نصاب اور وفاق

تعلیم وفاق کا شعبہ ہونا چاہیے۔ حکومت 18ویں ترمیم میں ترمیم کرے گی۔ وزیر مملکت برائے تعلیم اور ٹریننگ نے ملک کی...


Dr Tauseef Ahmed Khan December 03, 2013
[email protected]

تعلیم وفاق کا شعبہ ہونا چاہیے۔ حکومت 18ویں ترمیم میں ترمیم کرے گی۔ وزیر مملکت برائے تعلیم اور ٹریننگ نے ملک کی سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کے اجلاس میں کہا کہ اگر کوئی صوبہ اپنا نصاب تیار کرلے تو صوبوں کے درمیان خلیج پیدا ہوگی، یوں وفاق کا گزشتہ 60 سال کا نصاب بنانے کا اختیار واپس ملنا چاہیے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کے وزیر تعلیم کے اس بیان سے واضح ہوگیا کہ اب صوبائی خودمختاری پر قدغن لگنے کا عمل شروع ہونے والا ہے۔ پاکستان میں 1947 سے 2010 تک وفاق کو اسکولوں اور کالجوں کا نصاب تیار کرنے کا اختیار حاصل رہا، اگرچہ یونیورسٹیوں کو نصاب بنانے کے لیے خودمختاری ملی مگر ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ہدایات کے تحت یونیورسٹیوں میں نصاب کا معاملہ محدود ہوا۔ اسی طرح یونیورسٹیوں کے اساتذہ اپنی آزادی کا حق مکمل طور پر استعمال نہیں کرسکے۔

وفاق کے تیار کردہ نصاب میں ایک مخصوص نظریے کو بالادستی حاصل ہوئی۔ ملک کی تاریخ کا آدھا دور فوجی حکومتوں میں گزرا۔ یہ فوجی حکومتیں آمرانہ نظریات کی ترویج کو اپنی بقاء جانتی تھیں اور فوجی حکومتوں کے سرکردہ افسروں کا تعلق ملک کے مخصوص علاقوں سے ہوتا تھا۔ یوں اردو،اسلامیات، سماجی علوم وغیرہ میں جمہوریت کی اہمیت اور جمہوری اداروں کی بالادستی کے تصورکو نظرانداز کیا گیا۔ ایسا مواد نصاب کی کتابوں میں شامل کیا گیا جس کے تحت شخصی حکومتوں کے لیے جواز فراہم کرنا تھا۔ پھر انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنے والے اکابرین کو تاریخ کی کتابوں سے نکال دیا گیا۔

آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے رہنمائوں عبدالغفار خان، جی ایم سید، عبدالصمد اچکزئی سمیت بہت سے رہنماؤں کی جدوجہد سے کئی نسلیں واقف ہی نہیں ہوسکیں۔ ممتاز محقق ڈاکٹر مبارک علی کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ برا سلوک قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ ہوا۔ قائد اعظم کی زندگی کا ایک بڑا حصہ انسانی حقوق کی بالادستی،خواتین کے مردوں کے مساوی حقوق اور آزادئ صحافت کے تحفظ کی جدوجہد میں گزرا مگر پہلی جماعت سے ایم اے کی سطح تک سماجی علوم، تاریخ اور مطالعہ پاکستان کی کتابوں میں قائد اعظم کے بارے میں شامل مضامین میں ان کی اس جدوجہد کا ذکر تک نہیں ملتا۔ نہ قائداعظم اور ان کی اہلیہ رتن جناح کی لبرل زندگی کے بارے میں کوئی مواد ملتا ہے۔

قائداعظم کے بعض کانگریسی رہنماؤں سے ذاتی تعلقات تھے۔ وہ ذاتی طور پر مہاتما گاندھی اور پنڈت جواہر لعل نہروکا احترام کرتے تھے۔ جب گاندھی کا قتل ہوا تو قائد اعظم نے قومی سوگ کا اعلان کیا اور سوگ میں ایک دن کی تعطیل کا اعلان کیا۔ مگر نصاب میں جناح صاحب کی اس رواداری کی روایت نئی نسل کو منتقل ہوتی نظر نہیں آتی۔

