کورونا کے خلاف جنگ میں سیاسی اتحاد کی ضرورت

ملک میں کورونا وائرس کے باعث نافذ لاک ڈاؤن آج ہفتہ نو مئی سے مرحلہ وارکھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔


Editorial May 09, 2020
ملک میں کورونا وائرس کے باعث نافذ لاک ڈاؤن آج ہفتہ نو مئی سے مرحلہ وارکھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ فوٹو: فائل

ملک میں کورونا وائرس کے باعث نافذ لاک ڈاؤن آج ہفتہ نو مئی سے مرحلہ وارکھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بلاشبہ اس فیصلے کو درست سمت میں پہلا قدم قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ فیصلہ ہماری سیاسی قیادت نے وزیر اعظم کی زیرصدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا، جس میں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی شریک ہوئے۔ لاک ڈاؤن میں نرمی جہاں وزیراعظم کی ذاتی خواہش تھی، وہیں یہ عوام کا پرزورمطالبہ بھی تھا۔

اجلاس کے بعد وزیراعظم نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا '' اگرچہ پاکستان میں کورونا سے ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں لیکن لوگ بہت مشکل میں ہیں، غریب اور دیہاڑی دار طبقہ شدید پریشانی کا شکار ہے، ہمارا ٹیکس 35فیصد کم ہوچکا ہے اور برآمدات کم ہوگئی ہیں۔ جیسی تباہی دیگر ممالک میں مچی اللہ نے پاکستان کو محفوظ رکھا ہے'' ۔

بحیثیت وزیراعظم پاکستان انھوں نے اپنا حق ادا کردیا، انھیں روز اول سے غریب اورمحنت کش طبقے کی مشکلات کا اندازہ تھا اور تقریباً روزانہ وہ اس بارے میں برملا اپنی رائے کا اظہار بھی کر رہے تھے۔

لاک ڈاؤن مرحلہ وارکھولنے کا اعلان خوشخبری سے عبارت ہے، لیکن اب تمام تر ذمے داری عوام پر عائد ہوتی ہے کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ احتیاط برتیں، حفاظتی تدابیرکوکسی طور پر نظرانداز نہ کریں ، خدانخواستہ کورونا کے کیسز میں اضافہ ہوا توملک پھر سے بندکرنا،حکومت کی مجبوری ہوگی۔ گو لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا گیا ہے، لیکن پبلک ٹرانسپورٹ نہ کھولنے کا فیصلہ برقرار رکھا گیا ہے ،کیونکہ اس پر صوبوںکو خدشات تھے،لیکن یہاں پر ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک جانب تو حکومت بتدریج صنعتوں کوکھول رہی ہے، لاک ڈاؤن سخت سے نرم ہونے جارہا ہے، لیکن پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی سے عوامی مشکلات میں کوئی کمی نظر نہیں آرہی ہے۔

احتیاطی تدابیر کے ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ جب تک قصبوں اورشہروں کے اندر رواں دواں نہیں ہوگی، اس وقت تک ملک کے کروڑوں مزدور روزگار پر نہیں پہنچ پائیں گے۔ اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ حقیقی معنوں میں وزیراعظم کے وژن کے مطابق ملکی صنعتوں کا پہیہ چلے اور ملکی معیشت کو سہارا ملے، یہی وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فرازکا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کھولنے کی کامیابی میں عوام کا تعاون درکار ہے کیونکہ طویل المیعاد لاک ڈاؤن چھوٹے کاروبار کرنے والوں کے روزگارکو ہمیشہ کے لیے ٹھپ کردیتا ہے۔ بلاشبہ انتہائی صائب فیصلے کو فائدہ مند بنانے کی ذمے داری عوام پر ہے کہ وہ احتیاط کا دامن کسی طورپر نہ چھوڑیں، صبروتحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا رہیں، تاکہ جلد ازجلد ملک بھر سے مکمل طور پر لاک ڈاؤن کا خاتمہ ہو اور جلد اچھے دن لوٹ آئیں۔

