لاک ڈاؤن میں نرمی کا صائب فیصلہ

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات ان تک پہنچانا ہیں


Editorial May 06, 2020
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات ان تک پہنچانا ہیں

حکومت نے لاک ڈاؤن میں بتدریج نرمی کا فیصلہ کرلیا۔وزیراعظم عمران خان نے پی ٹی آئی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے ویڈیو لنک اجلاس سے خطاب میں کہا کہ زمینی حقائق، معاشی حالات اور عام آدمی کے مسائل مدنظر رکھتے ہوئے آنے والے دنوں میں لاک ڈاؤن میں بتدریج نرمی کا فیصلہ کیا ہے، ہر شعبے کے لیے جامع ایس او پیز تیار کیے جا چکے، جن پر عمل درآمد کے لیے منتخب نمائندگان کردار ادا کریں، یہ وقت اختلافات بھلا کر عوامی خدمت کا تقاضا کرتا ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات ان تک پہنچانا ہیں، انتظامیہ کے ساتھ ملکر قیمتوں پر نظر رکھیں، مساجد میں ایس او پیز پر عملدرآمد کرائیں، مجھے معلوم ہے ہر کوئی اپنی استعداد میں کام کررہا ہے، اتحاد اور نظم وضبط کے ساتھ کورونا وائرس کا کامیابی سے مقابلہ کریں گے۔ مشکل حالات میں سوا کھرب روپے کے معاشی پیکیج کا اعلان کیا، ایک کروڑ20 لاکھ مستحق خاندانوں کو12 ہزار روپے کی فراہمی شفافیت اور میرٹ پر یقینی بنائی جا رہی ہے، نمائندگان یقینی بنائیں کہ ان کے حلقے میں تمام مستحقین اس پیکیج سے مستفید ہوسکیں۔ اجلاس میں وفاقی وزراء خسرو بختیار، حماد اظہر، شبلی فراز، فخر امام، اسد عمر، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، معاون خصوصی لیفٹیننٹ جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ، ڈاکٹر ظفر مرزا، معید یوسف اور چیئرمین این ڈی ایم اے شریک ہوئے اور اقدامات پر بریفنگ دی۔

یہ انتہائی خوش آئند پیش رفت ہے کہ حکومت نے لاک ڈاؤن میں بتدرریج نرمی لانے کا فیصلہ کرلیا ہے، بادی النظر میں بلاشبہ اس فیصلے کو بعد از خرابیٔ بسیار ہی کے تناظر میں دیکھا جائیگا کیونکہ سندھ حکومت اور وفاق کے درمیان فکری اور انتظامی ہم آہنگی کے فقدان نے کورونا کے کیس کو بگاڑا اوراس کے خاتمہ کی کوششوں کو انتشار، ٹکراؤ اور بیان بازی سے اس قدر پیچیدہ تناؤ اور کشیدگی کا شکار کیا کہ سندھ سمیت تمام صوبے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے لاک ڈاؤن کی یکساں پالیسی پر کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچ سکے، ہر صوبہ نے اپنی ڈفلی اپنا راگ چھیڑا، کہیں دکانیں بند تھیں تو کہیں تاجر سڑکوں پر نکلنے کو بیتاب تھے۔

سندھ حکومت اور وفاق کے مابین لاک ڈاؤن پر سمجھوتہ نہ ہوسکا بلکہ ایک ''ٹوٹل شو ڈاؤن'' تھا جو عوام کے اعصاب اور ان کی جذباتی زندگی میں ہلچل مچائے ہوئے تھا، یہ صورتحال معاشرتی اور معاشی اعتبار سے اذیت ناک تھی، لوگ جاننا چاہتے تھے کہ حکومت لاک ڈاؤن سے کیا نتائج حاصل کرنا چاہتی ہے، عوام کو امید بھی تھی کہ حکومت ان کے لیے امدادی پیکیج کا اعلان کریگی، ایسے پیکیجز کے اعلانات بھی ہوئے مگر عملی طور پر کوئی ریلیف عوام کو ان کی دہلیز پر نہیں ملی، احساس پروگرام بھی محدود اثرات کا حامل رہا کیونکہ ملک کے کروڑوں عوام ایک ہمہ گیر ریلیف پیکیج کے منتظر ہیں۔

