سیاحتی معاہدے میں پاکستان کی جانب سے رکاوٹ ہے بھارتی ہائی کمشنر

بھارت نے ٹورآپریٹرز کی فہرست دیدی، پاکستان فراہم کردے تومعاہدے پر عمل شروع ہوسکتاہے،پانی چوری کررہے۔۔۔، ڈاکٹر راگھون


Business Reporter December 05, 2013
کشمیرودیگر مسئلے تجارت کو فروغ دے کر حل کیے جاسکتے ہیں، کھوکھرا پار مونا باؤ سے ٹریڈ، بھارت کو پاکستانی برآمدات بڑھانا چاہتے ہیں، کراچی چیمبر سے خطاب۔ فوٹو : پی پی آئی

بھارت پر پانی چوری کا الزام غلط فہمی پرمبنی ہے، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی جارہی، کشمیر سمیت تمام اہم مسئلے باہمی تجارت کو فروغ دے کر حل کیے جاسکتے ہیں۔

یہ بات پاکستان میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر ڈاکٹر ٹی سی اے راگھون نے بدھ کو کراچی چیمبر آف کامرس میں تاجروں وصنعت کاروں سے خطاب کے دوران کہی، اس موقع پر کراچی چیمبر کے صدر عبداللہ ذکی، سابق صدور سراج قاسم تیلی، انجم نثار، اے کیوخلیل نے بھی خطاب کیا جبکہ سینئرنائب صدر مفسر عطا ملک، نائب صدرادریس میمن، سابق صدور ہارون اگر،ہارون باڑی، جنید ماکڈا اور شمیم فرپو بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاک بھارت سیاحتی معاہدے میں پاکستان کی جانب سے رکاوٹ ہے، بھارت نے اپنے ٹور آپریٹرز کی فہرست پاکستان کو فراہم کردی ہے، اب پاکستان بھی اپنے سیاحتی آپریٹرز کی فہرست فراہم کردے تو معاہدے پر فی الفور عمل درآمد شروع ہو سکتا ہے، سال 2012 میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے اور تجارت کے فروغ کیلیے روڈ میپ مرتب کیا گیا تھا جس پراب سرگرمیاں بڑھانے کا وقت آ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات کو بہتر ہونے سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کا حجم ڈھائی ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو ریکارڈ ہے جبکہ پاکستان سے بھی پہلی بار بھارت کے لیے برآمدات کا حجم 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ جائے گا، مسئلہ کشمیرہو، دہشت گردی یا پھر امن وامان کا مسئلہ بھارت کواس بات پر یقین ہے کہ بات چیت کے ذریعے ہی تمام مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے، پانی کا مسئلہ حساس ہے جسے مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات سے گریز کرنے کی ضرورت ہے جس سے باہمی تعلقات میں تناؤ پیدا ہو۔ انھوں نے کہا کہ کسٹمز، دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ چینلز کا قیام اور تجارتی راہداریوں میں وسعت پر عملی اقدامات کیے جائیں گے جس سے خطے میں خوشحالی آئے گی۔ بھارتی ہائی کمشنر نے کہا کہ دونوں ممالک کا مستقبل روشن ہے لیکن اگر مسائل میں اسی طرح الجھتے رہے تو پھرعوام ترقی نہیں کرپائیں گے، تجارتی روابط مضبوط ہونے سے سیاسی ڈائیلاگ کا اونٹ بھی کسی نہ کسی کروٹ بیٹھ جائے گا۔



انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک کے درمیان بہت سے تنازعات تھے لیکن انہوں نے بات چیت کے ذریعے اپنے تنازعات کو نہ صرف ختم کیا بلکہ اب ان کے درمیان ایک ہی کرنسی میں تجارت پھل پھول رہی ہے، اسی طرح پاکستان اور بھارت بھی ڈائیلاگ کے ذریعے اپنے مسائل کو دور کریں، اہم مسائل پر سنجیدہ اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے، ہماری منزل دور ضرور ہے لیکن دشوار نہیں ہے۔ بھارتی ہائی کمشنر نے کہا کہ میڈیا بعض اوقات ایسے ایشوزکو اجاگر کردیتا ہے جو غیر ضروری ہوتے ہین اور جن سے دونوں ممالک کے مابین تناؤ بڑھتاہے، میڈیا کو مثبت کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ پاک بھارت تعلقات میں کسی بھی سطح پر ''یوٹرن'' نہ آسکے۔

ڈاکٹر ٹی سی اے راگھون نے کہا کہ کوشش ہے کہ کھوکھراپار اور موناباؤ راستہ تجارت کیلیے بھی کھول دیا جائے، پاک بھارت تعلقات میں بہتری کا سفر طویل ہے، ہم نے کافی سفر طے بھی کرلیا ہے، دوطرفہ تجارت ڈھائی ارب ڈالر کے قریب ہے اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ باہمی تجارت میں پاکستان کا حصہ بڑھے، سال کے اختتام تک باہمی تجارت میں ڈیڑھ ارب ڈالر تک کا اضافہ متوقع ہے، بھارت پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر بہتر تعلقات کا خواہاں ہے۔ بھارتی ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان کے عمر رسیدہ شہریوں کو پولیس انکوائری ودیگر مسائل میں الجھے بغیر پرسکون طریقے سے بھارت کا ویزا دیا جارہا ہے، پاکستانی تاجراورعام افراد بھارت کے 5 سے 6 شہروں کا ویزا بھی حاصل کرسکتے ہیں لیکن انہیں ویزے کی درخواست میں تمام معلومات کا اندراج کرنا ہوگا۔