فٹبال ورلڈکپ برازیل میں بدامنی اور جرائم نے سیکیورٹی خدشات بڑھادیے

مظاہرین سے نمٹنے کیلیے پولیس کی صلاحیتیں بڑھانے کی کوشش، عوام سے مہمانوں کے ساتھ اچھے سلوک کی اپیل


Sports Desk/AFP December 04, 2013
مظاہرین نے ورلڈ کپ اور2016 ریو سمر اولمپکس کے انعقاد پر غیر معمولی اخراجات پر بھی احتجاج کیا تھا۔ فوٹو:فائل

برازیل میں بدامنی اور جرائم نے ورلڈ کپ کے لیے سیکیورٹی خدشات بڑھا دیے، دوسری جانب مقامی آرگنائزنگ کمیٹی کے سربراہ نے عوام سے مہمانوں کے ساتھ اچھے سلوک کی اپیل کردی ہے۔

حکام مظاہرین سے نمٹنے کیلیے پولیس کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے کوشاں ہیں، آمدورفت کا واحد ذریعہ فضائی سفر نامناسب ایئر پورٹس، ڈومیسٹک روٹس میں کمی اور تکلیف دہ سرخ فیتے کی وجہ سے رکاوٹ کا شکار ہے۔ تفصیلات کے مطابق ورلڈ کپ کے انعقاد میں صرف6 ماہ رہ گئے لیکن مظاہروں اور دوبارہ سر اٹھانے والے جرائم نے سیکیورٹی خدشات پیدا کردیے ہیں۔ حکومت نے 1950 کے بعد سے پہلی مرتبہ برازیل میں ہونے والے میگا ایونٹ کے ہزاروں مہمانوں کو سیکیورٹی کی ضمانت دینے کیلیے کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھا،ورلڈ کپ کی آرگنائزنگ کمیٹی کے سربراہ ریکارڈو ٹریڈ نے اس سلسلے میں عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ''آپ کو جائز مطالبات پر مظاہروں کا حق حاصل لیکن یاد رکھیں ہم ایک ایسا ایونٹ منعقد کرنے جارہے ہیں جو ملک کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے مہمانوں کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھیں''۔

گذشتہ برس فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی فیفا نے ایک مستحکم منصوبہ بنایا تھا جس میں مظاہروں کے اہم راستوں، عوامی اور سرکاری سیکیورٹی فرمزکے مابین ہم آہنگی اور منظم جرائم ، دہشت گرد حملوں اور فٹبال میں گڑبڑ کا تجزیہ کیا گیا تھا۔ اس پر جون میں کنفیڈریشنز کپ کے دوران بطورآئندہ برس کے ورلڈ کپ کی ریہرسل عمل کیا گیا تھا، حکام نے جون کی سماجی بدامنی پر کوئی پیش بندی نہیں کی جب ایک ملین سے زائد برازیلین عوام نے پبلک ٹرانسپورٹ ، صحت اور تعلیم پر مزید رقوم خرچ کرنے کے لیے ملک گیر مظاہرے کیے تھے۔ مظاہرین نے ورلڈ کپ اور2016 ریو سمر اولمپکس کے انعقاد پر غیر معمولی اخراجات پر بھی احتجاج کیا تھا۔



گذشتہ اکتوبر میں حکومت نے مظاہرین سے نمٹنے کے لیے ایک انٹیلیجنس ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان کیا، حکام نے پولیس کی صلاحیتوں میں اضافے کی کوششیں بھی تیز کردی ہیں۔ ہنگاموں پر قابو پانے والے فرنچ پولیس افسران برازیلین ساتھیوں کے ساتھ معلومات کے تبادلے کے لیے ریو بھیجے گئے ہیں۔اس وقت تک شہر کی 750 آبادیوں میں 36 پولیس یونٹس قائم کردیے گئے اور آئندہ برس 12 ہزار 500 پولیس افسران اس قسم کی 40 یونٹس میں تعینات کردیے جائیں گے۔ علاوہ ازیں براعظم سائز والے اس ملک میں فضائی سفر آمد ورفت کا واحد ذریعہ ہے جو نامناسب ایئرپورٹس ، ڈومیسٹک روٹس میں کمی اور تکلیف دہ سرخ فیتے کی وجہ سے رکاوٹ کا شکار ہے۔ اس کے ساتھ ہی زمینی سفر انتہائی تکلیف دہ ہے، جہاں ناکافی پبلک ٹرانسپورٹ ، تنگ اور غیر معیاری شاہراہیں اور کوئی متبادل ٹرین سروس موجود نہیں ہے۔

آرگنائزرز 12 جون سے 13 جولائی تک ہونے والے ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے آنے والے6لاکھ غیر ملکی مہمانوں اور 30 لاکھ مقامی افراد کیلیے جدید ایئر پورٹس اور بہتر فضائی سروس کیلیے حتی المقدور کوشش کررہے ہیں ۔ جون میں کنفیڈریشنز کپ کے دوران تین فیصد سے کم غیر ملکی افراد نے سفر کیا جبکہ ڈومیسٹک ٹریفک معمول کے مطابق رہا تھا،اس کے باوجود جہاز مکمل طور پر بھرے اور ایئرپورٹ ٹرمینلز پر لمبی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملی تھیں۔ تمام 12 میزبان شہروں میں 4 جی سیلولر سسٹم کے اضافے کی کوششوں کے باوجود ٹورنامنٹ کے دوران ایک اور بڑا مسئلہ ٹیلی کمیونیکیشن کا شعبہ ہوگا۔