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان مکمل لاک ڈاؤن نہ کرنے پر ثابت قدمی سے جمے ہوئے تھے تو دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی اپنی تلوار نیام سے باہر نکال کر اعلان کرتے رہے کہ سندھ میں لاک ڈاؤن ہوکر رہیگا، صوبائی اور وفاقی بیانیے کے اس گہرے تضاد نے کورونا کے کنٹرول کی کوششوں کو نقصان پہنچایا، طبی ادارے اور عالمی تنظیموں کے لیے بھی پیغام شفافیت سے خالی تھا، عالمی ادارہ صحت کے لیے فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ درست سمت میں کون ہے؟ دونوں طرف سے کوئی ایسی متفقہ، موثر، زود اثر اور نتیجہ خیز پالیسی تشکیل دیے جانے کا امکان نظر نہیںآتا تھا،لہٰذا وزیر اعظم کے اس فیصلے کو تازہ ہوا کا ایک جھونکا کہا جاسکتا ہے کہ لاک ڈاؤن میں بتدریج نرمی لائی جارہی ہے، اب سندھ حکومت کو مثبت پیش رفت کے ساتھ کورونا کے خاتمہ کی حکمت عملی کو تصادم سے دور رکھنا ہوگا۔ سیاسی دور اندیشی اور ملک کوصحت کا بہترین نظام دینے اور کورونا سے نجات پانے کے لیے سیاست دانوں کو ہوش مندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

وزیرِاعظم نے ارکان اسمبلی کو کورونا ریلیف ٹائیگر فورس کی نگرانی کی ذمے داری سونپتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں زندگی کے ہر شعبے کے افراد نے اس میں شمولیت اختیار کی، جس کے لیے قواعد و ضوابط بنائے جا چکے، یہ فورس نہ صرف عوام کو ریلیف کی فراہمی میں انتظامیہ کی مدد کرے گی بلکہ حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد میں معاونت اور یوٹیلیٹی اسٹورز پر اشیائے ضروریہ کی صورتحال سے انتظامیہ کو آگاہ رکھے گی۔

اس سلسلے میں سیالکوٹ میں آزمائشی منصوبہ کامیابی سے مکمل کیا جا چکا۔ وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کورونا وائرس کی صورتحال اور روک تھام پر بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے کورونا ریلیف ٹائیگر فورس سے خطاب میں کہا بعض شرائط کے ساتھ لاک ڈاؤن بتدریج کھولا جائے گا کیونکہ ہمیں عوام کو کورونا سے بھی بچانا ہے جب کہ بیروزگاری اور بھوک کے ہاتھوں مرنے سے بھی بچانا ہے، مشکل وقت میں ٹائیگر فورس کا کردار اہم ہے، یہ ایس او پیز پر عملدرآمد، عوام میں آگاہی اور حکومتی پالیسیوں کے نفاذ میں ضلعی انتظامیہ کی معاونت کرے گی۔ انھوں نے کہا ٹائیگر فورس کے قیام کا فیصلہ میں نے کیا کیونکہ ہمارے سامنے بڑا چیلنج ہے، عالمی وبا پھوٹ پڑی ہے، جس کے باعث پوری دنیا ایسے اقدامات کر رہی ہے جو گزشتہ سو برسوں میں نہیں کیے گئے، اس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کرنا پڑاجس سے دیہاڑی دار، چھابڑی فروش، تنخواہ دار سمیت بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے، ملک پہلے ہی مشکل میں تھا، یہ مسئلہ اور بھی زیادہ سنگین ہے۔

وزیر اعظم نے خود کو رجسٹرڈ کرانے والے رضاکاروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ان کی سب سے زیادہ ضرورت لاک ڈاؤن کھولتے وقت ہے تاکہ جن شرائط کے تحت یہ کھولا جائے، اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے تاکہ ملک مشکل صورتحال سے نکلے، کورونا سے بچاؤ ممکن ہو اور روزگار بھی چلتا رہے۔ وزیر اعظم نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ ٹائیگر فورس سے فائدہ اٹھائیں، اسے ساتھ لے کر چلیں اور بہترین طریقے سے کام لیں۔ معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار، وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا، یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے چیئرمین ذوالقرنین علی خان نے وزیر اعظم کو اقدامات سے آگاہ کیا۔