دوسری جانب پاکستان کو تیل اور گیس کے شعبے میں ماہ اپریل کے دوران 51 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ گزشتہ ماہ طلب میں کمی کے باعث سوئی سدرن گیس کمپنی نے 9 ارب 40کروڑ روپے جب کہ سوئی ناردن گیس پائپ لائن کمپنی نے 12 ارب 90 کروڑ روپے نقصان ظاہرکیا ہے، جب کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو 9 ارب روپے اور ایل پی جی انڈسٹری کو 7کروڑ روپے نقصان اٹھانا پڑا ہے۔یہ اعداد وشمار ثابت کرتے ہیں کہ ملکی معیشت کوکس قدر نقصان پہنچ رہا ہے اور اس کا ازالہ کرنا اتنا سہل نہیں ہوگا۔

وزیر تعلیم شفقت محمود نے بتایا کہ تمام تعلیمی اداروں کی تعطیلات میں 15 جولائی تک توسیع کردی گئی اور میٹرک و انٹر سمیت تمام امتحانات کو منسوخ کرتے ہوئے، پچھلے سال کے امتحانات کے نتائج کی روشنی میں طلبہ کو اگلی کلاس میں ترقی دینے کا فیصلہ کیا جائے گا، یونیورسٹیز میں داخلے گیارہویں جماعت کے نتائج پر ملیں گے۔ ایک عالمی وبا کی وجہ سے ہمارا تعلیم نظام تقریباً جام ہوکر رہ گیا ہے،اس فیصلے سے امید کی ایک نئی کرن پیدا ہوئی ہے۔

حکومت پاکستان کو عام آدمی کی مشکلات کا اندازہ ہے، اسی لیے احساس پروگرام شروع کیا گیا ، جسے ملکی اور عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ، اس کی مقبولیت کا عملی ثبوت یہ ہے کہ پاکستان میں امریکا کے سفیر پال جونز نے وفاقی حکومت کے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے لیے50 لاکھ ڈالرز کی امدادکا اعلان کیا ہے، ایک ویڈیو پیغام میں امریکی سفیر نے غذا کی کمی کے شکار پاکستانی بچوں کی غذائی ضروریات پورا کرنے کے لیے علیحدہ سے25 لاکھ ڈالرز کا اعلان بھی کیا ہے، مشکل اورکٹھن وقت میں امریکی امداد قابل ستائش اقدام ہے۔

اس پروگرام اور امداد کے تحت 70 ہزار مستحق خاندانوں کے لیے خوراک اور اشیائے ضرورت کی خریداری کے لیے اضافی مدد میسر آئے گی۔ ہنگامی آپریشن کے صوبائی مراکز کو جدید سہولتوں کی فراہمی کی جائے گی۔شعبہ صحت کے کارکنوں کو مریضوں کا علاج گھر پر کرنے کی تربیت دی جا رہی اور امریکا کی جانب سے موبائل لیب بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ اس امدادکی شفاف طریقے سے متعلقہ شعبوں میں تقسیم ہونی چاہیے تاکہ عوام کو اس کا حقیقی معنوں میں فائدہ پہنچے۔

سندھ میں یہ وبا تیزی سے پھیلی رہی ہے، جس سے نرسنگ اور پیرامیڈیکل عملہ خوف کا شکار ہے ، لہٰذا کورونا وائرس کے خلاف جنگ کے محاذ پر فرنٹ لائن پر لڑنے والی نرسوں اور دیگر عملے کی کورونا وائرس اسکریننگ کے عمل کو یقینی بنایا جائے تاکہ قوم کے یہ محافظ ورکرز خود بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کی قیمتی جانیں بھی بچاسکیں۔اس وقت سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں نرسوں کی ایک ہزار اسامیاں خالی پڑی ہیں ۔

دوسری جانب سرکاری اسپتالوں میں کووڈ19 کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر اسپتالوں میں نرسوں کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے غریب مریض بھی شدید متاثر ہورہے ہیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی معیدیوسف نے کہا کہ ہم بیرون ملک سے پاکستانیوں کو محفوظ طریقے سے واپس لائیں گے، جب سے آپریشنز شروع کیے 20ہزار پاکستانی واپس لاچکے ہیں، اس ہفتے اور اگلے ہفتے مزید ساڑھے 7 ہزار لوگ واپس لارہے ہیں۔ بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کی واپسی ایک مستحسن قدم ہے،اس پر عمل جاری رہنا چاہیے۔