1947سے 1977تک سائنسی مضامین کا معیاربہتر تھا،ان مضامین کے نصاب میں کسی قسم کی آمیزش نہیں کی گئی تھی مگر جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں ایک منصوبے کے تحت سائنس کے مضامین کومذہبی رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ تمام سائنسی مضامین میں قرآنی آیات شامل کی گئیں اور سائنسی نظریات کو مذہبی رنگ دے کر نوجوانوں کے ذہنوں کو رجعت پسندانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ خاص طور پر میڈیکل سائنس میں انسانی ارتقاء سے متعلق نظریات کو مسخ کیا گیا۔ ڈارون کے نظریے کو سائنسی بنیادوں پر رد کرنے کے بجائے جنون پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ پھر اردو، اسلامیات اور سماجی علوم میں پڑوسی ممالک اور مختلف مذاہب کے خلاف نفرت آمیز مواد شامل کیا گیا۔ ایک محقق ڈاکٹرریاض شیخ کا کہنا ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں یونیورسٹیوں کی اسلامیات کی فیکلٹی میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر مضامین پڑھائے جانے لگے۔

اس نصاب میں مشرقی پاکستان، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختون خواہ کی ثقافت اور ادب کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔ 1988سے 1999تک جب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی حکومتیں رہیں تو نصاب میں تبدیلی کے لیے کوششیں شروع ہوئیں ، مگر نظریہ پاکستان کے مجاوروں نے واویلا کرنا شروع کردیا۔ بے نظیر بھٹو حکومت پر ملک دشمنی کے الزامات لگائے گئے۔ نصاب کی خرابیوں کی نشاندہی کرنے والے اکابرین ڈاکٹر مبارک علی پر روزگار کے دورازے بند کردیے گئے۔ڈاکٹر پرویز ہود بھائی اور ڈاکٹر نیرجیسے اساتذہ زیرِعتاب آگئے۔ جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں نائن الیون کی دہشت گردی کے اسباب پر بحث شروع ہوئی تو عالمی سطح پر یہ بات سامنے آئی کہ مدرسوں ،اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھائے جانے والا نصاب نوجوانوں میں جنون پید اکررہا ہے اور نوجوان دہشت گردی کی طرف مائل ہورہے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر نیر،ڈاکٹر رقیہ سہگل اور محقق احمد سلیم نے مختلف جماعتوں میں پڑھائے جانے والے نصاب کے بارے میں ایک جامع رپورٹ تیار کی۔ اس رپورٹ کے مندرجات سے اندازہ ہوا کہ نوجوانوں کے ذہنوں کو آلودہ کرنے کے لیے اس نصاب میں کیا پڑھایا جارہا ہے مگر پھر نصاب میں تبدیلی کی کوششوں کے خلاف مزاحمت ہونے لگی۔

سب سے زیادہ مزاحمت پنجاب میں ہوئی۔ وفاقی وزارت تعلیم نصاب کے بیورو کو جو افسران چلاتے تھے وہ ایک مخصوص مذہبی جماعت کے نظریے کی پیداوار تھے، پھرعسکری مقتدرہ سے انھیں قوت حاصل ہوتی تھی۔ یوں وفاق کی سطح پر کوئی زیادہ تبدیلی نہیں ہوئی مگر جب صوبوں کو تعلیم کا شعبہ مکمل طور پر منتقل ہوا تو سندھ، بلوچستان اور پختونخوا میں نصاب کی تبدیلی کے لیے خاطرخواہ کام ہوا۔ پنجاب میں مخصوص ذہنوں نے اس کوشش کو ناکام کردیا۔ پنجاب میں یونیورسٹی کی سطح پر اردو کا ایک معیاری نصاب تیار ہوا تھا مگر ایک بڑے میڈیا گروپ کے مصلح صحافی نے ایک رپورٹ شایع کی۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے یکطرفہ طور پر اس نصاب کو منسوخ کردیا۔ دو ماہ قبل ایک نجی یونیورسٹی نے مذاہب کا تقابلی جائزہ کے عنوان سے ایک نیا مضمون شروع کیا۔ ایک چینل کے اینکرپرسن اس مضمون کو سمجھ نہیں پائے، پھر شہباز شریف نے یکطرفہ طور پر اس مضمون کے پڑھانے پر پابندی عائد کردی۔ تعلیم کو وفاق کو منتقل کرنے کا مقصد پھر نصاب کو رجعت پسند بنانے اور صوبوں کی ثقافت کو نصاب میں شامل ہونے سے روکنا ہے۔ یہ صورتحال وفاقیت کے اصولوں کے منافی ہوگی۔

