سائنس قرآن کے مخالف نہیں ہے حصہ سوئم

مسلمانوں نے بڑے بڑے سائنس دان پیدا کیے ہیں اور یورپ کی نشاۃ ثانیہ میں مسلمان سائنس دانوں ہی کا حصہ ہے


Saad Ulllah Jaan Baraq September 05, 2012
[email protected]

بے چارا گلیلیو سچا تھا لیکن پھر بھی کلیسائی کا دباؤ اتنا تھا کہ اسے ''توبہ'' کرنے پر ہی نجات ملی ،کچھ ایسی ہی صورت حال سے آج ہم بھی گزر رہے ہیں۔

مذہب کا نام لے کر لاعلمی، بے علمی اور بے عملی کا ایک ایسا ماحول ہمارے اردگرد پھیلایا گیا ہے کہ ہم معمولی سائنسی حقائق پر بھی بات نہیں کر سکتے، حد یہ ہے کہ وقت کی اہم ترین اور مفید ترین ایجادات استعمال کرتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں' خواتین بے شک بیماریوں اور درد و تکالیف سے تڑپ تڑپ کر مر جائیں لیکن مرد ڈاکٹر سے عورت کا علاج کرانا کفر کے مترادف ہے ۔

آپ ثابت شدہ حقائق کی روشنی میں بھی ''آسمان'' پر بات نہیں کر سکتے بلکہ صرف سائنس کا نام ہی کفرکا دوسرا نام ہے، حالانکہ دوسری طرف ہم یہ فخر بھی کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے بڑے بڑے سائنس دان پیدا کیے ہیں اور یورپ کی نشاۃ ثانیہ میں مسلمان سائنس دانوں ہی کا حصہ ہے لیکن یہ جس ''ماحول'' اور عقائد و نظریات کے گورکھ دھندے کا ہم ذکر کر رہے ہیں اور جن کی بنیادیں اسرائیلی، عیسائی اور مجوسی اساطیر پر ہیں اصل میں مذہب ہے ہی نہیں،

خصوصاً اسلام کی جب ہم بات کریں گے تو زبانی کلامی اور یہاں وہاں کی بے بنیاد اور غیر مستند ذرایع کو یکسر نظر انداز کر کے صرف قرآن کی روشنی میں بات کریں گے کیونکہ یہی وہ واحد ذریعہ ہے جس کے بارے میں مخالف بھی مانتے ہیں کہ انسانی دستبرد سے بچا ہوا ہے، غیر مسلم بھی اس سے انکار نہیں کرتے کہ یہ وہی کلام ہے جو آج سے لگ بھگ پندرہ صدیاں پہلے جناب محمد ﷺ نے دنیا کو دیا تھا اور اس میں کسی لفظ تو کیا حرف تک کی تبدیلی نہیں ہوئی ہے،

چنانچہ ہم اگر سائنس کے مستند علم پر بات کریں گے تو اس کے مقابل صرف قرآن ہی کو رکھیں گے اور قرآن کو صحیح طور پر سمجھنے اور اس پر غور و تدبر کرنے والے جانتے ہیں کہ سائنس اور قرآن کے نظریات میں کوئی بُعد یا تضاد نہیں ہے بلکہ ایک حد تک تو سائنس اور طبیعیات کے علماء مذہب کا نام نہ لیتے ہوئے بھی قرآنی نظریات کی تصدیق کر دیتے ہیں، یہ بات میں نے اپنی کتاب وحدت الوجود اور بگ بینگ میں تفصیل سے لکھی ہے کہ بگ بینگ کا نظریہ، آئزک نیوٹن کا نظریہ کشش ثقل اور چارلس ڈارون کا نظریہ ارتقاء قرآنی بیانات پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے،

بگ بینگ کا نظریہ وہی ہے جسے قرآن نے ''کُن فیکون'' کے الفاظ سے واضح کیا ہے، چاند ستاروں اور کائنات کے سلسلے میں ''میزان'' حسبان اور یسبحون کے الفاظ انتہائی اہم ہیں، کُن فیکون کے سلسلے میں لکھا ہے کہ اس کا مطلب ایک بٹن آن کرنے کا سا ہے ''کُن'' کے ساتھ ایک بٹن آن ہو گیا اور یہ پوری کائنات فیکون کے راستے پر چل پڑی۔ اب بھی نئی نئی پیدائشیں اور تخلیقات چل رہی ہیں، یہ پورا کارخانہ جس میں آیندہ پیدا ہونے والا سب کچھ یا اس کے اسباب موجود تھے ''کن'' کے ساتھ فیکون ہو گیا اور ''بگ بینگ'' کے اولین لمحے کو ہم ''کن'' کہہ سکتے ہیں،

وہ ایک ذرہ تھا جو پھٹا لیکن اس میں یہ سب کچھ تھا جو بعد میں سولہ ارب سال سے اب تک وقوع پذیر ہوتا رہا ہے۔ ایک پیڑ ایک انسان ایک بیچ منصہ شہود پر تو اب آتا ہے لیکن اس کی بنیادیں بگ بینگ کے اس ذرے میں ہی موجود تھیں، یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی انجینئر ایک کارخانہ بناتا ہے، اس میں سارے کل پرزے اپنے مخصوص کام کے لیے لگے ہوتے ہیں اور جب ''آن'' کرنے کا بٹن دبا دیا جاتا ہے تو ہر کل پرزہ اپنی اپنی استعداد کے مطابق چل پڑتا ہے، اسی طرح آئزک نیوٹن نے جب سیب کے گرنے سے کشش ثقل کا نظریہ اخذ کیا تو اس سے بہت پہلے رب جلیل نے کہا تھا کہ

