شاہ صاحب عوام بھی ہاتھ جوڑے آپ سے کچھ التجائیں کررہے ہیں

ہمیں وہی کراچی لوٹا دیجیے جو آپ کی جماعت کو 2008 میں دیا گیا تھا، ہم کراچی والے اسی پر قناعت کرلیں گے


شاہد انیق April 27, 2020
ہمیں وہی کراچی لوٹا دیجیے جو آپ کی جماعت کو 2008 میں دیا گیا تھا، ہم کراچی والے اسی پر قناعت کرلیں گے۔ (فوٹو: فائل)

اب سے کچھ روز قبل وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے روہانسے ہوتے ہوئے، ہاتھ جوڑ کر کورونا وائرس پر سیاست نہ کرنے کی التجا کی تھی، شاہ جی کورونا وائرس وبا پر امید کے برعکس قابو نہ پانے پر بھی کافی دل گرفتہ نظر آئے اور عوام کی جانب سے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزیوں کے باعث بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔

مراد علی شاہ کی آواز میں چھپا ہوا درد ہر وہ شخص سمجھ سکتا ہے جو یہ جانتا ہے کہ اس مہلک وائرس نے وزیراعلیٰ کے بہنوئی کی جان لی یعنی مراد علی شاہ اس مہلک وائرس کی تباہ کاریوں کے عینی شاہد بھی ہیں اور ان کے خاندان نے اس بیماری کے کرب کو قریب سے دیکھا بھی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جب وفاق تذبذب کا شکار تھا اور دیگر صوبے تیار نہیں تھے، سب سے پہلے پاکستان میں کورونا وائرس وبا سے نمٹنے کےلیے فوری اور اولین اقدامات سندھ نے کیے۔ بروقت اسکول بند کیے، تفتان سے آنے والے زائرین کےلیے سکھر میں ایک سرکاری عمارت کو قرنطینہ مرکز بنایا، مختلف اسپتالوں میں کورونا وارڈز کا انتظام کروایا، لاک ڈاؤن بھی سب سے پہلے سندھ میں ہوا۔ چین سے میڈیکل کٹس، ماسک اور دیگر حفاظتی سامان کی کھیپ بھی سب سے پہلے سندھ آئی۔ سندھ نے ہی سب سے پہلے ٹیسٹ کا آغاز کیا اور عالمی ادارہ صحت نے بھی کوورنا پروٹوکول کو سب سے زیادہ فالو کرنے والوں میں سندھ حکومت کا نام لیا۔

کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورت حال میں سندھ اپنے اقدامات سے بازی لے گیا۔ صاف نظر آرہا تھا کہ بقیہ تینوں صوبے بھی سندھ کی تقلید کر رہے ہیں اور تذبذب کا شکار وفاق بھی اختلاف کے بعد وہی قدم اُٹھاتا جو سندھ حکومت کرچکی ہوتی ہے۔ گویا وائرس کا مقابلہ کرنے والی ٹرین کا انجن وفاق نہیں، سندھ بنا۔ لیکن کیا سندھ حکومت کے اقدامات کے ثمرات عوام تک پہنچے؟ اور یہ اقدامات زمین پر وجود بھی رکھتے ہیں؟ بد قسمتی سے اس کا جواب نفی میں ہے۔ اب یہ احسن اقدامات کیوں بدانتظامی اور بیڈ گورننس کی نذر ہوگئے؟ یہ جاننے کےلیے ماضی کے اوراق الٹتے ہیں۔

آج سے بارہ سال قبل جب پیپلز پارٹی نے ملک میں چوتھی بار حکومت سنبھالی تو صدر مملکت کےلیے ناقابل یقین طور پر آصف زرداری کے نام قرعہ فال نکلا۔ یوسف رضا گیلانی وزیراعظم بنے اور سندھ کے باگ دوڑ بزرگ ترین رہنما سید قائم علی شاہ کے کمزور و ناتواں کاندھوں پر (محاورۃً نہیں، حقیقتاً) آن پڑی۔ ملک کی صدارت، وفاق اور سندھ میں حکومت ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی نے ملک کے ساتھ جو کیا سو کیا، لیکن اہل کراچی ہونے کے ناتے جو ہم نے کراچی میں دیکھا وہ نہایت تکلیف دہ ہے۔ سوتیلی ماں کا ظلم تو یوں ہی بدنام ہے۔