سپریم کورٹ میں کورونا وائرس از خود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینج نے کی، چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کورونا کیس میں عوام کے خلاف سازش ہو رہی ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یکساں پالیسی بنائی جائے، انھوں نے کہا کہ بظاہر سب کام کاغذوں میں ہورہا ہے، بیرونی امداد کیسے خرچ ہوئی؟ کورونا کے اربوں کے اخراجات کا آڈٹ ہوگا تو اصل بات سامنے آئیگی، سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ چند نہیں بلکہ جامع پالیسی کے بعد تمام فیکٹریوں کو کھولا جانا چاہیے، عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ حکومتوں میں عدم تعاون کی وجہ غرور اور انا ہے، اور جو زکوٰۃ و صدقے کا پیسہ کھا جائیں ان سے کیا توقع۔ عدلیہ کے یہ ریمارکس چشم کشا ہونے کے علاوہ ہمارے اجتماعی ضمیر پر بھی ایک سوالیہ نشان ہیں، ہمیں من حیث القوم ذہنی دیوالیہ پن کے گرداب سے بھی نکلنا ہوگا، لاک ڈاؤن نے قوم کو ایک عظیم فرسٹریشن کا شکار بنا دیا ہے، یہ کڑوا سچ ہے اور ارباب اختیار کو اسے تسلیم کرنا ہوگا۔

کورونا وائرس سے متاثرہ یورپی ملکوں نے معاشی بحالی کا آغاز کیا ہے، غیر ملکی خبر رساں ادارہ رائٹر کے مطابق گرتی معیشتوں کو سنبھالنے کے لیے یورپ محتاط طریقے سے لاک ڈاؤن سے نکل آیا، اٹلی میں شروع ہونے والے لاک ڈاؤن سے زندگی معمول پر آنے لگی ہے، اٹلی کے شہر میلان میں مزدوروں نے تعمیراتی کام سنبھال لیے اور 44 لاکھ ہنر مندوں نے اپنے پیشے کا رخ کیا، روم میں بھی مزدوروں میں جوش وخروش ہے، ایک جفت ساز نے کہا کہ لاک ڈاؤن ہٹنے سے آزادی کا احساس ہونے لگا ہے، آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں اسکول کھل گئے، میوزیم، بار اور دیگر مقامات کو دیکھ بھال سے کھولا جارہا ہے، یورپی ملکوں کا کہنا ہے کہ ایک خوفناک خاموشی سے جان چھوٹی ہے، یورپین طبی سینٹرکی سربراہ اینڈریا ایمون نے یورپی پارلیمان کو بتایا کہ کورونا وائرس کے عروج کا زمانہ گزرگیا۔

میلان جو اٹلی کا معاشی گڑھ اور فیشن کا مرکز سمجھا جاتا ہے ایک بار نئی رونقوں کے ساتھ زندگی کے دھارے میں شامل ہورہا ہے، اب یہی یورپی لہر ملکی معیشت اور کاروباری وتعمیراتی سیکٹر میں عود کر آنی چاہیے، مگر احتیاط کے ساتھ، حکومت نرمی اور اسمارٹ لاک ڈاؤن کے ساتھ ہی ایس او پیز پر عمل کرانے میں کوتاہی کے ذمے داروں کا احتساب کرے، عوام،تاجر برادری اور سول سوسائٹی کو بھی کورونا کے اسٹرائیک بیک کرنے سے روکنا ایک اہم ٹاسک ہے، طبی دنیا کورونا سے بچنے کے لیے جن اقدامات اور احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا رہنے کی ضرورت پر زور دے رہی ہے اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

کورونا رخصت نہیں ہوا،اس کی شدت اور مئی میں تباہ کاریاں پھیلانے کی پیشگوئیاں دم توڑ رہی ہیں، حکومت کے بقول اس کے اقدامات کے باعث کورونا کے اثرات کم ہونا شروع ہوگئے ہیں مگر سماجی فاصلہ برقرار نہیں رکھا گیا، لوگ خوب گھل مل گئے، اور ''یاراں نال بہاراں'' کا منظرنامہ سجایا گیا تو خدا نہ کرے کورونا پلٹ کر دوباہ وار کرسکتا ہے، یہ بات عوام الناس کو ذہن نشین کرانا ہوگی۔

مقبول خبریں