''نہ سورج کے لیے ممکن ہے کہ چاند سے آگے نکل جائے اور نہ رات کے لیے دن سے آگے بڑھنا ممکن ہے، اور یہ سب ''فلک'' میں ''تیر'' رہے ہیں (یٰسین)''

اس وقت کے انسان کے لیے فلک میں تیرنے سے زیادہ بلیغ بات اور کوئی نہیں ہو سکتی تھی، پھر کہا گیا ہے کہ

''وہی ہے جس نے آسمانوں کو رفعت دی اور حسبان و میزان قائم کیا (الرحمٰن)''

حسبان، میزان اور یسبحون تین الفاظ میں آئزک نیوٹن کا نظریہ کشش و ثقل مکمل طور پر موجود ہے۔ نظریہ کشش و ثقل کے مطابق خلا میں ہر سیارہ ستارہ اپنی مخصوص کمیت اور وزن کے مطابق ایک دوسرے کو کھینچ رہے ہیں۔ سورج زمین کو کھینچ رہا ہے، سورج کو کہکشاں کھینچ رہی ہے لیکن سورج کی کشش زیادہ ہے کیونکہ وہ قریب ہے لیکن زمین اس سے ٹکراتی اس لیے نہیں ہے کہ ادھر دوسرے ستارے بھی اسے اپنی طرف کھینچ رہے ہیں، وہ سورج سے بہت بڑے اور زیادہ کشش والے ہیں لیکن دور ہیں،

اس لیے چاروں بلکہ شش جہات سے اس ''کشش'' نے زمین کو ایک مدار پر قائم رکھا ہے، اسے ہم توازن اور میزان کے سوا اور کیا نام دے سکتے ہیں جس کے نتیجے میں ایک طرف جانے کے بجائے ''تیر'' رہی ہے اور کشش و ثقل کا یہ نظام پوری کائنات میں جاری و ساری ہے۔ انتہائی باریک ''حسبان'' کے ساتھ ''توازن'' کا نتیجہ ''تیرنا'' ہے، چارلس ڈارون کے نظریہ ارتقاء کا بیان بھی قرآن میں موجود ہے۔ مطلب کہنے کا یہ ہے کہ ہم مذہب کے نام پر ادھر ادھر کے اساطیری عقائد کے بجائے اگر قرآن سے رجوع کریں تو سائنس اور مذہب میں کوئی تضاد یا بُعد نہیں ہے،

سچ تو یہ ہے کہ انسان کی ہستی اور اس کا علم کائنات کے مقابل کچھ بھی نہیں ہے تو اس کائنات کے خالق کا کیا احاطہ کر سکے گا، ذرا انسان اور کائنات کے بارے میں چند حقائق جان لیجیے، اس موجودہ کائنات کی کل عمر سولہ ارب سال بتائی جاتی ہے جب بے حد و بے کراں خلا میں ایک ذرہ پھٹا تھا اور اس کائنات یا زمان و مکان کی ابتداء ہوئی تب سے اب تک یہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے اور جب دھماکے کا فورس ختم ہو جائے تو پھر سکڑنا شروع ہو جائے گی گویا فی الحال انتشار یا تصوف کی زبان میں ''فصل'' کی حالت ہے،

پھر ارتکاز ہو گا جسے ہم ''وصل'' کہہ سکتے ہیں کیونکہ یہ سب کچھ سمٹتے سمٹتے آخر کار اسی ذرے میں مرتکز ہو جائے گا جو بگ بینگ کے وقت پھٹا تھا پھر جب سمٹاؤ یا ارتکاز کا عمل آخری حد کو پہنچے گا تو پھر دھماکا ہو گا اور پھر ایک نئی کائنات اور نیا زماں و مکان اسی طرح منصہ شہود پر آ جائے گا، لیکن سائنس ابھی تک یہ معلوم نہیں کر پائی کہ دھماکوں یا انتشار و ارتکاز کا یہ سلسلہ کب سے چل رہا ہے اور کب تک جاری رہے گا یعنی جس کائنات یا زمان و مکان میں ہم اس وقت موجود ہیں یہ نہ پہلا ہے اور نہ آخری ہے نہ جانے اس سے پہلے کتنے دھماکے ہو چکے ہوں گے ،

کتنی کائناتیں بنی ہوں گی اور مٹی ہوں گی اور نہ ہی کوئی یہ کہہ سکتا تھا کہ آیندہ کتنی ہوں گی گویا یہ سرا بھی نامعلوم اور وہ سرا بھی نامعلوم، اب ایک اور جہت سے دیکھئے اور یہ کوئی تخیلاتی باتیں نہیں ہیں بلکہ سائنس اور طبیعیات نے اپنے مخصوص حساب کتاب سے معلوم کی ہوئی ہیں، ہم جس زمین پر رہ رہے ہیں وہ ہمارے نظام شمسی کا ایک رکن ہے لیکن اس نظام شمسی جیسے اور نظام ہائے شمسی لگ بھگ سو ارب کی تعداد میں صرف ہماری اس سامنے والی دودھیا کہکشاں کا حصہ ہیں پھر کائنات میں ایسی کہکشاؤں کی تعداد بھی لگ بھگ سو ارب ہے گویا اس کائنات میں سو ارب x سو ارب زمینیں اور بھی ہو سکتی ہیں اور ان میں ہماری ہی جیسی مخلوقات ہو سکتی ہیں۔

لیکن بات ابھی ختم کہاں ہوئی ہے (جاری ہے)