پیپلز پارٹی کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے حلف اُٹھایا تو اس وقت کراچی میں نعمت اللہ خان اور مصطفیٰ کمال کراچی میں کئی پروجیکٹس پر کام کرچکے تھے، قلیل وقت میں شہر بھر میں تین سگنل فری کوریڈور بن چکے تھے، پانی کا بحران ختم کرنے کےلیے کے 3 تعمیر ہوچکا تھا اور کے 4 کا پی سی ون مکمل ہوگیا تھی۔ لوڈ شیڈنگ میں پانی کی سپلائی جاری رہے اس کےلیے ہر پمپنگ اسٹیشن پر جنریٹر نصب ہوچکے تھے۔

عباسی شہید اسپتال میں اسٹیٹ آف دی آرٹ جدید ٹراما سینٹر بن گیا تھا۔ نیوکراچی، لیاقت آباد، سعود آباد، کورنگی اور قطر اسپتال (اورنگی ٹاؤن) میں بھی ٹراما سینٹر بن چکے تھے۔ دل کا ایک اسپتال فیڈرل بی ایریا میں مریضوں کو مفت علاج اور دوا فرہم کررہا تھا جبکہ شاہ فیصل، لانڈھی اور ملیر میں اس اسپتال کے ایمرجنسی سینٹرز قائم ہوچکے تھے۔ کراچی میں سب سے کم خرچ ایکو، اینجیوگرافی اور دل کے آپریشن اسی اسپتال میں ہوتے تھے۔

کیا شاندار وقت تھا کہ اہل کراچی کو باوقار، سستی اور آرام دہ گرین بس سروس حاصل تھی، کراچی کے باسیوں کو اس سے بہتر سواری کسی حکومت نے فراہم نہیں کی تھی۔ ہر ٹاؤن میں ایک پارک، منی زو اور واٹر پارک بنائے گئے۔ تعلیمی باغ اور سفاری پارک کو نئی زندگی دی گئی اور سڑکوں کا جال پورے شہر میں بچھا دیا گیا۔ سندھ حکومت کو 2008 میں جہیز میں جو کراچی ملا وہ ایسا ہی تھا۔

پی پی نے سندھ کی حکومت سنبھالتے ہی گرین بسیں ڈپو پر کھڑے کھڑے اسکریپ میں تبدیل ہوگئیں، عباسی اسپتال کا ٹراما سینٹر خود ٹراما میں چلا گیا، دل کے اسپتال میں پہلے دوا ملنا بند ہوئی، پھر سستا علاج مفقود ہوا اور ایمرجنسی اسپتالوں میں کام ٹھپ ہو گیا۔ کے 4 تاحال نہیں بن سکا۔ شاہراہ فیصل، شاہراہ قائدین اور یونیورسٹی روڈ بنے لیکن معیار نہایت پست رکھا گیا۔ سندھ حکومت کے بنائے گئے واٹر پمپ اور عائشہ منزل پلوں پر جلد گڑھے پڑ گئے، ان کے مقابلے میں مشرف دور میں بنے پل تاحال درست حالت میں ہیں۔

آٹھویں ترمیم کے بعد صحت صوبائی معاملہ ہوگیا تو سندھ حکومت نے قومی ادارہ برائے امراض قلب کو اسٹیٹ آف دی آرٹ اسپتال بنادیا جہاں دواؤں سے علاج تک مفت سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ جناح اسپتال کی کارکردگی بھی بہتر ہوگئی، قومی ادارہ برائے امراض اطفال میں علاج کا معیار پرائیوٹ اسپتال جیسا ہوگیا، سول اسپتال میں بہترین ٹراما سینٹر بن گیا اور جگہ جگہ امراض قلب کے ایمرجنسی سینٹر بنادیئے گئے ہیں لیکن ان قومی اداروں سے بہتر کارکردگی دکھانے والے کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیزز کو نظر انداز کیا گیا۔

اپنے دوسرے دور حکومت میں کراچی کے ضلع وسطی میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچ کر ''کراچی چلڈرن ہاسپٹل'' کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ پاکستان کا پہلا صوبائی اسپتال تھا جو امراض اطفال کےلیے مخصوص تھا۔ لیکن آپ خود جاکر دیکھ لیجیے کہ قومی ادارہ برائے امراض اطفال اور کراچی چلڈرن ہاسپٹل میں کیا فرق ہے، حالانکہ دونوں ہی اب سندھ حکومت کے زیر انتظام ہیں۔ یعنی جن اسپتالوں کے نام کے ساتھ ''کراچی'' تھا انہیں نظر انداز کردیا گیا اور وفاق کے اسپتالوں کو ''بے نظیر'' بنادیا گیا۔

