مقبوضہ کشمیر بھارتی فوج کا 3 مجاہدین شہید کرنے کا دعویٰ

کپواڑہ کی راجوار بستی میں رات بھر فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا، صبح3 جلی ہوئی لاشیں ملیں


News Agencies December 04, 2013
تینوں کا تعلق لشکر طیبہ سے تھاسرحد پار سے آئے، آپریشن کے دوران 3 کلاشنکوف رائفلیں اور 10دستی بم بھی برآمد ہوئے، پولیس سربراہ۔فوٹو:فائل

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے 3 مجاہدین کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تازہ تصادم شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کی راجوار بستی میں ہوا۔

عینی شاہدین کے مطابق کشمیر پولیس اور بھارتی فوج نے راجوار میں ایک رہائشی مکان کا محاصرہ کیا جسکے بعد رات بھر وقفے وقفے سے فائرنگ ہوتی رہی۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ رات بھر تصادم جاری رہا اور منگل کی صبح مذکورہ مکان سے 3 جھلسی ہوئی لاشیں ملی ہیں۔ پولیس کے بقول تینوں عسکریت پسند پاکستانی باشندے ہیں اور ان کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے۔ راجوار کے ایک نوجوان بلال احمد نے بتایا کہ رات بھر محاصرہ جاری تھا، وقفے وقفے سے فائرنگ بھی ہوتی رہی، رات کو ہم نے دیکھا کہ جس مکان میں عسکریت پسند تھے اس میں آگ لگی ہوئی ہے۔ پورا مکان خاکستر ہو گیا تھا، صبح 3 جھلسی ہوئی لاشیں نکالی گئیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ آپریشن کے دوران 3 کلاشنکوف رائفلیں اور 10دستی بم بھی برآمد کیے گئے۔ اس سے قبل پیر کے روز وسطی کشمیر کے چاڈورہ قصبے میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس کے ایک گشتی دستے پر فائرنگ کی تھی جس میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا تھا۔



کشمیر پولیس کے سربراہ اشوک پر ساد نے نئی دہلی کا دورہ مختصر کرکے چاڈورہ کا دورہ کیا۔ان کا کہنا ہے کہ کشمیر میں فی الوقت ایسے مسلح عسکریت پسند سرگرم ہیں جو حالیہ دنوں میں لائن آف کنٹرول عبور کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ مسٹر پرساد کا کہنا ہے کہ کشمیر میں 80 سے زائد عسکریت پسند ہیں جو مختلف اضلاع میں سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں۔ ادھر مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ نے نریندر مودی کے مسئلہ کشمیر بارے بیانات کو یکسر مسترد کر تے ہو ئے مودی کو انسانیت اور جمہوریت کا بدترین دشمن قراردیا ہے ۔ شبیر احمد شاہ نے سرینگر میں جاری ایک بیان میںکہا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قرارداددوں پر عمل درآمد یا پاکستان ، بھارت اور کشمیر ی قیادت پر مشتمل سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ انھوںنے کشمیریوں پر زوردیا کہ وہ آئندہ نام نہاد انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کریں۔