناکی میںہم اپنی آیندہ نسلوں کا مستقبل ڈھونڈ سکتے ہیں۔

مقبول خبریں