کراچی دشمنی کی یہ اکلوتی مثالیں نہیں۔ سندھ حکومت نے 2008 میں ہی کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو سندھ کنٹرول بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی بنایا اور کراچی کی زمینوں کی قسمت قادر میمن پر چھوڑ دی جو اب ملک سے فرار ہیں اور نیب کو مطلوب ہیں۔ کے ڈی اے کو ہتھیالیا گیا، ایم ڈی اے پر پہلے ہی قبضہ تھا اور ایل ڈی اے تو تھی ہی پیپلز پارٹی کی۔ اب دیکھیے کب ان سب کو ضم کرکے سندھ ڈیولپمنٹ اتھارٹی بنادی جاتی ہے۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو بھی پرائیویٹ کرنے کی باتیں ہورہی ہیں۔ کے ای ایس سی پہلے ہی فروخت ہوچکا ہے۔

چلیے! آپ شہنشاہِ سندھ ہیں، جس ادارے کو چاہیں اپنے کنٹرول میں لے لیجیے اور جو نام چاہیں رکھ دیجیے لیکن حضور والا، کچھ کام بھی تو کرکے دکھائیے! اور جو تھوڑا بہت کرتے بھی ہیں، اس کے ثمرات عوام تک کیوں نہیں پہنچتے؟ اس کی بنیادی وجہ تو کرپشن ہے لیکن اس کے علاوہ اور بھی عوامل ہیں۔

سابق صدر آصف زرداری نے 18 ویں ترمیم کے ذریعے اپنے اختیارات وزیراعظم کو اور وفاق نے صوبوں کو منتقل کردیئے لیکن افسوس کہ سندھ حکومت نے بلدیاتی اداروں تک اختیارات منتقل نہیں کیے۔ ''طاقت کا سرچشمہ عوام'' کی دعویدار پی پی، ضلعی حکومتوں کو کمشنر اور ایڈمنسٹریٹر کے ذریعے چلا رہی ہے۔

صوبائی حکومتوں کی کار کردگی کا اصل چہرہ ان کے دارالحکومت ہوتے ہیں۔ پنجاب نے ہمیشہ اپنے دارالحکومت پر توجہ دی اور لاہور کو ترقی یافتہ شہر بنادیا۔ دارالحکومت میں کام ہوا ہو تو حکومت کی نیک نامی میں اضافہ ہوجاتا ہے، میڈیا کوریج بھی ملتی ہے جو کراچی کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے پی پی حکومت کو نہیں ملی۔ کراچی دشمنی، کمشنری نظام اور نااہل سیاسی بھرتیوں سے پیپلز پارٹی کے دور میں جو تھوڑے بہت کام بھی ہوئے وہ بھی بیڈ گورننس کی نذر ہوگئے۔

جب اداروں میں سیاسی بھرتیاں کی گئی ہوں، اختیارات کا کُل مالک کشمنری نظام کو بنادیا گیا ہو تو اربوں روپے کا راشن ایسے تقسیم ہوگا کہ دایاں ہاتھ دے گا تو بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہوگی۔ البتہ جب راشن لینے والے زائد المیعاد اشیاء ملنے پر چراغ پا ہوں گے تو اصلیت کھل ہی جائے گی۔ لاک ڈاؤن کی ناکامی کی ذمہ دار عوام نہیں بلکہ یہی نااہل بھرتیاں اور عوامی نمائندوں کے بجائے بیوروکریٹس پر اعتماد کرنا ہے۔ آپ کی نیت پر شک نہیں آپ کی کارکردگی پر اعتراض ہے۔

شاہ جی! آپ منتخب بھلے ہی کہیں اور سے ہوئے ہوں، پلے بڑھے کراچی میں، این ای ڈی سے تعلیم حاصل کی، رہائش کراچی میں ہے۔ جان کی امان چاہوں تو عرض کروں کہ کیا کراچی اور کراچی کے نام سے موسوم اداروں کی تباہی پر بھی کبھی آنکھ نم ہوئی ہے؟ مجھے یقین ہے کہ ہوئی ہوگی۔ لیکن بصد معذرت کہ آپ کی حکومت کی کارکردگی سے ایسا لگتا نہیں۔

تو شاہ جی! آنسو پونچھ لیجیے اور اس شہر کے باسیوں کو کم از کم وہی کراچی لوٹا دیجیے جو آپ کی جماعت کو 2008 میں دیا گیا تھا، ہم کراچی والے اس پر بھی قناعت کرلیں گے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