طبی حوالے سے یہ خبر انتہائی خوش آیند ہے کہ قومی ادارہ برائے امراض خون (این آئی بی ڈی) کا جناح اسپتال کراچی سے معاہدہ ہوا ہے، جس کے مطابق زیر علاج کورونا مریضوں کو پلازمہ دیا جائے گا۔ اس حوالے سے سربراہ این آئی بی ڈی ڈاکٹر طاہر شمسی نے بتایا کہ سندھ میں اب تک 2مریضوں کو پلازمہ لگایا جاچکا ہے۔ اب یہ صحت مند ہونیوالے افراد پر ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خود رضاکارانہ طور پر اپنا پلازمہ دیں، تاکہ تشویشناک حال میں مبتلا مریضوں کی جان بچائی جاسکے۔

ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کورونا چین سے پہلے ہی دنیا میں پھیل چکا تھا۔ لندن کالج یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ وائرس بدل رہا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ بدترین ہوتا جارہا ہے۔ڈاکٹر یویس کوہن کا کہنا تھا کہ انھوں نے اور ان کی ٹیم کے دیگر ارکان نے 2 مختلف اسپتالوں میں 24 ایسے مریضوں کا معائنہ کیا جن میں ایسی علامات تھیں جنھیں بعد میں کورونا کی علامات کہا گیا۔

مارچ کے اختتام پر میلان یونیورسٹی کے وبائی امراض کے ماہر پروفیسر ایڈریانو ڈیسرلی نے کہا تھا کہ اٹلی کے خطے لمبارڈی اور میلان کے اسپتالوں میں نمونیا اور فلوکے شکار افراد میں نمایاں اضافہ گزشتہ سال اکتوبر سے دسمبرکے دوران دیکھا گیا تھا۔ یہ توآنیوالا وقت بتائے گا کہ اس رپورٹ کے مندرجات کس حد تک درست ہیں، بہرحال اس عالمی وبا سے نجات میں ہی عالم انسانیت کی بقا ہے۔

دوسری جانب لاک ڈاؤن میں نرمی کے حوالے سے کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ اپنے بزرگوں کی صحت کے لیے احتیاطی تدابیر اختیارکریں، باہر نکلنے والے افراد ماسک ضرورپہنیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ صوبے میں پچھلے 24گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 5 ہزار 532 ٹیسٹ کیے گئے ہیں، ہماری صلاحیت 5 ہزار 600 ٹیسٹوں کی ہے ہم نے 98 فیصد صلاحیت کو استعمال کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت آئیسولیشن میں کام نہیں کر رہی، کچھ چیزیں ہمیں وفاق کی پسند نہیں،کچھ چیزیں انھیں ہماری پسند نہیں، لیکن ہم مل کرکام کررہے ہیں۔ اس ساری صورتحال کے تناظر میں ہم ان سطور میں اتنا عرض کریں گے کہ وفاق اور سندھ کے درمیان ایک تناؤ کی کیفیت ہے ، لاک ڈاؤن کے حوالے سے دونوں کی آراء بھی مختلف ہیں۔ اختلاف رائے ہونا کوئی انوکھی یا انہونی بات نہیں۔ دراصل اس حقیقت کا ادراک ہماری قومی سیاسی جماعتوں کوکرنا چاہیے کہ ہم اس وقت کورونا وائرس کے خلاف ایک جنگ میں مصروف ہیں۔

یہ جنگ باہمی اتحاد واتفاق کے ذریعے ہی جیتی جاسکتی ہے، ہم تاریخ کے ایک نازک موڑ پرکھڑے ہیں۔ خدانخواستہ ، ہم نے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور باہمی نااتفاقی کے عمل کو جاری رکھا توہمارے قومی مستقبل پر ایک سوالیہ نشان لگ جائے اور صورتحال قابو سے باہر ہوجائے گی، ہماری سیاسی قیادت کو فہم وفراست کا ثبوت دیتے ہوئے افہام وتفہیم کی راہ اپنانی چاہیے کیونکہ کورونا وائرس سے نمٹنا مشترکہ قومی مسئلہ ہے، ہمیں متحد ہو کر اس کا مقابلہ کرنا ہے۔

مقبول خبریں