کامران ندیم ایک معروف شاعر ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ ترقی پسند نظریے کی ترویج کی ہے۔ کامران کا سفری مجموعہ 'وحشت ہی سہی' اس سال کے شروع میں شایع ہوا۔ کامران ندیم کے مطابق''شاعری ایسا ہنر ہے جسے حاصل کرنے میں عمریں بیت جاتی ہیں مگر پھر بھی اس کا ہنرمند مطمئن نہیں ہوتا۔ ایسے ہنرکار تو مطمئن ہو ہی نہیں سکتے جو بہت سارا علم رکھنے کے باوجود یہ کہتے ہوں کہ ابھی بہت کچھ کرنا ہے، یا ابھی تک کچھ بھی نہیں کر پائے۔ اصل میں ایسے ہی لوگ بہت کچھ کرتے ہیں اور کمال کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جو بہت بولتے ہیں ان کا اندر خالی ہوتا ہے مگر میں اس بات کی مخالفت کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ جن کے اندر کچھ ہوتا ہے وہی بولتے ہیں ۔ اس لیے کہ بولنے کے لیے کچھ سمجھنا اور اندر کی دنیا کا بھرا بھرا ہونا بھی تو ضروری ہے۔

اگر ایسانہ ہو تو ہم کسی دلیل کے بغیرہی بولتے چلے جائیں گے اور اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ جو لوگ علم کے حصول کو ڈگریوں کا مرہونِ منت سمجھتے ہیں وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ بغیر کچھ پڑے لکھے اگر ایک گاؤں سے شہر، شہر سے صوبے، صوبے سے ملک اور ملک سے کئی ملکوں کا سفر کیا جائے تو یہ سلسلہ بھی ڈگریاں عطا کردیتا ہے جن میں معلومات کے ایسے خزانے چھپے ہوتے ہیں جو کئی کتابوں پر بھاری ہوتے ہیں اور اگر ا س کے ساتھ کتابی علم بھی شامل ہوجائے تو یہ سونے پہ سہاگا ہوگا۔ حصولِ علم کی خواہش جب کتابوں سے نکل کر تہذیب و تمدن کی گھاٹیوں میں سفر کرتی ہے تو اس کی راہ میں پڑنے والا ہر قدم کئی کوس پر محیط ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اس سفر میں مختلف زبانوں کا گیان بھی شامل ہوجاتا ہے اورشور مچاتا علم کا سمندر کئی کوس دور سے ہی ہمیں نظر آنے لگتا ہے۔ وحشت ہی سہی شاعری کا ایک ایسا مجموعہ ہے جس کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں قدم قدم پر مختلف تہذیبوں کی رنگارنگی کے ساتھ کئی زبانوں کی چاشنی بھی ملتی ہے اور اساطیر کے دھند لکے میں چھپے ایسے مناظر بھی دکھائی دیتے ہیں جن کی کوکھ سے کوئی تہذیبوں نے جنم لے کر دنیا کی خوبصورتی میں رنگ برنگے پھولوں کی طرح اضافہ کیا۔ اس کتاب میں بکھری ہوئی میر کی سادی، بلھے شاہ کا نعرئہ مستانہ، کبیر داس کی حکمت اور میرابائی کا ہجر ہمیں اپنی بانہوں میں جکڑ لیتا ہے اور تنہائی سے ابھرے اشعار کا مفہوم شوکمار بٹالوی کی طرح یہ کہتا نظر آتا ہے:

کنی بیتی تے کنی باقی اے

مینوں ایہو حساب لے بیٹھا

اس کتاب کو معروف اشاعتی ادارے 'سانجھ ' لاہور نے 46/2 مزنگ روڈ سے شایع کیا ہے اور اس کی قیمت 200 روپے رکھی گئی ہے۔